المیہ جمعرات
 

211

فصل چہارم
ناکثین (بیعت شکن)
یہ حقیقت ہے ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے کہ ام المومنین عائشہ اور طلحہ اور زبیر نے لوگوں کو حضرت عثمان کی مخالفت پر برانگیختہ کیا اور ایسے حالات پیدا کردئیے جو کہ حضرت عثمان کے قتل پر منتج ہوئے تھے ۔
ان مخالفین میں زبیر بن عوام سب سے پیش پیش تھے اور طلحہ بن عبید اللہ اول الذکر کی بہ نسبت کچھ کم مخالف تھے ۔
حضرت عثمان نے بھی ایک دفعہ طلحہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا :- ویلی من طلحہ ! اعطیتہ کذا ذھبا وھو یروم ۔۔۔۔۔۔ اللھم لا تمتعہ بہ ولقہ عواقب بغیہ "
مجھے طلحہ پر سخت افسوس ہے میں نے اسے اتنا سونا دیا تھا اور وہ آج مجھے قتل کرنا چاہتا ہے پروردگا ر ! اسے دولت سے لطف اندوز نہ کرنا اور اسے بغاوت کے انجام بد تک پہنچا نا ۔ "(1)۔
حضرت عثمان کے قتل کے بعد مذکورہ تینوں افراد نے خون بدلہ کا جو ڈھونگ رچایا تھا وہ صرف اس لئے تھا کہ لوگوں کو مغالطہ میں مبتلا کیا جائے ورنہ حضرت عثمان کے قتل کے محرک یہ خود ہی تھے ۔
جن دنوں حضرت عثمان اپنے گھر میں محصور تھے ، حضرت علی نے طلحہ سے کہا تھا : تجھے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ ان بلوائیوں کو عثمان سے ہٹاؤ ۔یہ سن کر طلحہ نے کہا ! خدا کی قسم میں اس وقت تک ایسا نہیں کروں گا جب تک بنی امیہ امت اسلامیہ کا لوٹا ہوا مال واپس نہ کردیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ڈاکٹر طہ حسین ۔الفنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 8

212
طبری لکھتے ہیں : حضرت عثمان نے طلحہ پچاس ہزار درہم کا قرض دیا تھا ۔ ایک دفعہ عثمان مسجد جارہے تھے ۔ راستے میں طلحہ سے ملاقات ہوئی تو طلحہ نے کہا ۔ میں نے قرض کی رقم اکٹھی کرلی ہے آپ جب بھی چاہیں مجھ سے لے لیں ۔حضرت عثمان نے کہا ۔ابو صحرا میں نے وہ رقم تمہیں معاف کردی ۔ایام محاصرہ میں طلحہ کے کردار کو دیکھ کر حضرت عثمان کہا کرتے تھے ۔ اس نے مجھے وہ جزا دی جو چور کسی شخص کو دیا کرتے ہیں ۔
مدائنی "قتل عثمان " میں تحریر کرتے ہیں : طلحہ نے حضرت عثمان کی لاش کو تین دن تک دفن نہیں ہونے دیا ۔ اور جب حکیم بن حزام اور جبیر بن مطعم ان کی لاش کو اٹھا کر جارہے تھے تو طلحہ نے راستے میں ایسے افراد کھڑے کر رکھے تھے جنہوں نے ان کی لاش پر پتھر پھینکے ۔"(1)
ڈاکٹر طہ حسین رقم طراز ہیں ۔
طلحہ کی بلوائیوں سے ہمدردیاں پوشیدہ نہ تھیں اور انہیں برانگیختہ کرنے میں بھی ان کی کاوشیں شامل تھیں ۔اور حضرت عثمان طلحہ کے اس طرز عمل کی خلوت وجلوت میں شکایت کیا کرتے تھے ۔
ثقہ راوۃ کا بیان ہے کہ حضرت عثمان نے ایک دفعہ حضرت علی سے درخواست کی کہ وہ ان بلوائیوں کو اسی طرح سے واپس بھجوائیں ۔
حضرت علی طلحہ کے پاس گئے تو انہوں نے بلوائیوں کی ایک بڑی جماعت کو طلحہ کے پاس دیکھا ۔حضرت علی نے طلحہ سے فرمایا کہ تم انہیں واپس بھیج دو ۔ لیکن طلحہ نے انہیں واپس بھیجنے سے انکار کردیا تھا ۔(2)
قتل عثمان میں حضرت عائشہ کا کردار تو بالکل اظہر من الشمس ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد دوم ص 5-6 طبع مصر
(2):- الفتنۃ الکبری ۔ علی وبنوہ ص 8

213
حضرت عائشہ ہی وہ خاتون تھیں جنہوں نے کئی دفعہ رسول خدا (ص) کی قمیص دکھا کر حضرت عثمان کو کہا تھا کہ : رسول خدا کی ابھی قمیص بھی بو سیدہ نہیں ہوئی مگر تم نے ان کی سنت کو ترک کر دیا ۔
"اور کئی مرتبہ پردہ کے پیچھے سے کھڑے ہوکر انہوں نے فرمایا تھا ۔ "اقتلوا نعثلا " تم نعثل کو قتل کرو"۔
امّ المومنین کے متعلق یہ بلکل درست ہوگا کہ آپ حضرت عثمان کی سب سے بڑی مخالف تھیں ۔ سابقہ صفحات میں آپ یہ روایت پڑھ چکے ہوں گے کہ جب مکہ میں کسی نے حضرت عائشہ تک ایک افواہ پہنچائی تھی کہ حضرت عثمان نے بلوائیوں کو قتل کردیا ہے اور اب شورش ختم ہوگئی ہے ، تویہ سن کر بی بی نے سخت الفاظ میں اپنے طرز عمل کا اظہار فرمایا تھا :" یہ کہاں کا انصاف ہے کہ حق مانگنے والوں کو قتل کیاجائے اور ستم رسیدہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی بجائے تلوار کے گھاٹ اتارا جائے ۔"
او رحضرت علی کے تخت نشین ہوتے ہی حضرت عائشہ خون عثمان کی دعودیدار بن کر کھڑی ہوگئیں اور طلحہ وزبیر کے کہنے بصرہ کی تیاریوں میں مشغول ہوگئیں ۔اسی اثناء میں سعید بن العاص ام المومنین کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ آپ کیا چاہتی ہیں ؟ بی بی نے کہا : میں بصرہ جانا چاہتی ہوں سعید نے پھر پوچھا ۔آپ وہاں کیوں جانا چاہتی ہیں ؟ بی بی نے فرمایا :- عثمان کے خون کے مطالبہ کے لئے جارہی ہوں ۔
یہ سن کر سعید بن العاص نے کہا : ام المومنین ! عثمان کے قاتل تو آپ کے ساتھ ہیں ۔(1)
تاریخی حقائق کی بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں جنگ جمل کے محرکین ہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔ جلد سوم ۔ص 427

214
حضرت عثمان کے سب سے بڑے مخالف تھے ۔ اور حضرت عثمان کے خون کے چھینٹیں ان کے دامن پر لگے ہوئے تھے ۔ اور اس وقت مسلمانوں کی اکثریت بھی بخوبی جانتی تھی کہ قاتلین عثمان کون ہیں ؟
اس تاریخی حقیقت کے ادراک کے بعد ایک دل چسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جنگ جمل کے "ہیرہ"ہی دراصل قاتلین عثمان تھے ۔ تو پھر انہوں نے خون عثمان کا مطالبہ کیوں کیا تھا ؟ اور لوگوں کو علی (ع) کی مخالفت پر کمر بستہ کیوں کیا ؟
اور کیا اس وقت کچھ ایسے مخفی عوامل تھے جن کی وجہ سے قمیص عثمان کو بہانہ بنا کر حکومت وقت کی مخالفت کی گئی ؟
اور پھر طلحہ وزبیر نے حضرت علی کی بیعت کیوں کی ؟
اور اگر خون عثمان کے مطالبہ میں کوئی وزن تھا تو کیا اس کا طریقہ یہی تھا کہ حکومت کے خلاف بغاوت کردی جائے اور کیا حضرت عثمان اس دنیا سے "لاولد" ہوکر گئے تھے جب کہ ان کا بیٹا عمر موجود تھا ؟
ام المو منین اور طلحہ وزبیر کو قصاص عثمان کا اختیار کس قانون کے تحت حاصل ہواتھا ؟
قصاص عثمان کے لئے بصرہ کا انتخاب کیوں کیا گیا ؟ اور بصرہ کی بجائے مصر کو اس "کارخیر " کے لئے منتخب کیوں نہ کیا گیا جب کہ بلوائیوں کی اکثریت کا تعلق بھی مصر سے تھا ؟