المیہ جمعرات
 

178

حضرت عثمان کا صحابہ سے سلوک
بنی امیہ کے ظالم حکام نے مسلمان سے جو سلوک کیا وہ تاریخ کا ایک حصہ ۔لیکن حضرت عثمان نے بذات خود جو اجلہ صحابہ سے سلوک کیا وہ کسی طرح سے بھی مستحسن نہیں ہے ۔
تاریخ کے قارئین جانتے ہیں کہ عامۃ المسلمین کے ساتھ بنی امیہ نے اتنی بد سلوکی نہیں کی جتنی کہ حضرت عثمان نے جلیل القدر صحابہ کے ساتھ کی ۔
جب صحابہ کرام کی ممتاز جماعت نے حضرت عثمان کے عمال کی ان کے پاس شکایت کی اور یہ مطالبہ کیا کہ ایسے کہ ایسے قماش کے حکمرانوں کو معزول کیا جائے تو حضرت عثمان نے حسن تدبیر کی جگہ اکابر صحابہ کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔
حضرت عثمان کے تشدد کا نشانہ بننے والے افرادمیں حضرت عبداللہ بن مسعود شامل ہیں ۔قرآن مجید کی جمع وتدوین کے وقت ان کاآپس میں تنازعہ ہوا تو حضرت عثمان نے انہیں مطمئن کرنے کی بجائے انہیں درے مارنے کا حکم دیا ۔حضرت عثمان کے غلاموں نے ان پر بے تحاشہ تشدد کیا انہیں اٹھا کر زمین پر پٹکا گیا جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور اتنا تشدد کرکے بھی انہیں تسیکن نہ ہوئی تو انہوں نے ان کا وظیفہ بند کردیا ۔حضرت ابوذر غفاری کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا سلوک کیا گیا ۔
حضرت ابو ذر غفاری رسالت مآب کے عظیم المرتبت صحابی ہیں اور رسول خدا (ص) نے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ :- جنت ابو ذر کی مشتاق ہے ۔ جناب رسول خدا(ص) نے ابو ذر غفاری کے زہد وتقوی کی تشبہیہ حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام ے دی تھی ۔ اور ان کے متعلق رسول خدا(ص) کی مشہور حدیث وارد ہے :- " مااظلّت الخضرآء ولا اقلّت الغبراء اصدق من ذی لھجۃ من ابی ذر " آسمان نے

179
سایہ نہیں کیا اور زمین نے اپنی پشت پر کسی ایسے انسان کو نہیں بٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو ۔"
حضرت عثمان کے دور میں سرمایہ داری نظام کے عروج کو دیکھ کر حضرت ابو ذر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئے اور سارا دن مدینہ کے بازاروں میں سرمایہ داری کی مخالفت کیا کرتے تھے ۔ اور سورۃ توبہ کی آیت کی تلاوت فرماتے تھے ۔" والذین یکنزون الذھب والفضۃ ۔۔۔۔۔۔" یعنی جو لوگ سونا چاندی کے ڈھیر اکٹھے کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ،انہیں دردناک عذاب کی بشارت دو ۔جس دن دوزخ کی آگ میں سونا چاندی کو تپایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں ،پہلوں اور پشتوں کو داغا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ تمہارا ذخیرہ کردہ مال ہے ان کا مزہ چکھو ۔"
حضرت عثمان نے محسوس کیا کہ ابو ذر کی تعلیمات سے مدینہ کے غریب طبقہ کے لوگ متاثر ہورہے ہیں تو انہیں جلاوطن کرکے شام بھیج دیا گیا اور شام کے والی معاویہ بن ابی سفیان کو ان پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیاگیا ۔
حضرت ابو ذر کا شام میں بھی وہی رویہ وہا جو کہ مدینہ میں تھا ۔آخرالامر معاویہ نے انہیں درشت اونٹ پر سوار کرکے مدینہ روانہ کیا اور حضرت عثمان نے انہین مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ دی ۔ان کو عرب کے صحرائے ربذہ میں جلاوطن کیاگیا ۔ جہاں ان کے فرزند ذر کی وفات ہوگئی اور وہ اور ان کی بیٹی صحرا میں اکیلے رہ گئے ۔ چند دنوں کے بعد عالم غربت میں ان کی وفات ہوئی ۔اہل عراق کا ایک قافلہ وہاں سے گزرا تو انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے اس جلیل القدر صحابی کی تجہیز وتکفین کی ۔
بلاذری بیان کرتے ہیں کہ جب خلیفہ عثمان کو حضرت ابو ذر کی وفات کی خبر ملی تو حضرت عثمان نے کہا : اس پر اللہ کی رحمت ہو ۔

180
حضرت عمار نے فرمایا :- اس کے جلا وطن کرنے والے کے متعلق کیا خیال ہے ؟ تو حضرت عثمان نے بڑے تیز وتند لہجے میں عمار سے کہا:- کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ میں ابو ذر کو جلاوطن کرکے نادم ہوں ۔
اس کے بعد حضرت عثمان نے جناب عمار بن یاسر کی جلاوطنی کے احکام جاری کئے اورکہا کہ تو بھی ربذہ چلا جا ۔
حضرت عمار نے جلاوطنی کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کرلی تو ان کے قبیلے بنو مخزوم کے افراد داد رسی کے لئے حضرت علی (ع) کے پاس آئے ۔ حضرت علی (ع) عثمان کے پاس گئے اور فرمایا :- خدا کا خوف کر تو نے پہلے ہی ایک صالح مسلمان کو جلاوطن کیا ہے ۔اور وہ بے چارہ جلاوطنی میں فوت ہوچکا ہے اور پھر تو اس واقعہ کو دہرانے کا خواہش مند ہے ۔ان دونوں کے درمیان کافی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ خلیفہ عثمان نے حضرت علی سے کہا :- عمار کے بجائے جلاوطنی کا زیادہ حقدار تو ہے ۔
حضرت علی (ع) ن ےفرمایا اگر تجھ میں جراءت ہے تو ایسا کرکے بھی دیکھ لے ۔بعد از اں مہاجرین جمع ہوکر خلیفہ کے پاس آئے اور کہا:- جب بھی کسی شخص نے تم سے گفتگو کی ہے تم نے اسے جلاوطن کردیا ہے ۔تمہاری یہ روش اچھی نہیں ہے ۔(1)
حضرت عمار کی جلاوطنی کے احکام انہیں مجبورا واپس لینے پڑے ۔حضرت عمار جیسے جلیل القدر صحابی کو جس وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کی مزید تفصیل علامہ عبد الفتاح عبد المقصود کی زبانی سماعت فرمائیں ۔" بہت سے صحابہ نے بنی امیہ کے ظالم عمال کی شکایات کے لئے ایک مشترکہ خط تحریر کیا ۔ حضرت عمار وہ خط لے کر خلیفہ صاحب کے پاس گئے ۔جب عمار خلیفہ عثمان کے دربار میں پہنچے تومروان نے حضرت عثمان سے کہا ۔ یہ کالا حبشی غلام لوگوں کو آپ کے خلاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- انساب الاشراف ۔جلد پنجم ص 54-55

181
برانگیختہ کررہا ہے ۔اگر آج آپ اسے قتل کردیں تو آیندہ کے فتنہ سے محفوظ ہوجائیں گے ۔"
حضرت عثمان نے مروان کی رائے کو پسند کیا اور عصا اٹھا کر حضرت عمار کو بے تحاشا مارا ۔خلیفہ کے خاندان کے افراد نے بھی انہین مارنے میں کوئی کسرباقی نہ اٹھا رکھی ۔
ان ظالمانہ ضربات کی وجہ سے انہیں "فتق" کا عارضہ لاحق ہوگیا ۔
حضرت عمار بے ہوش ہوگئے ۔خلیفہ کے نوکروں نے انہیں پکڑ کر برستی ہوئی بارش اور ٹھنڈے موسم میں سڑک کے کنارے ڈال دیا (1)" اسی دور میں عدل اجتماعی ختم ہوچکا تھا اور اسلامیہ پر ظلم وجور کے سائے منڈلارہے تھے ۔
محقق معاصر ڈاکٹر طہ حسین نے بالکل درست لکھا ہے کہ :- دور عثمانی کے لئے اہل سنت اور معتزلہ کو حضرت عثمان کے عمال کی ہی صفائی نہیں دینی پڑے گی بلکہ انہیں حضرت عثمان کے اعمال کی بھی وجہ دینی ہوگی انہوں نے عظیم المرتبت صحابہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار بن یا سر کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ کسی طور پر صحیح نہیں ہے ۔
حضرت عمار کو اتنا مارا گیا کہ انہیں "فتق "لاحق ہوگیا اور حضرت عبداللہ بن مسعود کو بے عزت کرکے مسجد سے نکالا گیا اور تشدد کے ذریعے ان کی پسلیاں توڑ ڈالی گئیں ۔
ان دو عظیم المرتبت انسانوں کے ساتھ حضرت عثمان نے جو سلوک کیا تھا صرف اپنے عمال کی زبان پراعتماد کیاگیا تھا ۔ ان دونوں بزرگواروں پر باقاعدہ کوئی مقدمہ چلایا گیا تھا اور نہ ہی فریقین سے بیان لئے گئے تھے اور کسی واضح اور ٹھوس ثبوت کے بغیر ان کو وحشیانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلددوم ۔ص 34

182
تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔
یقینا حضرت عثمان کو ایسا کرنے کا کوئی قانونی اور شرعی اختیار حاصل نہ تھا ۔ حضرت ابو ذر کی مثال کو ہی لے لیں ۔ ان کا جرم صرف یہی تھا کہ انہوں نے ان کی مالیاتی پالیسی بالخصوص اقرباء پروری یعنی بنی امیہ نوازی کو ہدف تنقید بنایا تو انہیں اس کی پاداش میں مدینہ سے نکال دیاگیا ۔
حضرت عثمان نے صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے حکام و عمال کو کھلی چھٹی دے دی کہ وہ جس کو چاہیں جلاوطن کریں اس کی اجازت کے ملنے کے بعد ان کے عمال کبھی اپنے مخالفین کو کوفہ سے شام جلاوطن کرنے لگے اور کبھی شام سے بصرہ اور کبھی بصرہ سے مصر جلاوطن کرتے تھے ۔ گویا جلاوطن کرکے معاویہ کے پاس بھیجتا تھا ۔ اور معاویہ لوگوں کو جلاوطن کرکے سعید کے پاس بھیجتا اور سعید عبدالرحمن بن خالد کی طرف جلاوطن کردیتا تھا ۔ مظلوم لوگوں کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا اور ان کو کسی قسم کی صفائی کا موقع بھی فراہم نہیں کیا جاتا تھا (1)۔

عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت
حضرت عبداللہ بن مسعود کی داستان مظلومیت خاصی عبرت انگیز ہے ۔ان کے مصائب کی ابتداء اس وقت ہوئی جب حضرت عثمان کا مادری بھائی ولید بن عقبہ کوفہ کا گورنر بن کے آیا ۔ جناب عبداللہ بن مسعود اس وقت کوفہ کے بیت المال کے خازن تھے ۔
ولید نے ان سے ایک بڑی رقم بطور قرض مانگی انہوں نے دے دی ۔چند دنوں کے بعد ولید نے ایک اور بھاری رقم نکالنے کا حکم دیا ۔ تو انہوں نے انکار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ڈاکٹر طہ حسین مصری ۔ الفتنتہ الکبری ۔عثمان بن عفان ۔ص 198-199

183
کردیا ۔ولید نے حضرت عثمان کی طرف ایک خط لکھا جس میں بیت المال کے خازن کے اس طرز عمل کی شکایت کی ۔
حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو خط لکھا کہ تم ہمارے مال کے خازن ہو ۔لہذا تم ولید کو مال لینے سے منع نہ کرو
حضر ت عبداللہ بن مسعود نے یہ خط پڑھ کر چابیاں پھینک دیں اور کہا کہ :- میں اپنے آپ کو مسلمانوں کا خازن تصور کرتا تھا اور اگر مجھے تمہارا خازن بننا ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
بیت المال کو چھوڑنے کے بعد وہ کوفہ میں مقیم رہے ۔
ولید نے سارا واقعہ خط میں لکھ کر حضرت عثمان کو روانہ کیا ۔حضرت عثمان نے ولید کو لکھا کہ اسے کوفہ سے نکال کر مدینہ بھیج دو ۔حضرت ابن مسعود نے کوفہ چھوڑا اور اہل کوفہ نے ان کی مشایعت کی اور ابن مسعود نے انہیں اللہ کے تقوی اور تمسک بالقرآن کی وصیت کی ۔اہل کوفہ نے ان سے کہا ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔آپ نے ہمارے جاہلوں کو تعلیم دی اور دین کی سمجھ عطا کی ۔
ابن مسعود مدینہ آئے اس وقت حضرت عثمان منبر رسول پر خطبہ دے رہے تھے ۔جب ان کی نظر ابن مسعود پر پڑی تو کہا:- وہ دیکھو برائی کا کیڑا تمہارے پاس آیا ہے ۔
ابن مسعود نے کہا :- میں ایسا نہیں ہوں میں تو پیغمبر اکرم کا صحابی ہوں ۔حضرت عثمان نے اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ اسے مسجد سے ذلت کے ساتھ باہر نکال دیں اور عبداللہ بن زمعہ نے انہیں اٹھا کر پوری قوت کے ساتھ زمین پہ پٹکادیا ۔ جس کی وجہ سے ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود مدینہ میں رہے ۔عثمان انہیں مدینہ سے باہر

184
جانے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔
قتل عثمان سے دو برس قبل ان کی وفات ہوئی وفات سے چند روز قبل حضرت عثمان ان کی عیادت کے لئے آئے تو پوچھا ۔
عثمان :- آپ کو کونسی بیماری کی شکایت ہے ؟
ابن مسعود :- اپنے گناہوں کی ۔
عثمان :- کیا میں طبیب کو بلاؤں ؟
ابن مسعود :- طبیب نے تو بیماری دی ہے
عثمان :- آپ کیا چاہتے ہیں ؟
ابن مسعود :- اپنے رب کی رحمت ۔
عثمان :- کیا میں تمہار وظیفہ جاری کردوں ؟
ابن مسعود:- جب مجھے ضرورت تھی تو تم نے روک لیا تھا ۔ اب جبکہ میں موت کے استقبال کے لئے آمادہ ہوں تو میں وظیفہ لے کر کیا کروں گا؟
عثمان:- وظیفہ سے آپ کی اولاد کی گزر بسر اچھی ہوگی ۔
ابن مسعود :- ان کا رازق اللہ ہے ۔
عثمان :- عبدالرحمان کے ابا! میری بخشش کے لئے اللہ سے دعا مانگیں ۔
ابن مسعود :- میری خدا سے درخواست ہے کہ تجھ سے میرا حق وصول کرے ۔
حضرت ابن مسعود وصیت کرکے گئے تھے کہ ان کی نماز جنازہ میں عثمان شامل نہ ہوں (1)-
حضرت عثمان کے طرز عمل پر لوگوں نے اعتراضات کئے ہیں ۔ کچھ اعتراضات تو ان واقعات کی وجہ سے ہوئے ہیں جو ہر لحاظ سے روح اسلام ،سنت نبوی اور سیرت شیخین کے خلاف تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- البلاذری ۔انساب الاشراف ۔جلد چہارم ۔ص 27