المیہ جمعرات
 

148
سقیفہ کا تیسرا چہرہ

3:- حضرت عثمان بن عفان:-
فقام ثالث القوم نافجا حفنیہ بین نشیلہ و معتلفہ وقام معہ بنو ابیہ یخصمون مال اللہ خصمۃ الابل نبتۃ الربیع الی ان انتکت قتلہ واجھز علیہ عملہ وکبّت بہ بطنتہ فماراعنی الا والناس کعرف الضبع الی ینثالون علی من کیل جانب حتی لقد وطئی الحسنان وشق عطفای مجتمعین حولی کربیضۃ الغنم ۔۔۔۔۔۔(الامام علی بن ابی طالب علیہ السلام)
"پھر اس قوم کا تیسرا شخص پیٹ پھلائے سرگین اور چارے کے درمیان کھڑاہوا اور اس کے ساتھ اس کے بھائی بند اٹھ کھڑے ہوئے ۔جو مال کو اس طرح نگلتے تھے جس طرح اونٹ فصل ربیع کا چارہ چرتا ہے ۔
یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کی بد اعمالیوں نے اس کا کام تمام کردیا اور شکم پری نے اسے منہ کے بل کرادیا ۔اس وقت مجھے لوگوں کے ہجوم نے دہشت زدہ کردیا جو میری جانب بجو کے ایال کی طرف سے لگا تار بڑھ رہا تھا ۔یہاں تک کہ عالم یہ ہوا کہ حسن اور

149
حسین کچلے جارہے تھے اور میری ردا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے ۔مگر اس کے باوجود جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی ،دوسرا دین سے نکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کرلیا ۔گویا انہوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا کہ "یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لئے قراردیا ہے جو دنیا میں نہ بے جا بلندی چاہتے ہیں اور نہ فساد پھیلاتے ہیں اور اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہے ۔"
ہاں ہاں خدا کی قسم! ان لوگوں نے اس کو سنا تھا اور یاد کیا تھا ۔لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھب گیا اوراس کی سج دھج نے انہیں لبھا دیا ۔ دیکھو اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے ۔کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون وقرار سے نہ بیٹھی تو میں خلافت کی باگ دوڑ اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سےسیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کومیری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ قابل اعتنا نہ پاتے (1)۔"
حضرت عمر کی وفات کے بعد عبدالرحمن بن عوف کی "خصوصی عنایت " کے ذریعے سے حضرت عثمان بر سر اقتدار آئے ۔
اقتدار پر فائز ہوتے ہی انہوں نے پہلا کا یہ کیا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں بنی امیہ اور آل ابی معیط کو حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز کردیا ۔ان میں ایسے حکام بکثرت تھے جنہوں نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا ۔ان کے دلوں میں تعلیمات اسلام کی بجائے امیہ بن عبدالشمس اور حرب اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-نہج البلاغہ خطبہ شقشقیہ سے اقتباس۔

150
ابو سفیان اور ہند بنت عتبہ اور معاویہ کی تعلیمات جاگزیں تھیں ۔
حضرت عثمان نے امور مملکت کے لئے اسلام دشمن عناصر اورمردان بن حکم جیسے لوگوں کی خدمات حاصل کیں اور یوں ان لوگوں کے ہاتھوں اسلامی تعلیمات مسخ ہوگئیں ۔
اموی اقتدار نے عالم عرب میں فساد وفسق کی تخم ریزی کی ۔ان کے اقتدار کے نتیجہ میں لوگوں میں ہوس زر پروان چڑھی اور احقاق حق اور ابطال باطل کے اسلامی جذبات کے بجائے قبائلی اور خاندانی عصبیوں نے جنم لیا ۔
اس مقام پر ہم عالم عرب پر اموی اقتدار کے منحوس نتائج پر بحث نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم اپنی اس بحث کو خلیفہ ثالث کے عہد تک محدود رکھنا چاہتے ہیں کہ اس دور میں بنی امیہ پر کیا کیا نوازشات ہوئیں اور ان نوازشات کی وجہ سے گمنام خاندان نے کس طرح اپنی حیثیت تسلیم کرائی ، اور کس طرح سے انہوں نے آئندہ کے لئے اپنی راہ ہموار کی ۔لیکن اس سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بنی امیہ کی اسلام دشمنی کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جائے ۔

بنی امیہ کی اسلام دشمنی

جنگ بدر
جنگ بدر کا معرکہ بنی امیہ کی اسلام دشمنی کی بولتی ہوئی تصویر ہے ۔اس میں معاویہ کا بھائی حنظلہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدالشمس قتل ہوا ۔
حضرت عثمان کے قریبی اعزا میں سے عاص بن سعید عاص اور عبیدہ بن سعید بن عاص اور ولید بن عقبہ بن ربیعہ بن عبدالشمس اوریہ معاویہ بن ابی

151
سفیان کا ماموں تھا اور اس کی جگر خوار ماں ہند کا بھائی تھا اور شبیہ بن ربیعہ بن عبدالشمس اور عقبہ بن ابی معیط جو کہ حضرت عثمان کے مادری بھائی ولید کا باپ تھا ، یہ سب اموی قتل ہوئے تھے ۔ علاوہ ازیں بہت سے اموی جنگ بدر میں قیدی بھی ہوئے تھے جن میں ابو العاص بن ربیع بع بعدالعزی بن عبد الشمس اور حرث بن وجزہ بن ابی عمر بن امیہ بن عبد الشمس سرفہرست تھے اور ان کے علاوہ معاویہ کا بھائی عمر و بن ابی سفیان جو کہ عقبہ بن ابی معیط کا داماد تھا "وہ بھی قیدیوں میں شامل تھا ۔
ابو سفیان کے کسی ساتھی نے اسے مشورہ دیا کہ اپنے بیٹے کو چھڑانے کے لئے فدیہ ادا کرو ۔ابو سفیان نے کہا کیا میرے ہی گھرانے قتل ہوا ہے اور فدیہ بھی میں نے ہی دینا ہے ؟ میرے ایک بیٹے حنظلہ کو قتل کیا جاچکا ہے اور اب میں دوسرے بیٹے کا فدیہ دے کر محمد (ص) کو مالی طورپر مضبوط کروں ؟ کوئی بات نہیں مینن اپنے بیٹے کرے لئے فدیہ ادا نہیں کروں گا ۔اسی اثناء میں ایک مسلمان جس کا نام سعد بن نعمان اکال تھا وہ اپنے بیٹے کے بدلے قید کرلیا اور کہا کہ مسلمان اس کی آزادی کے بدلہ میں جو فدیہ مجھے دیں گے میں وہی فدیہ دے کر اپنے بیٹے کو آزاد کراؤں گا اور اس سلسلہ میں ابو سفیان کے شعر بھی مشہور ہیں ۔
معاویہ کا نانا عتبہ جنگ بدر میں قتل ہوا تھا ۔اس کی بیٹی اور معاویہ کی ماں ہند اپنے مقتول باپ پر یہ مرثیہ پڑھا کرتی تھی ۔
یریب علینا دھرنا فیسوؤنا ۔۔۔۔ویا بی فما ناتی بشی نغالمہ
فابلغ اباسفیان عنی مالکا ۔۔۔۔ فان القہ یوما فسوف اعاتیہ

152
فقد کان حرب یسعر الحرب انہ ۔۔۔۔ لکل امری فی الناس مولی یطالبہ
"آج زمانے ک گردش ہماری مخالف ہوچکی ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم زمانے کی گردش پہ غالب آسکیں ۔"
ابو سفیان !میری طرف سے مالک تک یہ پیغام پہنچادو اگر میں اس سے کسی دن ملی تو اسے ملامت کروں گی ۔
حرب تو جنگ کی آگ بھڑکا یا کرتا تھا اور یاد رکھ لو ہر شخص کا کوئی نہ کوئی وارث ہوتا ہے جو اس کے قصاص کا مطالبہ کرتا ہے "۔
جنگ بدر میں بنی امیہ کا بے تحاشا جانی اور مالی نقصان ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کی عداوت کے شعلے مزید بھڑک اٹھے تھے اور دلی کدورتوں کو مزید جلا مل گئی تھی اور وہ ہمیشہ بدر کا انتقام لینے کی سوچتے رہتے تھے ۔ دشمنان مصطفی میں ابو سفیان سر فہرست تھا ، اس نے کفار قریش کو ایک نئی جنگ کے لئے آمادہ کیا اور باقی عرب کو ہم نوا بنانے کے لئے افراد کو سفیر بنایا گیا ۔ جن میں عمرو بن عاص پیش پیش تھا ۔جنگ احد کے لئے ابو سفیان اپنے ساتھ کفار کا ایک لشکر لے کر روانہ ہو اور کفار کو مزید ترغیب دینے کے لئے عورتوں کو بھی ساتھ لایا گیا تھا ۔
جن میں معاویہ کی ماں ہند اور خالد بن ولید کی بہن فاطمہ بنت ولید اور عمر وعاص کی بیوی ریطہ بنت منبہ شامل تھیں ۔ یہ عورتیں دف بجا کر مردوں کو لڑنے کی ترغیب دیتی تھیں اور اپنے مقتولین پر مرثیہ خوانی کرتی تھیں ۔
دوران سفر ہند کا گزر جب بھی" وحشی " کے پاس سے ہوتات تو کہتی :" ابو دسمہ" میرے جذبات کو ٹھنڈا کر اور تو بھی آزادی حاصل کر "۔
خالد بن ولید سواروں کی ایک جماعت کا سالار تھا اور ابو سفیان لات و

153
عزی کو اٹھا کر لایا تھااور ان کے پیچھے ہند دل سوز آواز مین دف کی تال پر جنگی گانے گارہی تھی جس کے چند فقرات یہ ہیں ۔"

نحن بنات طارق ۔۔۔نمشی علی النمارق
ان تقبلوا نعائق ۔۔۔ ونفرش النمارق
او تدبروا نفارق۔۔۔فراق غیر وافق
ہم ستاروں کی بیٹیاں ہیں ۔ نرم ونازک قالینوں پر چلنے والیاں ہیں ۔
آج تم اگر جنگ کروگے تم ہم تمہیں گلے لگائیں گی اور تمہارے لئے قالین بچھائیں گی
اور اگر آج تم نے پشت دکھائی تو ہم تم سے جدا ہوجائیں گی اور تم ہم سے ہماری کوئی رسم و راہ نہ ہوگی ۔"
جنگ احد میں عمر بن عاص بھی رجز پڑھ رہا اور شعر وشاعری کے ذریعے کفار کی ہمت افزائی میں پیش پیش تھا ۔
جنگ احد میں مسلمان تیر اندازوں کی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ خالد بن ولید مسلمان فوج کے عقب میں حملہ آور ہوا ،مسلمان فوج کے قدم اکھڑگئے ، صفیں منتشر ہوگئیں اور بہت سے جانبازان اسلام شہید ہوئے ۔جن میں رسول خدا کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہ بھی شامل تھے۔
جنگ کے اختتام پر امیر معاویہ کی "والدہ ماجدہ" نے شہدا ئے احد کی لاشوں کی بے ادبی کی ۔شہدائے اسلام کے ناک اور کان کاٹے ان سے ہار تیار کیا اور گلے میں پہنا ۔اس پر بھی اس کی آتش انتقام ٹھنڈی نہ ہوئی تو حضرت حمزہ کا سینہ چاک کرکے ان کے جگر کو چبانا شروع کردیا جگر چبانے کے بعد ایک چٹان پر کھڑی ہوکر کہا :

154
"آج ہم نے بدرکا بدلہ لے لیا ہے ۔آج میں نے اپنے باپ ،بھائی اور چچا کا انتقام لے لیا ہے ۔"
حلیس بن زبان کی روایت ہے کہ میں نے احد میں ابو سفیان کو دیکھا وہ امیر حمزہ کے مردہ جسم کو ٹھوکریں مار کر کہتا تھا میری ٹھوکروں کا مزہ چکھ۔
وہاں سے جاتے وقت پھر ابو سفیان نے اعلان کیا کہ آیندہ سال ہم پھر بدر کے مقام پر تم سے جنگ کریں گے ۔
اس کے بعد ابو سفیان نے اسلام اوررسول اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ابو سفیان کی بدولت ہی جنگ خندق پیش آئی۔ابو سفیان نے مسلمانوں کے مرکز مدینہ طیبہ کو تباہ کرنے کے لئے مدینہ کے یہودیوں سے سازباز کی ۔
یہی ابو سفیان ہی تھا جس نے مہاجرین حبشہ کو نجاشی کے ملک سے نکالنے کے لئے عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ پر مشتمل سفارت روانہ کی ۔
الغرض ہر طرح کی حرکتیں کرنے کے باوجود بھی جب بنی امیہ اسلام کو نہ مٹاسکے تو انہوں نے اسلام کو مٹانے کی ایک او رتدبیر کی اور سوچا کہ ہماری مخالفت کے باوجود اسلام ختم نہیں ہوا تو ہمیں چاہئیے کہ ہم مسلمان ہوجائیں اور اس طرح سے دو فائدے حاصل کرسکیں گے ۔اول اپنی جان بچائیں گے دوم مستقبل میں اسلام کےپیکر پر کاری ضرب لگانے کے بھی قابل ہوجائیں گے یعنی ان کی سوچ صرف یہی تھی کہ اگر بیرونی جارحیت کی وجہ سے ہم اسلام کو نقصان نہیں پہنچاسکے تو اندرونی سازشوں کے ذریعے سے اسلام سے انتقام لیا جاسکتا ہے اور فتح مکہ کے وقت انہوں نے اپنی تدبیر پر حرف بہ حرف عمل کیا ۔