المیہ جمعرات
 

قتل عثمان
حضرت عثمان کے رشتہ داروں نے اسلامی مملکت میں وہ ادھم مچایا کہ خدا کی پناہ ۔غریب ومظلوم عوام نے وفد تشکیل دئیے اور انہیں مدینہ بھیجا شاید کہ اصلاح احوال کی کوئی صورت نکل آئے ۔ لیکن مروان بن الحکم نے حضرت عثمان کو ہمیشہ غلط مشورے دئیے اور وفد کے ارکان انصاف سے مایوس ہوکر اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے گئے ۔
حضرت عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں بہت بڑا حادثہ یہ ہوا کہ مصر کے لوگ اپنے والی کی شکایت کرنے آئے اور حضرت عثمان سے مطالبہ کیا کہ اسے معزول کرکے کوئی اچھا سا حاکم مقرر کریں ۔
آخر کا ایک لمبی بحث وتمحیص کے بعد حضرت عثمان نے ان کا مطالبہ مان لیا ۔ایک نئے حاکم کا تقرر عمل میں لایا گیا اور سابق والی کی معزول کا فرمان بھی جاری کیا ۔
اہل مصر خوش ہوکر اپنے وطن جارہے تھے ۔ لیکن ابھی وہ لوگ ارض کنانہ تک پہنچے تھے کہ انہوں نے ایک اونٹنی سوار دیکھا جو معروف راستے سے

200
ہٹ کر جارہا ہے ۔ انہیں اونٹنی والے پر شک گزرا چنانچہ اس کا تعاقب کرکے اسے پکڑ لیا گیا ۔ اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے مشکیزے سے موم میں لپٹا ہوا ایک خط برآمد ہوا ۔ وہ خط حضرت عثمان کی جانب سے والی مصر کو لکھا گیا تھا ۔ جس میں اسے حکم دیا گیا تھا کہ جب یہ مفسد تیرے پاس آئیں تو ان کے سرغنوں کو قتل کردینا اور دوسروں کو سخت سزا دینا ۔
ان لوگوں نے اس حبشی غلام اور اونٹنی کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔حبشی غلام حضرت عثمان کا خادم تھا اور اونٹنی بھی بیت المال کی تھی ۔ خط کے نیچے حضرت عثمان کی مخصوص مہر بھی لگی ہوئی تھی۔
اہل مصر غلام اور اونٹنی سمیت واپس مدینہ آئے اور خلیفہ صاحب سے کہا کہ تم نے ہمارے ساتھ کیوں کیا ۔ تو خلیفہ صاحب نے حلفیہ طور پر کہا کہ یہ خط میں نے تحریر نہیں کیا ۔
ان لوگوں نے دریافت کی کہ کیا آپ س حبشی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ! جی ہاں یہ میرا خادم ہے ۔
انہوں نے پھر پوچھا اس اونٹنی کو بھی پہنچانتے ہیں ؟
خلیفہ صاحب نے فرمایا !جی ہاں یہ مہر بھی میری ہی ہے ۔
ان لوگوں نے کہا! جناب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اونٹنی بھی آپ کی ہو ۔غلام بھی آپ کا ہو اور مہر بھی آپ کی ہو لیکن خط آپ نے نہ لکھا ہو ۔
حضرت عثمان نے فرمایا ! خط میں نے نہیں لکھا ، یہ مروان کی کاروائی ہے ۔ ان لوگوں نے اس وقت نہایت معقول مطالبہ کیا کہ :-ہم آپ کی بات کو تسلیم کرتے ہیں ۔آپ بالکل بے گناہ ہیں ۔ سارا قصور مروان کا ہے ۔ آپ مروان کو ہمارے حوالے کردیں ۔اس کے بعد ہمارا آپ سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔
حضرت عثمان نے ان لوگوں کے اس مطالبہ کو بھی پائے حقارت سے

201
ٹھکرادیا انہوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا اور یہ محاصرہ ایک ماہ سے بھی زیادہ دیر تک رہا ۔ اس دوران حضرت عثمان کے اقرباء میں سے کسی نے بھی ان کی مدد نہ کی اور نہ ہی مدینہ میں کسی صحابی نے ان کی جان بچانے کی قابل ذکر حمایت کی ۔ آخر کار طویل محاصرہ کے بعد ان لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر میں گھس کر انہیں قتل کردیا (1)۔

قتل عثمان کے بعد بنی امیہ کی سازشیں
حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے ذکر سے پہلے ہم معاویہ اور مروان کی سازشوں کاذکر کرنا چاہتے ہیں ۔
حضرت عثمان کے قتل کے ساتھ ہی بنی امیہ نے حضرت علی علیہ السلام کی حکومت ختم کرنے کی سازشیں شروع کردی تھیں ۔
حضرت علی (ع) کے خلاف مسلحانہ تحریک شروع کرنے کے لئے انہوں نے مختلف افراد کو خط تحریر کئے ۔جن میں سے چند خطوط ہم اپنے قارئین کی نذر کرتے ہیں ۔:
قتل عثمان کے بعد مروان بن الحکم نے معاویہ بن ابی سفیان کو خط لکھا کہ :
"میں آپ کو یہ خط قتل عثمان کے بعد تحریر کر رہاہوں ۔باغیوں نے اس پر حملہ کیا اور ناحق قتل کردیا اور باغی ابر کی طرح کھل کر برسے ۔اور بعد ازاں ٹڈی دل کی طرح علی ابن ابی طالب کے پاس چلے گئے ۔
لہذا تم بنی امیہ کو اپنے ارد گرد جمع کرو اور ثریا ستاروں کے جھرمٹ میں تم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-اس واقعہ کی تفصیلات کے لئے الاصابہ فی تمیز الصحابہ کے صفحات 400سے 406 کا مطالعہ کیا جائے ۔ہم انے یہ واقعہ تلخیص کرکے نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں تمام کتب تاریخ میں یہی واقعہ لکھا ہوا ہے ۔

202
مرکزی ستارہ بن جاؤ ۔ اے ابو عبدالرحمن ! اگر تم عثمان کا بدلہ لینا چاہو تو تم اس کے لئۓ ہر طرح سے موزوں ہو "
جب یہ خط معاویہ کے پاس پہنچا تو اس نے لوگوں کو جمع کیا اور پر درد تقریر کی ۔ تقریر سن کر لوگ بے ساختہ رونے لگے اور ان کی آہ وفغاں کی آوازیں بلند ہوئیں ۔معاویہ کی تقریر اتنی موثر ثابت ہوئی کہ عورتوں نے بھی جنگ میں حصہ لینے کی پیش کش کی ۔
اس کے بعد معاویہ نے طلحہ بن عبیداللہ ،زبیر بن العوام ،سعید بن العاص ،عبداللہ بن عامر ،ولید بن عقبہ اور یعلی بن امیہ کو خطوط تحریر کئے ۔
معاویہ نے طلحہ کو درج ذیل خط لکھا ۔
"اما بعد تو اپنے چہرے کی خوبصورتی اور سخاوت وفصاحت کی وجہ سے قریش میں منفرد مقام رکھتا ہے ۔ تجھے اسلام میں سبقت کا شرف حاصل ہے ۔تو ان افراد میں شامل ہے جنہیں جنت کی بشارت دی گئی تھی ۔ احد کی لڑائی میں تجھے خاص شرف وفضیلت حاصل ہوئی تھی ۔ اس وقت رعیت جو تجھے منصب عطا کرے تو وہ منصب قبول کرلے اور اس منصب کی قبولیت کی وجہ نے اللہ تجھ سے راضی ہوگا ۔ میں اپنی جانب سے معاملہ تیرے لئے مستحکم کروں گا ۔زبیر تم سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ۔تم دونوں میں سے جو بھی امام بن جائے صحیح ہے ۔
دوسرے فرد کو اس کا ولی عہد بن جانا چاہئیے ۔"
معاویہ نے زبیر کو درج ذیل خط تحریر کیا ۔
"اما بعد زبیر ! تو رسول خدا کی پھوپھی کا فرزند ہے ۔رسول کریم کا صحابی ہے اور حضرت ابو بکر کا داماد ہے اور مسلمانوں کا شہسوار ہے ۔
تمہیں معلوم ہوا چاہئے کہ اس وقت رعیت متفرق بھیڑوں کی مانند ہوچکی ہے اس کا کوئی چرواہا موجود نہیں ہے ،تمہیں چاہیئے کہ لوگوں کی جانیں بچاؤ۔

203
میں اپنی طرف سے معاملہ خلافت کو تیرے اور تیرے ساتھی کے لئے مستحکم کرنا چاہتا ہوں ۔تم میں سے ایک امیر بن جائے اور دوسرا وزیر بن جائے ۔"
اس کے بعد معاویہ نے مروان بن الحکم کو درج ذیل خط تحریر کیا :-
"مجھے تمہارا خط موصول ہوچکا کہے ۔تمہارے خط کی وجہ سے امیر المومنین کے حالات کی اطلاع ملی ہے ۔جب تمہیں یہ خط پہنچے تو تم چیتے کی سی پھرتی پیدا کرنا ۔دھوکے سے شکار پھانسنا اور لومڑی کی طرح محتاط ہوجانا اور بچ بچ کرراہ چلتے رہنا اور ان حالات میں اپنے آپ کو اس طرح سے چھپانا جس طرح سے خار پشت کسی کے ہاتھوں کے لمس کو محسوس کرکے اپنا سرچھپا لیتا ہے ۔ اس وقت اپنے آپ کو یوں حقیر وبو سیدہ قراردے دو جس طرح وہ شخص اپنے آپ کو حقیر بنا لیتا ہے جو قوم کی امداد سے مایوس ہوچکا ہوتا ہے ۔ تم حجاز چھوڑ کر شام چلے آؤ ۔"
معاویہ نے سعید بن العاص کو درج ذیل خط لکھا ۔:-
" بنی امیہ ! تمہاری ذلت وخواری کے دن آگئے ہیں ۔ تمہیں معمولی رزق کے حصول کے لئے دور دراز کی مسافت طے کرنی ہوگی ۔ تمہارے واقف بھی تمہارے لئے ان جان بن جائیں گے ۔ تم سے تعلق رکھنے والے بھی تم سے جدا ہوجائیں گے ۔میں اپنی آنکھوں سے بنی امیہ کا یہ مستقبل دیکھ رہا ہوں کہ وہ پہاڑوں کی گھاٹیوں میں سر چھپاتے پھر رہے ہوں گے ۔تم لوگوں کو اپنی معاش کی فکر پڑجائے گی۔
امیر المومنین پر لوگ تمہاری وجہ سے ہی ناراض ہوئے تھے اور تمہاری وجہ سے ہی وہ قتل ہوئے ہیں ۔ اب تم نے اس کی مدد سے خاموشی کیوں اختیار کرلی ہے اور اس کے خون کے انتقام میں سستی کیوں روا رکھی ہے ؟
تم لوگ تو مقتول کے قریبی رشتہ دار ہو اور تم ہی اس کے خون کے وارث ہو ۔جب کہ تم نے معمولی متاع دنیا میں اپنے آپ کو مشغول کردیا ہے ۔

204
وہ تمام مال ومتاع جو تم نے امیر المومنین کی وساطت سے حاصل کیا تھا ۔ عنقریب تم سے چھن جائے گا ۔
علاوہ ازیں معاویہ نے عبداللہ بن عامر کو درج ذیل خط تحریر کیا :-
"بنی امیہ ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جلاوطن ہوکر اونٹوں کی پشت پر سوار ہو ۔ فساد پھیلنے سے پہلے تم مخالفین پر حملہ کردو۔
احتیاط کو اپنی سب سے بڑی ضرورت قرار دو اور ترغیب کے ہتھیار کو تیز کرو اور کانے مخالفین سے اپنی آنکھیں علیحدہ رکھو ۔جھگڑالو افراد سے کنارہ کشی کرو ۔دور رہنے والوں پر شفقت کرو ۔اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بلند کرو"۔
ولید بن عقبہ کویہ خط لکھا گیا :-
"اگر اقتدار تمہارے مخالفین کے ہاتھ میں چلا گیا تو تم شتر مرغ کی طرح ریت کے ٹیلوں میں سر چھپاتے پھروگے ۔ تمہیں گدلا پانی پینا پڑے گا اور خوف کا لباس زیب تن کرنا ہوگا ۔"
یعلی بن امیہ کو درج ذیل خط لکھا گیا :-
"مقتول خلیفہ پر جتنے الزامات عائد کئے گئے ہیں ان میں سر فہرست الزام یہی تھا کہ اس نے تجھے یمن کا حاکم بنایا تھا اور اتنے طویل عرصہ تک حکومت پر فائز رکھا تھا ۔ تجھ جیسے افراد کی وجہ سے لوگ خلیفہ پر ناراض ہوئے ۔انہیں قتل کردیا گیا ۔جب کہ وہ روزہ دار تھے اور قرآن کی تلاوت میں مصروف تھے ۔
تو جانتا ہے کہ مقتول خلیفہ کی بیعت کا قلادہ ہماری گردنوں میں پڑا ہوا ہے اور ان کا انتقام لینا ہمارا فریضہ ہے ۔ تو عراق میں داخل ہونے کی تیاری کر۔
میں نے شام میں اپنی حکومت مستحکم کرلی ہے تجھے شام سے بے فکر ہوجانا چاہئیے اور میں نے طلحہ بن عبیداللہ کو خط لکھا ہے کہ وہ مکہ میں تجھ سے ملاقات کرے ۔میں چاہتا ہوں کہ تم دونوں اپنی دعوت کے اظہار اور خون ناحق کے انتقام کے لئے

205
کوئی مناسب منصوبہ بندی کرو۔میں نے عبداللہ بن عامر کو بھی لکھ دیا ہے کہ وہ تمہارے لئے عراق کی زمین کو ہموار کرے ۔علاوہ ازیں تجھے یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ لوگ تجھ سے تیرا تمام مال عنقریب اگلوالیں گے ۔"
مروان نے معاویہ کے خط کے جواب میں تحریر کیا :-
"قوم کے محافظ عزتوں کے نگہبان معاویہ کو معلوم ہو کہ میں اپنی نیت کی درستگی اورعزم وارادہ کی پختگی اور رشتوں کی تقدیس پر قائم ہوں ۔ تمہاری طرح میرا خون بھی جوش مار رہا ہے ۔ لیکن میں کسی قول وفعل میں تم پر سبقت نہیں کرسکتا ۔
تو فرزند حرب ،انتقام لینے والا اور خود دار شخص ہے اور میں اس وقت اس گرگٹ کی طرح ہر وقت بھیس بدل رہا ہوں جو سخت گرمی میں تڑپ رہا ہو اور بڑی گہری نگاہوں سے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہوں ۔میری حالت اس وقت اس درندے کی سی ہے جو شکاری کے جال سے کسی طرح بچ گیا ہو اور اپنی ہی آواز سے خوف زدہ ہو ۔
میں تمہارے عزم وارادہ کامنتظر ہوں اور تمہارے احکام کے لئے گوش برآواز ہوں ۔ میں ہر حالت میں تمہارے حکم کی تعمیل کرنا چاہتا ہوں "۔
عبداللہ بن عامر نے معاویہ کے خط کے جواب میں تحریر کیا :-
"بلا شبہ امیر المومنین ہم پر سایہ کرنے والے پر کی طرح اور چھوٹے بچے اس کی پناہ لیا کرتے تھے ۔ لیکن افسوس ہے جب دشمنوں نے اس پناہ گاہ پر تیر چلائے تو ہم بھاگے ہوئے شتر مرغ کی طرح ان سے علیحدہ ہوگئے ۔میں تمہیں اس حقیقت سے باخبر کرنا چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں دس میں سے نو افراد آپ کے ہم نوا ہیں اور ایک آپ کا مخالف ہے ۔
خدا کی قسم ! ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے اور تو " حرب " کا فرزند ہے ۔ تو جنگوں کا جواں مرد ہے ۔بنی عبد شمس کی عظمت کا تو نگراں ہے ۔

206
اس وقت تمام تر تحریک تیری ذات سے ہی وابستہ ہے اور قبیلہ کو عزت دینے والا تو ہے اور عثمان کے بعد بنی امیہ کی امیدیں تجھ سے ہی وابستہ ہیں ۔ میں تمہارے حکم کا منتظر رہوں گا ۔"
ولید بن عقبہ نے معاویہ کو تحریر کیا :-
" تو عقل کے اعتبار سے قریش کا شیر ہے ۔فہم وفراست میں تو سب سے ممتاز ہے اور رائے کے لحاظ سے تو سب سے پختہ کار ہے ۔ تیرے پاس حسن سیرت کی دولت ہے اور تو ہی حکومت کی لیاقت رکھتا ہے ۔کیونکہ توجس بھی گھاٹ پر اترتا ہے تو دانش مندی سے اتر تا ہے اورجب تو کوئی گھاٹ چھوڑتا ہے تو علم وبصیرت سے چھوڑتا ہے ۔
نرمی کا تو سوال پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔عار نقص ہے ۔۔۔۔۔کمزوری ذلت ہے ۔میں نے اپنے نفس کو موت کے لئے آمادہ کرلیا ہے اور اسے زنجیروں میں جکڑ کر قابو کیا ہوا ہے جس طرح سے اونٹ کو باندھ دیا جاتا ہے ۔اب میں یا تو عثمان کی طرح قتل ہوجاؤں گا یا اس کے قاتل کو قتل کروں گا ۔
اس کے ساتھ ساتھ میرا عمل آپ کی رائے کے تابع ہوگا ۔کیونکہ ہم آپ کے ساتھ وابستہ ہیں اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں ۔"
یعلی بن امیہ نے اپنے خط میں لکھا :-
"ہم گروہ بنی امیہ اس پتھر کی طرح ہیں جو گارے کے بغیر اس دوسرے پر رکھا نہیں جاسکتا اور ہم تیغ بّراں ہیں ۔ مجھے وہ روئے جس کا میں بیٹا ہوں اگر میں عثمان کے انتقام کو فراموش کربیٹھوں ۔عثمان کے قتل کے بعد میں زندگی کو کڑوا محسوس کررہا ہوں ۔"
سعید بن العاص کا جواب مذکورہ خطوط سے مختلف تھا ۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔ جلد ہشتم ۔ص 84