المیہ جمعرات
 

215

عائشہ کو علی سے پرانی عداوت تھی
تاریخ کے قارئین سے یہ امر مخفی نہیں ہے کہ حضرت عائشہ جناب علی سے حیات رسول (ص) میں ہی حسد کیا کرتی تھیں اور حضرت علی کی مخالفت ان کے رگ وریشہ میں سمائی ہوئی تھی ۔ام المومنین کے حسد کی دو وجوہات تھیں :
1:- غزوہ بنی مصطلق کے وقت حضرت عائشہ پر جو تہمت لگی تھی ۔اس میں حضرت علی نے بی بی صاحبہ کے حامی کر کردار ادا نہیں کیا تھا ۔
2:- بی بی عائشہ اپن بانجھ پن کی وجہ سے حضرت علی سے حسد کیا کرتی تھیں کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ رسالت مآب کی اولاد حضرت فاطمہ زہرا (س) کے بطن سے جاری ہوئی تھی۔ جب کہ حضرت عائشہ کی گود خالی تھی ۔ اسی لئے بی بی عائشہ وقتا فوقتا رسول خدا (ص) کی محبوب بیوی حضرت خدیجہ کی بھی مذمت کرنے سے باز نہیں رہتی تھیں ۔اور کئی دفعہ ام المومنین نے حضرت فاطمہ زہرا (س) کے سامنے بھی ان کی مرحومہ والدہ کا شکوہ کرکے ان کے دل کو زخمی کیا تھا ۔
واقعہ افک کی تفصیل ام المومنین نے اس طرح بیان کی ہے :- رسول خدا (ص) جب سفر کرتے تو اپنی ازواج میں قرعہ اندازی کرتے تھے ۔جس کا قرعہ نکلتا تھا ۔ آپ اسے اپنے ہمراہ لے جاتے تھے ۔جب بنی مصطلق کا غزوہ ہوا تو قرعہ میں میرا نام نکلا ۔رسول خدا مجھے اپنے ساتھ لے گئے ۔
واپسی پر مدینہ کے قریب رات کے وقت ایک منزل پر قیام کیا ۔میں حوائج ضروریہ کے لئے باہر گئی ۔اس وقت میری گردن میں ایک ہار تھا ۔جب میں نے حوائج سے فراغت حاصل کرلی تو میرا ہار گم ہوگیا ۔میں اسے ڈھونڈ نے لگ گئی ۔اور دوسری طرف سے کوچ کا نقارہ بج گیا ۔
لوگ جانے لگے مگر میں ہار ڈھونڈتی رہی ۔ہار تو آخر کا مجھے مل گیا لیکن

216
جب میں پڑاؤ پر آئی تو وہاں کوئی شخص موجود نہ تھا میں چادر اوڑھ کر لیٹ گئی ۔
میں لیٹی ہوئی تھی کہ صفوان بن معطل سلمی جو کسی کا م کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا وہ آیا ۔جب اس نے مجھے دیکھا تو پہچان لیا کہ کیونکہ آیت حجاب کے نزول سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکا تھا ۔
وہ اپنے اونٹ کو میرے قریب لایا اور مجھے اونٹ پر سوار کیا اور اس نے مجھے تیزی سے اونٹ ہنکا کر مجھے مدینہ پہنچایا اور مدینہ میں میرے خلاف چہ مگوئیوں کیا ایک سلسلہ چل نکلا اور یہ سرگوشیاں رسول خدا (ص) اور میرے والدین کے کانوں تک بھی پہنچ گئیں ۔
اس کے بعد میں نے رسول خدا (ص) کے رویہ میں تبدیلی محسوس کی ۔ ان کی شفقت و مہربانی میں مجھے کمی نظر آئی ۔ تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے والدین کے گھر چلی جاؤں ؟ میری طبیعت ناساز ہے ، وہاں میری والدہ میری تیمار داری کرنے کے لئے موجود ہے ۔
رسول خدا (ص) نے اجازت دی تو میں نے اپنے والدین کے گھر آگئی ۔
رسول خدا (ص) نے اس معاملہ کے لئے علی ابن ابی طالب کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا تو علی نے کہا ۔ یا رسول اللہ ! آپ کے لئے عورتوں کی کوئی کمی نہیں اس کے بدلے آپ کسی اور عورت سے بھی شادی کرسکتے ہیں ۔ آپ کنیز سے سوال کریں وہ آپ کو بتا سکے گی ۔
رسول خدا نے بریرہ کو بلایا تو علی (ع) نے اسے سخت زد وکوب کیا اور کہا کہ رسول خدا (ص) کو سچی سچی بات بتا دے ۔۔۔۔۔۔۔
خدا کی قسم ! رسول خدا ابھی اس مجلس سے اٹھنے نہ پائے تھے کہ ان پر وحی کی کیفیت طاری ہوگئی ۔کچھ دیر بعد آپ پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے اٹھے اور فرمایا عائشہ ! تمھیں مبارک ہو اللہ نے تمہاری برائت نازل کی ہے ۔ پھر مسطح

217
بن اثاثہ ، حسان بن ثابت اور حمنہ بن جحش اور ان کے ہم نوا افراد پر حد قذف جاری کی گئی ۔"(1)
درج بالا روایت سے درج ذیل امور کا اثبات ہونا ہے :
1:- غزوہ بنی مصطلق میں ام المومنین عائشہ رسول خدا کے ساتھ تھیں ۔
2:- واپسی میں جب لشکر ایک پڑاؤ پر ٹھہر اہوا تھا ۔ وہ کسی کو بتائے بغیر حوائج ضروریہ کے لئے چلی گئیں ۔
3:- فراغت حاصل کرنے کے بعد پھر پڑاؤ پر واپس تشریف لائی ہی تھیں کہ انہیں ہار کی گم شدگی کا احساس ہوا
4:- ہار کو تلاش کرنے کے لئے دوبارہ اسی مقام تک گئیں ۔ہار مل گیا لیکن جب واپس آئیں تو پورا لشکر کوچ کرکے چلا گیا تھا ۔
5:- مایوس ہو کر چادر اوڑھ کر آپ سوگئیں ۔حسن اتفاق سے صفوان اپنے ناقہ پر آرہا تھا اور اس نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ وہ آیت حجاب کے نزول سے پہلے انہیں دیکھ چکا تھا ۔
6:- صفوان کی نگاہ خوب کا م کرتی تھی کہ اس نے رات کی تاریکی میں چادر کے اندر سے ہی دیکھ کر پہچان لیا تھا ۔
7:- صفوان نے ام المومنین کو اپنی ناقہ پر بٹھا کر مدینہ لایا اور حسان بن ثابت اور چند دیگر افراد نے ام المومنین پہ تہمت لگائی ۔
8:- جب رسول خدا نے علی (ع) سے مشورہ کیا تو انہوں نے ام المومنین کو طلاق دینے کا مشورہ دیا ۔
امام بخاری نے بھی اس روایت کو تفصیل سے لکھا ہے :- حضرت عائشہ کہتی ہیں :- جب رسو خدا درپیش سفر ہوتا تو آپ اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-طبری ۔تاریخ الامم و الملوک ۔جلد سوم ۔ص 76-77

218
تھے ۔جس بی بی کا قرعہ نکلتا وہ آپ کے ساتھ سفر میں جاتی تھی ۔
ایک جنگ میں قرعہ فال میرے نام کا نکلا ۔میں حضور کریم کے ساتھ روانہ ہوئی ۔رسول خدا جنگ سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف آرہے ھتے کہ مدینہ کے قریب ایک مقام پر اسلامی لشکر نے پڑاؤ کیا ۔
جب کوچ کا اعلان ہوا تو میں حوائج ضروریہ کے لئے باہر چلی گئی اور میں لشکر سے دور چلی گئی ۔قضائے حاجت سے فارغ ہونے کے بعد اپنے محمل تک آئی میں نے محسوس کیا کہ میرا ہار ٹوٹ گئی اور اسے ڈھونڈنے میں مصروف رہی ۔
اس اثناء میں میرے محمل کو اٹھانے والے افراد آئے اور میرے محمل کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ یدا اور ان کا خیال تھا کہ میں اس میں موجود ہوں ۔
اس زمانے میں عورتین بڑی ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں ۔ ان پر گوشت نہیں چڑھا تھا کیونکہ بہت قلیل مقدار میں انہیں کھانا نصیب ہوتا تھا ۔ اس وجہ سے میرے محمل اٹھانے والوں کو بھی وہم نہ ہوا کہ میں اس میں موجود نہیں ہوں میں اس وقت کم سن لڑکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔لشکر کے جانے کے بعد مجھے ہار مل گیا ۔اور جب میں پڑاؤ پر پہنچی تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا تھا اورنہ ہی کوئی جواب دینے والا ۔میں اسی جگہ پر بیٹھ گئی ۔مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آگئی ۔
کچھ دیر بعد صفوان بن معطل سلمی ثم الذکوانی لشکر کے پیچھے تا ۔جب میرے قریب آیا تو اس نے ایک سوئے ہوئے انسان کا ہیولا دیکھا تو مجھے پہچان لیا ۔ اس نے مجھے آیت حجاب کے نزول سے پہلے دیکھا ہوا تھا ۔ اس نے انّا للہ کی آیت زور سے پڑھی تو میں بیدار ہوگئی ۔اس نے اپنی ناقہ پہ مجھے سوار کیا اور مدینہ لے آیا "۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- صحیح بخاری جلد سوم ۔ص 154-156

219
بخاری کی روایت سے درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں ۔
1:- ام المومنین کی روانگی کے وقت پڑاؤ سے نکلی تھیں اور اس وقت کوچ کا نقارہ بج چکا تھا ۔
2:-باہر نکالتے وقت انہوں نے کسی کو بتایا بھی مناسب نہیں سمجھا تھا ۔
3:-پورے لشکر میں سے کسی نے انہیں جاتے ہوئے بھی نہیں دیکھا تھا ۔
4:-محمل اٹھانے والوں کو بھی آپ کا پتہ نہ چل سکا کیونکہ اس زمانے میں تمام عورتیں بشمول ام المومنین کمزور و نحیف ہوا کرتی تھیں ۔
5:- قلت خوراک اور کم سنی کی وجہ سے بی بی صاحبہ کا وزن کچھ تھا ہی نہيں ۔
6:- ام المومنین نے جب میدان خالی دیکھا تو وہیں چادر اوڑ کر سوگئیں ۔
7:- صفوان لشکر کے پیچھے تھا وہ آیا تو اس نے نیند میں پڑے ہوئے انسان کو دور سے ہی دیکھ کر پہچان لیا تھا ۔ کیونکہ وہ آیت حجاب سے پہلے آپ کو دیکھ چکا تھا ۔
8:- صفوان نے ام المومنین کو ناقہ پہ بٹھایا اور مدینہ لے آیا ۔
حضرت ام المومنین اور مولا علی علیہ السلام کے درمیان حسد کی وجوہات میں واقعہ افک کا بھی دخل ہے اس کے علاوہ کچھ اور غیر )indirect effects)
مستقیم عوامل بھی تھے جن کی وجہ سے ام المومنین ، بنت پیغمبر اور علی مرتضی سے حسد کیا کرتی تھیں ۔
جناب عائشہ کی خواہش رہتی تھی کہ وہ رسول خدا (ص) کے محبوب بن جائیں ۔ حضرت عائشہ میں سوکن پن کا حسد اتنا تھا کہ کئی دفعہ رسول خدا(ص) کے سامنے ان کی مرحوم بیوی جناب خدیجۃ الکبری پر بھی اعتراضات کئے تھے اور رسول خدا (ص) کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ خدیجہ ایک بڈھی عورت تھی جس کے دانت

220
ٹوٹے ہوئے تھے ۔اور اللہ نے اسکے بدلہ میں آپ کو نواجوان باکرہ بیوی دی ہے ۔
رسول خدا(ص) نے یہ الفاظ سن کر جناب عائشہ کو ڈانٹ دیا تھا کہ حضرت خدیجہ نے اس وقت میری تصدیق کی جب کہ لوگوں نے میری تکذیب کی تھی ۔ اس نے اپنا تمام مال اس وقت میرے قدموں میں نچھاور کیا تھا ۔جب لوگوں نے مجھے محروم کیا تھا اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اللہ نے اسے میری نسل کی ماں بنایا اور یہ عظیم شرف اس کے علاوہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوا ۔
جی ہاں ! حضرت عائشہ اور حفصہ یہ وہی بی بیاں ہیں جن کے متعلق سورۃ تحریم نازل ہوئی اور ان دونوں کو مخاطب کرکے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما وان تظاھرا علیہ فانّ اللہ ھو مولاہ وجبریل وصالح المومنین و الملائکۃ بعد ذالک ظہیرا " تم دونوں اگر توبہ کر لو تو بہتر کیونکہ تم دونوں کے دل حق سے منحرف ہوچکے ہیں اور اگر تم دونوں نبی کے خلاف چڑھائی کرو گی تو اللہ اس کا مدد گار ہے ۔ جبریل اور نیک مومن اس کے مدد گار ہیں اور اس کے بعد تمام فرشتے اس کے پشت پناہ ہیں ۔
سورۃ تحریم کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو ازواج نے رسول خدا کے خلاف کوئی ایسا محاذ ضرور تیار کیا تھا کہ جس کے لئے اللہ نے اپنی اور جبریل اور صالح المومنین اور ملائکہ کی مدد کا ذکر کیا ہے ۔
اس مقام پر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ کوئی محاذ نہیں تھا تو پھر اس سے پوچھنا چاہیئے کہ جب حالات بالکل اطمینان بخش تھے تو اللہ نے اتنے بڑے لشکر کا ذکر کیوں فرمایا اور ان دونوں بیویوں کو طلاق کی دھمکی کیوں دی اور ان کے دلوں کو حق سے منحرف کیوں قراردیا ؟
حضرت عائشہ کو اللہ تعالی نے اولاد سے محروم رکھا تھا ۔جب وہ حضرت سیدہ بنت رسول کو دیکھتی تھیں تو ان کے دل میں زنانہ حسد انگڑائیاں لیا کرتا تھا ۔