المیہ جمعرات
 

221

طلحہ وزبیر کی مخالفت کی وجہ
طلحہ وزبیر کی مخالفت کی وجوہ بھی چشم تاریخ سے مخفی نہیں ہیں ۔طلحہ وزبیر دونوں خلافت کے امید وار تھے اور چند دن پہلے ہی حضرت عمر نے ان دونوں کو شوری میں شامل کیا تھا ۔ لیکن شوری کے ذریعہ سے انہیں خلافت نہیں ملی تھی اور حضرت عثمان خلیفہ عثمان خلیفہ بن گئے تھے ۔ ان دونوں نے حضرت عثمان کی خلامت کے اوائل میں ان سے خوب مفادات حاصل کئے ۔
اور جب ان دونوں نے دیکھا کہ اب ہوا کا رخ بدل چکا ہے تو انہوں نے بھی اپنا رخ ہوا کی جانب کرلیا ۔ اور ان کا خیال یہ تھا کہ اگر ہم نے حضرت عثمان کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو ان کے بعد خلافت ہمیں نصیب ہوگی ۔لیکن
اے بسا آرزو کہ خاک شد
حضرت عثمان کے قتل کے بعد انہیں کسی نے خلافت کے قابل نہ سمجھا ،خلافت کی مسند پہ حضرت علی فائز ہوگئے ۔
یہ دیکھ کر ان کے غصّہ کی کوئی انتہا نہ رہی اور پھر انہوں نے نے اپنی سابقہ روش اپنائی ۔حضرت علی سے کوفہ اور بصرہ کی حکومت کا مطالبہ کیا جسے حضرت علی نے مسترد کردیا ۔
علاوہ ازیں حضرت علی (ع) کی مالی پالیسی خلفائے ثلاثہ سے بالکل جدا گانہ تھی ۔علی کسی کی شخصیت سے کبھی مرعوب نہیں ہوتے تھے ۔اور مشہور شخصیات کو جاگیر یں دے کر اپنے ساتھ ملانے پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔ جب کہ یہ دونوں بزرگوار بڑی بڑی جاگیریں حاصل کرنے کے عادی ہوچکے تھے ۔
عثمانی دور میں ان دونوں نے بیت المال سے جو حصہ لیا تھا ۔ اس کی

222
تفصیل آپ سابقہ اوراق میں پڑھ چکے ہیں ۔
عہد شیخین میں انہوں نے کیا کچھ حاصل کیا ؟ اس کی معمولی سی جھلک بلاذری کے اس بیان سے ظاہر ہوتی ہے :
ہشام بن عروہ اپنے باپ سےروایت کرتے ہیں کہ : حضرت ابو بکر نے زبیر کو "حرف" اور قتاۃ" کی تمام جاگیر الاٹ کی تھی ۔
مدائنی نے مجھے بتایا کہ :-
"قتاۃ" ایک برساتی نالہ ہے جو طائف سے آتا ہے اور "ارحضیہ"اور "قرقرۃ الکدر" کے پاس سے گزرتا ہے پھر "معاویہ بند" آتا ہے اور پھر موڑ کاٹ کر یہ نالہ شہدائے احد کے پاس سے گزر تا ہے ۔
ہشام بن عروہ روایت کرتے ہیں :- حضرت عمر لوگوں کی جاگیریں الاٹ کرنے لگے تو وادی عقیق میں پہنچے اور کہا کہ زمین کے خواہش مند کہاں ہیں ؟ میں نے اس سے بہتر زمین کہیں نہیں دیکھی ۔زبیر نے کہا: یہ زمین مجھے الاٹ کر دیں ۔ حضرت عمر نے وہ تمام جاگیر انہیں الاٹ کردی "(1)۔
بلاذری کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخصیات کسی کی مفت حمایت کرنے کے عادی نہ تھیں ۔انھوں نے ہر دور میں اپنی حمایت کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کی تھی ۔
لیکن حضرت علی جیسا عادل امام جس نے اپنے بھائی کو ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں دیا تھا وہ ان دونوں کو کیا دیتا ؟
بعض مورخین نے ایک واقعہ لکھا ہے جس سے بخوبی علم ہوسکتا ہے کہ طلحہ وزبیر علی علیہ السلام پر ناراض کیوں تھے ؟
"طلحہ و زبیر نے خروج سے پہلے محمد بن طلحہ کو حضرت علی (ع) کی خدمت میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-بلاذری ۔فتوح البلاذری ۔ص 26۔

223
بھیجا اور اس نے آکر دونوں کا یہ پیغام آپ کے گوش گزار کیا :-
ہم نے آپ کی راہ ہموار کی ہم نے لوگوں کو عثمان کے خلاف برانگیختہ کیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگیا ۔ اور ہم نے دیکھا کہ لوگ آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی رہنمائی کی اور سب سے پہلے ہم نے آپ کی بیعت کی ہم نے آپ کے سامنے عرب کی گردنیں جھکادی ہیں ۔ ہماری وجہ سے مہاجرین و انصار نے آپ کی بیعت کی ہے ۔لیکن ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ جب آپ حاکم بن گئے تو آپ نے ہم سے منہ موڑ لیا اور ہمیں غلاموں اور کنیزوں کی طرح ذلیل کیا ۔
جب محمد بن طلحہ کی زبانی حضرت علی (ع) نے یہ پیغام سنا تو اسے فرمایا تم ان کے پاس جاؤ اور پوچھو وہ کیا چاہتے ہیں ؟
وہ گيا اور واپس آکر کہا کہ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ ان میں سے ایک کو بصرہ کا حاکم بنایا جائے اور دوسرے کو کوفہ کا حاکم بنایا جائے ۔ یہ سن کر حضرت علی (ع) نے فرمایا :- ایسا کرنے سے فساد پھیل جائے گا اور یہ دونوں میرے لئے باقی شہروں کی حکومت کو بھی دشوار بنادیں گے اب جب کہ یہ دونوں میرے پاس مدینہ میں ہیں پھر بھی ان سے مطمئن نہیں ہوں اور اگر انہیں اہم علاقوں کا حاکم بنا دوں تو سازش کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔
جب یہ دونوں نے حضرت علی (ع) کا یہ ٹکاسا جواب سنا تو بڑے مایوس ہوئے اور انہیں اپنے تمام عزائم خاک میں ملتے ہوئے نظر آئے تو وہ حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہم عمرہ کرنے کے لئے مکہ جانا چاہتے ہیں ، آپ ہمیں جانے کی اجازت دیں حضرت علی نے فرمایا کہ پہلے تم قسم کھاؤ کہ میری بیعت نہ توڑو گے اور غداری نہ کروگے ۔اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ نہ کرو گے اور عمرہ کے بعد واپس اپن گھر کو آجاؤ گے ۔
ان دونوں نے حلفیہ طور پر یہ تمام باتیں تسلیم کیں تو حضرت علی (ع) نے انہیں

224
عمرے کے لئے جانے کی اجازت دی ۔اس کے بعد انہوں نے جو کیا سو کیا ۔"(1)
اور جب یہ دونوں حضرات مکہ جارہے تھے تو حضرت علی (ع) نے ان سے فرمایا کہ تم دونوں مجھے یہ بتا سکتے ہو کہ کبھی میں نے تمہیں تمہارے کسی حق سے محروم کیا ہے ؟ یا میں نے تمہارے مقرر شدہ وظیفہ میں کسی طرح کی کوئی کمی کی ہے ؟ اور کیا تم نے کبھی ایسا موقع بھی دیکھا جب کسی مظلوم نے میرے پاس فریاد کی ہو اور میں نے اسے اس کا حق دلانے میں کوئی کوتاہی کی ہو ؟
خدا کی قسم ! مجھے خلافت کا نہ کوئی شوق تھا اور نہ ہی حکومت کبھی میرا مطمع نظر رہی ہے ۔ تم نے ہی مجھے حکومت وامارات کی دعوت دی تو میں نے قبول کرلی اور جب میں نے حکومت سنبھالی تو میں نے قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کی قرآن نے مجھے حاکم اور رعیت کے باہمی حقوق وفرائض بتائے تومیں نے احکام قرآن کو اپنا رہنما اصول بنایا اور سنت نبوی کی میں نے اقتدا کی ۔
اس رہنمائی کے حصول کے لئے مجھے تمہاری رائے کی ضرورت محسوس ہوئی اور نہ ہی کسی اور کے مشورہ کی مجھے احتیاج محسوس ہوئی ۔ اور آج تک کوئی ایسا مقدمہ بھی میرے پاس نہیں لایا گیا ۔ جس کے لئے مجھے تمہارے مشورہ کی ضرورت پڑتی ۔
حضرت علی (ع) نے طلحہ وزبیر کے فتنہ کو ان الفاظ سے اجاگر کیا :- "خدا کی قسم ! وہ مجھ پر کوئی الزام ثابت نہیں کرسکتے اور انہوں نے میرے اور اپنے درمیان انصاف نہیں کیا ۔ وہ اس حق کے طلب کر رہے ہیں جسے انہوں نے خود چھوڑ ا تھا ۔۔۔۔اور اس خون کا بدلہ طلب کررہے ہیں جسے انہوں نے خود بہایا تھا ۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-ابن ابی الحدید /شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص 4-9 طبع مصر
(2):- :-ابن ابی الحدید /شرح نہج البلاغہ ۔جلد دوم ۔ص405

225

جنگ جمل کے محرّک بصرہ میں
طلحہ اور زبیر ام المومنین کو اپنے ساتھ لے کر بصرہ کی جانب روانہ ہوئے اور وہ اپنے تئیں خون عثمان کا مطالبہ کررہے تھے ۔
جب کہ ان کا یہ مطالبہ دینی اور معروضی حالات دونوں کے تحت ناجائز تھا ۔
1:- دینی اعتبار سے انہیں مطالبہ کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا کیونکہ حضرت عثمان لاولد نہیں تھے ان کی اولاد موجود تھی۔ ان کے فرزند عمرو کو حق پہنچتا تھا کہ وہ خلیفۃ المسلمین کے پاس اپنے باپ کے خون کا دعوی کرتا ۔ اور خلیفۃ المسلمین تحقیق کرکے مجرمین کو سزا دیتے ۔
حضرت عثمان کی اولاد کی موجودگی میں طلحہ و زبیر اور ام المومنین کو خون عثمان کے مطالبہ کا کوئی جواز نہیں تھا ۔
2:-خون کا مطالبہ لے کر اٹھنے والے افراد نے بہت سے غلط کام کئے ، انہوں نے بے گناہ افراد کو ناحق قتل کیا ۔ بصرہ کے بیت المال کو لوٹا اور بصرہ میں مسلمانوں بالخصوص حاکم بصرہ ناجائز تشدد کیا ۔ جس کی انسانیت اور شریعت میں اجازت نہیں ہے ۔
3:- قاتلین کی تلاش کے لئے محرکین جمل مصر کی بجائے بصرہ کیوں گئے ؟
4:- ام المومنین عائشہ کو گھر سے باہر نکلنے کا حق نہ تھا کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں "وقرن فی بیوتکن " کے تحت گھر میں بیٹھنے کاحکم دیا تھا ۔انہوں نے میدان میں آکر حق خداوندی کی نافرمانی کی ۔
5:- کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ایک شورش کے ختم کرنے کے لئے اس سے بھی بڑی شورش بپا کی جائے ۔اور بالخصوص جب کہ شورشی افراد کو علم تھا کہ حضرت علی کا دامن خون عثمان کے چھینٹوں سے پاک ہے حضرت علی

226
نے قاتلین عثمان کو کسی قسم کے عہدے بھی تو نہیں دئیے تھے ۔محرکین جمل پہلے عثمان پر ناراض تھے اور بعد ازاں علی (ع) پر ناراض ہوئے لیکن ناراضگی کے اسباب میں فرق تھا ۔
حضرت عثمان پر اس لئےناراض تھے کہ ان کی مالی پالیسی غیر متوازن اور غیر عادلانہ تھی اور حضرت علی (ع) پر اس لئے ناراض تھے کہ ان کی پالیسی عدل کے مطابق تھی۔
اسی عادلانہ پالیسی کے مد نظر حضرت علی (ع) نے اقتدار پرست افراد کو کسی محکمہ کا سربراہ نہیں بنایا تھا اور حضرت علی (ع) کی یہ پالیسی ان کے لئے حضرت عثمان کی پالیسیوں سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئی ۔
موجودہ سیاسی اصطلاح میں یہ کہنا بالکل مناسب ہوگا کہ :- حضرت علی اس انقلاب کے بعد تخت نشین ہوئے اور جس انقلاب میں ان کا کوئی حصہ نہ تھا اور اس انقلاب کا ثمر حضرت علی کی جھولی میں آکر گرا تھا اور انقلابی افراد کو اس میں کچھ حصہ نہیں ملا تھا ۔
علاوہ ازیں طلحہ ، زبیر اور ام المومنین کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اگر علی (ع) کی حکومت مستحکم ہوگئی تو ان پر قتل عثمان کی فرد جرم عائد ہوسکتی تھی ۔
اسی خطرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے طلحہ وزبیر نے عہد شکنی کی اور ام المومنین کو ساتھ ملا کر بصرہ روانہ ہوئے ۔راستے میں ایک چشمہ کے پاس سے ان کا گزر ہوا اور وہاں کتے بی بی صاحبہ کے محمل کے گرد بھونگنے لگے جس سے بی بی کا اونٹ بدکنے لگا تو ایک ساربان نے کہا :-
اللہ "حواب" کے کتوں کو غارت کرے ۔یہاں کتے کتنے زیادہ ہیں ۔
جب "حواب " کے الفاظ بی بی صاحبہ نے سنے تو فرمایا ۔مجھے واپس لے چلو میں آگے نہیں جاؤں گی ۔ کیونکہ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا تھا کہ ایک دفعہ

227
انہوں نے فرمایا : میں دیکھ رہا ہوں کہ میری ایک بیوی کو "حواب " کے کتے بھونک رہے ہیں پھر مجھے فرمایا تھا کہ "حمیرا" وہ عورت تم نہ بننا ۔یہ سن کر زبیر نے کہا کہ ہم حواب سے گزر آئے ہیں بعد ازاں طلحہ و زبیر نے پچاس اعرابیوں کو رشوت دے کر بی بی کے پاس گواہی دلوائی کہ اس چشمہ کا نا م حواب نہیں ہے ۔
تاریخ اسلام میں یہ پہلی اجتماعی جھوٹی گواہی تھی ۔
حضرت علی نے والی بصرہ عثمان بن حنیف کو خط تحریر کیا جس میں آپ نے لکھا ۔باغی افراد نے اللہ سے وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے عہد شکنی کی ۔جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم انہیں اطاعت کی دعوت دو ۔اگر مان لیں تو ان سے اچھا سلوک کرو ۔
خط ملنے کے بعد والی بصرہ نے ابو الاسود دؤلی اور عمرو بن حصین خزاعی کو ان کے پاس بھیجا۔
بصرہ کی دونوں معززشخصیات کے پاس گئیں اور انہیں وعظ ونصیحت کی ام المومنین نے کہا تم طلحہ و زبیر سے ملاقت کرو ۔
چنانچہ وہ وہاں سے اٹھ کر زبیر کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ آپ بصرہ کیوں آئے ہیں ؟ زبیر نے کہا ہم عثمان کے خون کابدلہ لینے یہاں آئے ہیں ۔
بصرہ کے معززین نے کہا کہ "مگر عثمان بصرہ میں تو قتل نہیں ہوئے آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں ؟ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ عثمان کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں ۔تم دونوں نے ام المومنین ہی عثمان کے سب سے بڑے دشمن تھے ۔ تم نے ہی لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکایا اور جب وہ قتل ہوگئے تو تم ہی بدلہ لینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ علاوہ ازیں تم نے چند دن پہلے بلاجبر واکراہ حضرت علی (ع) کی بیعت کی تھی اور اب بیعت شکنی کرکے ان کے خلاف لشکر کشی کررہے ہو۔
یہ باتیں سن کر زبیر نے کہا کہ طلحہ سے جاکر ملاقات کرو زبیر کے پاس سے اٹھ کر امن کے خواہاں دونوں افراد طلحہ کے پاس گئے اس سے گفتگو کرکے وہ

228
اس نتیجہ پر پہنچے کہ :طلحہ کسی قسم کے صلح کے لئے آمادہ نہیں ہے وہ ہر قیمت پر جنگ کرنا چاہتے ہے ۔
اسی دوران بصرہ کا ایک معزز شخص عبداللہ بن حکیم تمیمی خطوط کا ایک پلندہ لے کر طلحہ و زبیر کے پاس آیا اور کہا کہ کیا یہ تم دونوں کے خطوط نہیں ہیں جو تم نے ہمیں روانہ کئے تھے ؟
طلحہ اور زبیر نے کہا جی ہاں ۔
عبداللہ بن حکیم نے کہا : پھر خدا کا خوف کرو ،کل تک تم ہمیں خط لکھا کرتے تھے کہ عثمان کو خلافت سے معزول کردو ،اگر وہ معزول نہ ہونا چاہے تو اسے قتل کردو اورجب وہ قتل ہوگیا تو تم اس کے خون کا بدلہ لینے کیلئے آگئے ہو۔
والی بصرہ عثمان بن حنیف طلحہ وزبیر کے پاس آگئے ۔انہیں اللہ ،رسول اور اسلام کے واسطے دے کر انہیں یاد لایا کہ وہ حضرت علی (ع) کی بیعت بھی کرچکے ہیں ۔ اسی لئے انہیں شورش سے باز رہنا چاہئیے ۔
ان دونوں نے کہا کہ ہم خون عثمان کابدلہ لینے آئے ہیں ۔
والی بصرہ نے کہا :- تم دونوں کاخون عثمان سے کیا تعلق ہے ؟ خون عثمان کے مطالبہ کاحق صرف اسکی اولاد کو حاصل ہے اور اسکی اولاد بھی موجود ہے ۔
طلحہ اور زبیر اور والی بصرہ کے درمیان ایک معاہدہ طے ہوا اور اس معاہدہ کو باقاعدہ تحریر کیاگیا ۔
اس معاہدہ میں یہ الفاظ تھ ےکہ فریقین خلیفۃ المسلمین کی آمد یا انتظار کریں گے اور کسی قسم کی جنگ نہ کریں گے ۔
چند دن تو بصرہ میں اس معاہدہ کی وجہ سے امن قائم رہا ۔بعدازاں طلحہ اور زبیر نے قبائل کے سربراہوں کو خطوط لکھے اور انہیں اپنی حمایت پر امادہ کیا ۔ ان کے بہکانے پر بنی ازد ،ضبہ ،قیس بن غیلان ،بنی عمرو بن تمیم ،بنی حنظلہ ،اور بنی دارم کے

229
افراد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی جبکہ بنی مجاشع کے دیندار افراد نے انکی مخالفت کی ۔
طلحہ وزبیر ن ےبعد آزاں ایک اور غداری کی انہوں نے اپنے بہی خواہوں کو ایک رات میں مسلح کیا اور زرہوں کے اوپر قمیصیں پہنائیں تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ افراد غیر مسلح ہیں ۔ اس رات بڑی بارش برس رہی تھی اور طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں ۔اسی ماحول میں یہ اپنے ساتھیوں کو لے کر مسجد میں داخل ہوئے والی بصرہ عثمان بن حنیف نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو طلحہ وزبیر کے مسلح ساتھیوں نے ایک شدید جھڑپ کے بعد انہیں پیچھے ہٹا کر زبیر کو آگے کردیا ۔بیت المال کے مسلح محافظوں نے مداخلت کرکے زبیر کوپیچھے ہٹایا اور عثمان بن حنیف کو آگے کھڑا کردیا ۔ اتنے میں زبیر کے اور مسلح ساتھی مسجد میں پہنچ گئے اور انہوں حکومتی افراد سے سخت جنگ کرکے زبیر کو مصلائے امامت پر کھڑا کردیا ۔ انہیں جھڑپوں کی وجہ سے سورج طلوع ہونے کا آگیا اور نمازیوں نے چیخ کر کہاکہ نماز قضا ہو رہی ہے ۔ چنانچہ زبیر نے مصلائے امامت پر جبرا قبضہ کرکے نماز پڑھائی ۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد زبیر نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ عثمان بن حنیف کو گرفتار کرکے سخت سزادو ۔زبیر کے ساتھیوں نے والی بصرہ کو پکڑ کر اسے سخت سزا دی اور اس بے چارے کی داڑھی ،ابرو اور سر کے بال نوچ ڈالے اور بیت المال کے محافظوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا اور مسلمانوں کے بیت المال کو طلحہ وزبیر کے حکم پر لوٹ لیا گیا ۔
بیت المال کے محافظین اور والی بصرہ کو قید کرکے ام المومنین کے پاس لایا گیا تو "مہربان ماں " نے محافظین کے قتل کا حکم صادرفرمایا (1)۔
"ناکثین " کی بحث کی تکمیل کے لئے ہم ایک اور روایت کو نقل کرنا پسند کرتے ہیں ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ :-
جب حضرت عثمان محصور تھے تو ام المومنین مکہ چلی گئی تھیں ۔اور حج
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تاریخ طبری وشرح ابن ابی الحدید ۔جلد دوم ۔ ص 497۔501

230
سے فارغ ہو کر مدینہ واپس آرہی تھیں اور مقام "سرف "پہ پہنچیں تو بنی لیث کے خاندان کے ایک فرد سے جس کا نام عبیداللہ بن ابی سلمہ تھا ملاقات ہوئی ۔
بی بی نے اس سے مدینہ کے حالات پو چھے تو اس نے بتایا کہ عثمان قتل ہوچکے ہیں ۔ بی بی نے پھر پوچھا کہ عثمان کے بعد حکومت کس کو ملی ؟
اس نے بتایا کہ حکومت حضرت علی (ع) کو ملی ہے ۔
اس وقت شدّت تاسف سے ام المومنین نےکہا " کاش آسمان زمین پہ گر جاتا ۔ مجھے مکّہ واپس لے چلو اورکہہ رہی تھیں کہ ہائے عثمان مظلوم مارا گیا ۔
عبیداللہ بن ابی سلمہ نے کہا کہ بی بی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں ؟ آپ کل تک تو کہتی تھیں کہ "نعثل " کو قتل کردو یہ کافر ہوگیا ہے "۔
اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھے ۔
فمنک البداء ومنک الغبر ۔۔۔ ومنک الریاح ومنک المطر
وانت امرت بقتل الامام ۔۔۔ وقلت لنا انّہ قد کفر
فھبنا اطعناک فی قتلہ ۔۔۔وقاتلہ عندنا من قد امر
"ابتدا آپ کی طرفسے ہے ۔گردو غبار بھی آپ کی طرف سے ہے ۔تیزآندھی اور بارش بھی آپ کی طرف سے ہے ۔آپ نے ہمیں خلیفہ کے قتل کا حکم دیا تھا اور کہا کرتی تھیں کہ وہ کافر ہوگیا ۔ ہم نے آپ کا کہا مان کر اسے قتل کیا ہے ۔ اور ہماری نظر میں اس کا اصل قاتل وہ ہے جس نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے ۔"
اس کے بعد ام المومنین مکّہ آگئیں اور لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع کرنا شروع کیا اور کہتی تھیں کہ ناحق قتل ہوگیا ۔عثمان روئے زمین پر بسنے والے تمام افراد سے بہتر تھا۔ عبداللہ بن عامر بصرہ سے بہت سا مال لایا اور ام المومنین کی نذر کیا ۔اسی طرح سے یعلی بن امیہ بھی یمن سے بہت بڑی دولت لے کر آیا اور ساری دولت بی بی کے قدموں میں ڈھیر کردی ۔اوربی بی کو بصرہ کی طرف جانے کا مشورہ دیا ۔
اس وقت مکّہ میں اور بھی ازواج رسول موجود تھیں ۔بی بی عائشہ نے

231
انہیں بھی اپنے ساتھ چلنے کا مشورہ دیا ۔
حضرت ام سلمہ نے اس کی شدید مخالفت کی اور عائشہ سے کہا:- خدا کا خوف کرو ،اللہ نے ہمیں اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا ہے ۔جنگ کی کمان سنبھالنے کا حکم دیا ۔ حضرت حفصہ بنت عمر بی بی عائشہ کے ساتھ تیار ہونے لگیں تو ان کے بھائی عبداللہ بن عمر نے انہیں سمجھایا اور انہیں اس مہم جوئی سے باز رکھا ۔ ام المومنین طلحہ وزبیر کو ساتھ لے کر روانہ ہوئیں تو مروان بن حکم نے کہا کہ ان دونوں میں سے امامت کو ن کرائے گا ؟
عبداللہ بن زبیر نے کہا : میرا باپ امامت کرائے گا اور محمد بن طلحہ نے کہا کہ میرا باپ امامت کرائے گا ۔
جب اس جھگڑے کی اطلاع بی بی عائشہ کو ملی تو انہوں نے مروان کو پیغام بھیجا کہ تو ہمارے درمیان جھگڑا پیدا کرنا چاہتاہے ؟
نماز میرا بھانجہ عبداللہ بن زبیر پڑھائے گا ۔
اس گروہ سے تعلق رکھنے والا ایک فرد معاذ بن عبداللہ کہا کرتاتھا کہ : خدا کا شکر ہے کہ ہم ناکام ہوگئے ،اگر ہم بالفرض کامیاب ہوجاتے تو زبیر طلحہ کو کبھی حکومت نہ کرنے دیتا اور طلحہ بھی زبیر کو ایک دن کی حکومت کی اجازت نہ دیتا ۔اس طرح ہم آپس میں لڑکر ختم ہوجاتے ۔
جب باغیوں کا یہ گروہ بصرہ جارہا تھا تو راستے میں سعید بن العاص نے مروان بن الحکم سے ملاقات کی اورکہا کہ :جن لوگوں سے ہم نے بدلہ لینا تھا وہ تو تمہارے ساتھ ہیں ۔ قتل عثمان کے بدلہ کی صحیح صورت یہ ہے کہ ان محرکین کو قتل کردو اور بعد ازاں اپن ےگھر وں کی راہ لو ۔
بصرہ پہنچ کر طلحہ وزبیر ن ےحضرت عثمان کی مظلومیت کی درد بھری داستان لوگوں کو سنائی اور ان کے خون کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا اور ام المومنین

232
نے بھی کھلے عام تقریر کی ۔
اس پر جاریہ بن قدامہ سعدی نے کھڑے ہو کر کہا : ام المومنین ! عثمان جیسے ہزاروں افراد بھی قتل ہوجاتے تو بھی وہ اتنا صدمہ نہ ہوتا جتنا کہ تمہارے باہر آنے کا ہمیں صدمہ پہنچا ہے ۔زوجہ رسول ہونے کے ناطے اللہ نے آپ کو حرمت وعزت عطا کی تھی لیکن تم نے اس حرمت کے پردے کو خود ہی پھاڑ ڈالا اور پردے کو چھوڑ کر جنگوں میں آگئیں ۔
بنی سعد کا ایک اور نوجوان کھڑا ہوا اور طلحہ وزبیر کو مخاطب کرکے کہا :-کیا میدان میں تم دونوں اپنی بیویاں بھی ساتھ لائے ہو؟
اگر نہیں لائے تو تمہیں حیا آنی چاہئیے کہ اپنی بیویوں کو تم نے پردے کے پیچھے بٹھایا اور رسول خدا (ص) کی بیوی کو میدان کو میدان میں لے آئے ہو؟
بعد ازاں اس نے اسی مفہوم کی ادائیگی کے لئے کچھ اشعار بھی پڑھے ۔
پھر یہ لوگ بصرہ آئے اور وہاں انہوں نے عذر سے کام لیتے ہوئے عثمان بن حنیف کو گرفتار کیا اور اس کے بال نوچ ڈالے اور اس چالیس کوڑے مارے ۔ بصرہ سے ام المومنین نے زید بن صوحان کو درج ذیل خط لکھا :- رسول خدا (ص) کی پیاری بیوی عائشہ کی جانب سے اپنے خالص فرزند زید بن صوحان کے نام !
اما بعد : جب میرا یہ خط تجھے ملے تو ہماری مدد کے لئے چلا آ اور اگر تو نہ آسکے تو لوگوں کو علی (ع) سے متنفّر کر۔
زید بن صوحان نے اس خط کا جواب درج ذیل الفاظ میں دیا : اگر آپ واپس چلی جائیں اور اپنے گھر میں بیٹھ جائیں تو میں آپ کا خالص فرزند ہوں ، ورنہ میں آپ کا سب سے پہلا مخالف ہوں ۔
پھر زید نے حاضرین سے کہا کہ :- اللہ ام المومنین کے حال پر رحم فرمائے ۔اسے حکم ملا تھا کہ وہ گھر میں

233
بیٹھے اور ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ ہم جنگ کریں ۔انہوں نے اپنے حکم کو پس پشت ڈال دیا اور وہ اس حکم پر عمل کرنے لگی ہیں جو کہ ہمیں دیاگیا تھا ۔
ایک دفعہ طلحہ وزبیر اجلاس عام سے خطاب کررہے تھے کہ بنی بعد قیس کے ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا :-
اے گروہ مہاجرین ! ہماری بات سنیں ۔جب رسول (ص) کی وفات ہوئی تو تم نے ایک شخص کی بیعت کرلی تھی ۔ہم نے اسے تسلیم کر لیا تھا ۔ اور جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے ہم سے مشہورہ کئے بغیر ایک شخص کو نامزد کیا تھا ۔ ہم نے اسے بھی تسلیم کیا تھا ۔ اور جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے خلافت کے لئے چھ افراد پر مشتمل شوری تشکیل دی تھی۔ اور اس شوری کے لئے ہم سے کسی نے مشورہ طلب نہیں کیا تھا ۔ اور پھر ایک شخص شوری کے ذریعہ سے منتخب ہوا تو ہم نے اسے بھی تسلیم کیا تھا ۔پھر تمہیں اس میں عیب نظرآئے ۔تم نے ہمارے مشورہ کے بغیر اسے قتل کردیا اور تم نے علی (ع) کی بیعت کی تم بھی ہم سے تم نے مشورہ نہیں لیا تھا اب آپ ہمیں بتائیں کہ علی (ع) سے کون سی خطا سرزد ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ہم اس کے خلاف جنگ کریں ؟
کیا اس نے اللہ کا مال کسی کو ناحق دیا ہے ؟
کیا اس نے حق کے دامن کو چھوڑ کر باطل کو اپنا لیا ہے ؟
یا اس سے کوئی غلط کام سرزد ہوا ہے ؟
آخر ہمیں بتائیں کہ علی (ع) نے وہ کون سا ایسا جرم کیا ہے جس کی وجہ سے اس سے جنگ ناگزیر ہوگئی ہے ؟
نوجوان کی اس جسارت کی وجہ سے چند لوگ اس کو قتل کرنے کے لئے اٹھے تو اس کے قبیلہ کے افراد نے اسے بچا لیا ۔
وہ دن تو جیسے تیسے گزر گیا ۔ دوسرے دن باغیوں نے اس کے گھر پہ حملہ کرکے

234
اسے قتل کردیا اور اس کے علاوہ اس کی قوم کے ستر دیگر افراد کو بھی قتل کردیا ۔
اس فتنہ کو فروکرنے کے لئے علی (ع) بصرہ آئے جہاں شدید جنگ ہوئی ۔ حضرت علی (ع) کامیاب ہوئے ۔طلحہ اور زبیر مارے گئے ۔
ام المومنین نے عبداللہ بن حلف کے مکال میں پناہ لی ۔حضرت امیر المومنین نے اپنے لشکر میں اعلان کردیا کہ کسی زخمی کو قتل نہ کیا جائے ،کسی عورت پہ ہاتھ نہ اٹھایا جائے ، کسی کے گھر میں داخل ہو کر مال نہ لوٹا جائے ۔
پھر امیر المومنین نے زوجہ رسول (ص) کو چالیس عورتوں کےہمراہ واپس مدینہ بھیج دیا اور اس کی مزید حفاظت کے لئے اس کے بھائی محمد بن ابو بکر کو ہمراہ روانہ کیا ۔ حضرت عائشہ نے بصرہ سے روانہ ہوتے وقت کہا ۔ہمیں ایک دوسرے پر ناراض نہیں ہونا چاہیئے ۔میرے اور علی (ع)کے درمیان تنازعات کی وہی نوعیت ہے جو کہ دیور اور بھابھی کے تنازعات کی ہوا کرتی ہے ۔

محرّکین جمل کے جرائم
گروہ ناکثین کی کارستانیاں آپ نے ملاحظہ فرمائیں ۔ اس پورے ہنگامے میں ان لوگوں نے جرائم کا ارتکاب کیا ۔
1:- طلحہ وزبیر نے پچاس افراد کو رشوت دے کر جھوٹی گواہی دلائی کہ اس چشمہ کا نام "حواب" نہیں ہے ۔اور یہ تاریخ اسلام کی پہلی اجتماعی جھوٹی گواہی تھی اور اسلام میں جھوٹی گواہی کتنا بڑا جرم ہے ؟
اس کے لئے صحیح بخاری کی اس حدیث کا مطالعہ فرمائیں ۔
"قال رسول اللہ اکبر الکبائر عنداللہ الاشراک باللہ وعقوق الوالدین وشھادۃ الزور ثلاثا اقولھا او اقول شھادۃ الزور فما زال یکرّرھا قلنا لیتہ سکت "
رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بد ترین گناہ اس کے ساتھ شرک

235
کرنا ،والدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی ہے ۔
آپ نے ان الفاظ کا بار بار تکرار کیا ۔ یہاں تک کہ ہم کہنے لگے : کاش کہ آپ خاموش ہوجائیں ۔
2:- ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ام المومنین "حواب " کا سن کر واپس کبھی اپنے گھر نہ جاتیں کیونکہ جھوٹے گواہ انہیں بتارہے تھے کہ وہ تھوڑی دیرپہلے "حواب" سے گزر چکی ہیں ۔
ام المومنین کے دل میں فرمان رسول کا رتی برابر بھی احساس ہوتا تو بھی انہیں واپس چلے جانا چاہئے تھا ۔
3:- طلحہ وزبیر نے حضرت علی کی بیعت کرکے عہد شکنی کی تھی اور بعد ازاں عثمان بن حنیف کے ساتھ معاہدہ کرکے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا ۔
4:- انہوں نے مسجد اور نماز کی حرمت پامال کی اور بیت المال کے محافظین کو ناحق قتل کیا ۔ جب کہ قرآن مجید میں قتل مومن کی بہت بڑی سزا بیان ہوئی ہے ۔
5:- محرکین جمل نے حضرت عثمان بن حنیف کے تمام بال نوچ ڈالے تھے اور ان کا "مثلہ" کیا تھا ۔ اب آئیے رسول اسلام (ص) کی تعلیمات کو بھی دیکھ لیں ۔
حضرت عمر نے رسول خدا (ص)کی خدمت میں عرض کی تھی کہ :سہیل بن عمرو کفار مکہ کا خطیب ہے ۔ وہ کفار کو ہمیشہ اپنے خطبات کے ذریعہ برانگیختہ کیا کرتا ہے ۔اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کے نچلے دودانت توڑ دیتا ہوں ۔اس کے بعد اس کی خطابت کے جوش میں وہ روانی نہیں رہے گی اور وہ یوں کسی کو اسلام کی مخالفت پر امادہ کرنے کے قابل نہ رہے گا ۔
رسول خدا (ص) نے حضرت عمر کو سختی س منع فرمایا اور ارشاد فرمایا :"میں کسی کی صورت نہیں بگاڑوں گا ورنہ اللہ میری صورت بگاڑدے گا اگر چہ کہ میں نبی ہوں :"(1)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ رسول خدا (ص) نے تو بد ترین مشرک کا حلیہ بگاڑنے کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تاریخ طبری ۔جلد دوم ۔ص 289

236
اجازت نہیں دی ۔لیکن طلحہ وزبیر نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ایک شریف اور امین مسلمان کا حلیہ تبدیل کردیا تھا کیا اسلام میں اس فعل شنیع کی اجازت ہے ؟
6:- حضرت عثمان کے قتل ،اور بصرہ کے لوٹنے کا باہمی ربط کیا ہے ؟
7:- جو کچھ بلوائیوں نے حضرت عثمان کے ساتھ سلوک کیا وہ نامناسب تھا جو سلوک طلحہ وزبیر نے عثمان بن حنیف کے ساتھ کیا ۔کیا وہ اسلامی طرز عمل کے مطابق تھا ؟
8:- اسلام میں ایفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے اور عہد شکنی کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے ۔جیسا کہ امام مسلم نے رسول خدا(ص) کی حدیث نقل کی ہے ۔
"قال رسول اللہ ص اربع من کنّ فیہ کا منافقا خالصا ومن کا نت فیہ خصلۃ منھن کانت فیہ خصلۃ من نفاق حتی یدعھا اذا حدّث کذب واذا عاھد غدر واذا اخلف خاصم فجر۔"
"رسول خدا(ص) نے فرمایا : جس میں چار علامتیں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ایک علامت ہو تو اس میں بھی منافقت کی علامت ہے ۔یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے :-
1:- جب بو لے تو جھوٹ بولے ۔
2:- جب معاہدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔
3: جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ۔
4:- جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے ۔"(1)
اور گروہ ناکثین میں جتنی علامات پائی جاتی تھیں اس کا فیصلہ ہم اپنے انصاف پسند قارئین پر چھوڑتے ہیں ۔
اس کے ساتھ ساتھ اپنے قارئین سے یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ وہ ناکثین کے طرز عمل کے ساتھ ساتھ امیرالمومنین کے طرز عمل کو بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
ہمیں اپنے باضمیر اور انصاف پسند قارئین سے امید ہے کہ وہ خود ہی اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ علی (ع) اوران کے حریفوں کے درمیان زمین وآسمان ،حق وباطل اور نور وظلمت جتنا فاصلہ پایا جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- صحیح مسلم ۔جلد اول ۔ص 42