المیہ جمعرات
 

207

فصل سوم
خلافت امیرالمومنین علیہ السلام
"الحمد اللہ علی احسانہ لقد رجع الحق الی مکانہ"
"اللہ کے احسان پر اسی کی حمد ہے ۔حق اپنے مقام پر واپس آگیا "
(الامام علی بن ابی طالب )
حضرت علی (ع) توفیق ایزدی سے مؤید تھے اور اس کے پورے خیر خواہ تھے ۔ انہوں نے ہر مصیبت پر صبر کیا اور اپنے حق کو تاراج ہوتا دیکھ کر بھی انہوں نے مسلمانوں کی خیر خواہی سے کبھی منہ نہ موڑا ۔
انہوں نے اسلام کے وسیع مفاد کے لئے خلفائے ثلاثہ سے جنگ نہ کی ۔ بلکہ جہاں اسلامی مفادات کا سوال ہوتا تھا حضرت علی (ع) اپنے قیمتی مشوروں سے بھی انہیں نوازا کرتے تھے ۔
فطری تقاضا تھا کہ حضرت عثمان کے قتل کے بعد حضرت علی (ع) اپنے آپ کو خلافت کے لئے پیش کرتے اور اس کے لئے ضروری گٹھ جوڑ کرتے ۔مگر حضرت علی اتنے عظیم انسان تھے کہ انہوں نے اس موقع پر بھی خلافت وحکومت کے حصول کے لئے کسی طرح کی کوئی تگ ودو نہ کی کہ جس وقت امت اسلامیہ نے آپ کو خلافت کے لئے مجبور کیا ۔تو گویا علی (ع) کو خلافت کی ضرورت نہ تھی بلکہ خلافت کو علی (ع) ک ضرورت تھی ۔
خلافت علی (ع) کی داستان طبری نے یوں بیان کی ہے :-
"جب حضرت عثمان قتل ہوئے تو مہاجرین وانصار جمع ہوئے ۔ ان میں طلحہ اور زبیر بھی موجود تھے ۔پھر تمام افراد حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں ۔

208
آپ نے فرمایا :-مجھے تمہاری حکومت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ تم لوگ جس بھی منتخب کروگے ۔میں اسے تسلیم کرلوں گا ۔
انہوں نے کہا :- ہم آپ کے علاوہ کسی اور کا انتخاب نہیں کریں گے ۔
حضرت علی (ع) نے اس پیشکشکو مسترد کردیا ۔
بعد ازاں مہاجرین وانصار کئی مرتبہ حضرت علی (ع) کے پاس آئے اور باربار خلافت سنبھالنے کی درخواست کی ۔
اٹھارہ ذی الحجہ کے دن حضرت علی (ع) بازار گئے تو لوگ آپ کے پیچھے لگ گئے اور خلافت سنبھالنے کی التجا کی ۔
حضرت علی (ع) اس سے بے نیاز ہوکر بنی عمرو بن مبذول کے باغ میں چلے گئے ۔اس باغ کے ارد گرد بہت بڑی دیوار تھی ۔حضرت علی (ع) نے ابی عمرہ بن عمر بن محصن کو حکم دیا کہ دروازہ بند کردو مگر تمام لوگ دروازے پر جمع ہوگئے اور دستک دینی شروع کی ۔
دروازہ کھلا تو مہاجرین وانصار کا مجمع اندر آیا ۔طلحہ وزبیر نے حضرت علی (ع) سے خلافت سنبھالنے کی پھر درخواست کی اور بیعت کیلئے ہاتھ بڑھانے کی التجا کی ۔
مہاجرین وانصار کے مسلسل اصرار پر آپ نے ہاتھ بڑھایا تو سب سے پہلے طلحہ نے بیعت کی اس کے بعد زبیر نے بیعت کی ۔
طلحہ کا ایک ہاتھ شل تھا اور جب وہ بیعت کر رہا تھا تو حبیب بن ذئیب نے کہا :- بیعت کی ابتداء مشلول ہاتھ سے ہوئی ہے (1)۔"
بیعت لینے کے بعد حضرت علی (ع) نے اپنے پہلے خطبہ میں اپنی حکومت کے خدوخال بیان کرتے فرمایا :-
اللہ تعالی نے ہدایت دینے والی کتاب نازل فرمائی ۔اس میں خیر وشر کا بیان موجود ہے ۔تم خیر کو اپناؤ اور شر کو چھوڑدو اور فرائض ادا کرو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تاریخ الامم والملوک۔جلد پنجم ۔ص 152۔153

206
بندگان خدا! اللہ کے بندوں اور شہروں کیلئے اللہ سے ڈرو تم سے ان کے متعلق باز پرس کی جائیگی اور تم سے تمہارے جانوروں تک کے متعلق بھی پوچھا جائیگا (1)
حضرت علی (ع) کا یہ خطبہ چند مختصر جملوں پر مشتمل ہے ۔ لیکن ان مختصر جملوں میں آپ نے رعایا کے تمام حقوق وفرائض بیان کردئیے ہیں ۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ حضرت علی (ع) اقتدار کے قطعی حریص نہ تھے انہوں نے بارحکومت اٹھانے سے کئی دفعہ معذرت کی اور جب لوگوں کا شدید اصرار ہوا تو فرمایا :-
"دعونی والتمسوا غیری فانّا مستقبلون امرا لہ وجوہ والوان لاتقوم لہ القلوب ولا تشبت علیہ العقول و انّ الافاق قد اغامت والمحجۃ قد کثرت واعلموا انی ان اجبتکم رکیت بکم ما اعلم ولم اصغر الی قول القائل وعتب العاتب "۔
"مجھے چھوڑو میرے علاوہ کسی اور کو تلاش کرو کیونکہ ہمارے سامنے ایسا امر ہے جس کے بہت سے چہرے اور مختلف رنگ ہیں ۔ جن پر دل قائم نہ رہ سکیں گے اور عقل اس پر ثابت نہ رہ سکے گی اس وقت آفاق ابر آلود ہوچکے ہیں اور راستے کا نشان مٹ چکا ہے اور تمہیں یہ بھی جاننا چائیے اگر میں نے تمہاری دعوت کو قبول کرلیا تومیں تمہیں اپنے علم کے مطابق چلاؤں گا اور کسی گفتگو کرنے والے کی بات پر کان نہیں دھروں گا اور کسی ناراض ہونے والے کی ناراضگی کو خاطر میں نہ لاؤنگا ۔"(2)
اس کے باوجود بھی لوگوں کا اصرار کم نہ ہوا تو حضرت علی نے اپنی دینی ذمہ داری کو قبول کرلیا اور درج ذیل جملے فرما کر لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیکا کہ :- میں اپنے قول کا ضامن ہوں گا ۔جو عبرت آشنا ہو اسے تقوی شبہات میں نہیں پڑتےدیتا ۔یاد رکھو آج سے تمہاری آزمائش پھر اسی طرح شروع ہوگئی جس طرح اسلام کی ابتدائی تبلیغ کے وقت ہوئی تھی ۔
جناب رسول خدا(ص) کو مبعوث بہ رسالت بنانے والے کی قسم ! تم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-ابن ابی الحدید۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ص 157
(2):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البالاغہ ۔ جلد دوم ص 170

210
سخت امتحان لیا جائے گا اور تمہیں آزمائش کی چھلنی میں سے گزارا جائے گا اور قضا وقدر کا کوڑا تم پر مسلط ہوگا ۔یہاں تک کہ تمہارے اسفل ،اعلی بن جائیں گے اور تمہارے طبقہ کے اعلی افراد اسفل بن جائیں گے اور پیچھے رہ جانے والے آگے بڑھ جائیں گے اور آگے بڑھنے والے پیچھے ہوجائیں گے ۔(1)
امام عالی مقام نے مذکورۃ الصدر جملے اس لئے فرمائے کیونکہ آپ کو علم تھا کہ لوگوں میں حق پرستی کا سابقہ جذبہ نہیں رہا ہے اور لوگ زرودولت کےپجاری بن چکے ہیں اور وہ آپ کی شرعی عدالت کے متحمل نہیں ہونگے اور شرعی عدالت کی وجہ سے ان کے مفادات ختم ہونگے تو وہ آپ کی مخالفت کریں گے مگر آپ کو اپنے "خط" سے ہٹا نہیں سکیں گے ۔
آپ نے لوگوں کے اصرار اور اپنے انکار کی تصویر کشی ان الفاظ سے کی ہے ۔" وبسطتم یدی ۔۔۔۔۔۔"یعنی تم نے میرے ہاتھ کو کھولا تومیں نے اپن ہاتھ سمیٹ لیا ، تم نے میرے ہاتھ کو پھیلانا چاہا تو میں نے اسے بند کرلیا ۔ پھر تم میرے پاس یوں کشاں کشاں چلے آئے جیسے پیاسے اونٹ پانی پینے کے دن اپنے گھاٹ پر جاتے ہیں ۔
تمہارے ازدحام کی وجہ سے میرا جوتا پھٹ گیا ،چادر گر گئی اور کمزور پامال ہوا ۔ " (2)
اس مفہوم کو آپ نے دوسرے خطبہ میں ان الفاظ سے بیان فرمایا :-
"تمہارے ازدحام کی وجہ سے حسنین پامال ہوئے ۔میرےپہلو زخمی ہوئے اور تم بکریوں کے ریوڑ کی طرح میرے گرد جمع ہوگئے اور جب میں نے منصب سنبھالا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور ایک گروہ حلقہ اطاعت سے نکل گیا اور ایک گروہ حق سے تجاوز کرگیا ۔"(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد اول ۔ص 90
(2):- ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص 181
(3):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد اول ص 67