المیہ جمعرات
 

131

مجلس شوری کا تجزیہ
شوری اور شوری ممبران کے متعلق آپ نے حضرت عمر کے نظریات ملاحظہ فرمائے ۔انہون نےممبران کے متعلق اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار فرمایا ۔حضرت عمر نے محدود شوری تشکیل دی تھی جب کہ اس حساس مسئلہ کے لئے وسیع البنیاد شوری کی ضرورت تھی ۔
1:- حضرت عمر نے شوری کو مشروط بنادیا تھا ، انہیں آزادی فکر کی اجازت نہیں دی گئی ۔
2:- شوری کے ہاتھ پاؤں اس طرح سے باندھ دئیے گئے کہ محافظ کو یہ حکم صادر کیا گیا کہ ان میں سے جو بھی اکثریتی رائے سے اختلاف کرے ،اسے بلا تامل موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔
3:- اگر دونوں طرف سے ممبران کی تعداد برابر ہو تو پھر عبدالرحمن بن عوف کی پارٹی کو ترجیح دی جائے آخر عبدالرحمن ابن عوف کی رائے کو ہی آخری اور حتمی رائے قراردینے کی کیا ضرورت تھی ؟
4:-کیا عبد الرحمن بن عوف کی رائے کو اس لئے تو فیصلہ کن نہیں قرار دیا گیا کہ انہوں نے دس برس پہلے حضرت ابوبکر کے استفسار پرحضرت عمر کی حمایت کی تھی ؟
5:- کیا قرآن وسنت میں اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ جو عبدالرحمن بن عوف کی رائے کی مخالفت کرے وہ واجب القتل ہے ؟
6:- ایک مومن کے قتل کی سزا تو اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے "ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا عظیما " جو کوئی جان بوجھ کر مومن قتل کرے ان کی جزا جہنم ہے وہ اس

132
میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے "۔
جب کہ ایک عام مومن کے قتل کی یہ سزا یہے تو اصحاب رسول اور وہ بھی حضرت کے بقول جن سے رسول خدا راضی ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، ان کے قتل کی سزا کیا ہوگی ؟
7:- برادران اہل سنت اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا : میرے بعد صحابی ستاروں ک طرح ہیں ۔تم جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔
توکیا مذکورہ حدیث حضرت عمر کے پیش نظر نہ تھی کہ ان ستاروں کا اختلاف امت اسلامیہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے ۔ آخر انہوں نے اختلافی ستاروں کو قتل کرنے کا فرمان صادر کیوں فرمایا ؟
8:-کیا دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں حزب اختلاف کو قتل کرنا درست سمجھا جاتا ہے ؟
9:- کیا عبدالرحمن بن عوف کی شخصیت حق وباطل کا معیار تھی کہ ان کی رائے سے اختلاف کرنے والا گردن زدنی قرار دیا جائے ؟
10 :- حضرت عمر اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس نظریہ کے قائل رہے تھے کہ خلیفہ مقرر نہ کرنا سنت رسول ہے اور حضرت ابو بکر کی سنت ہے ۔تو آخر وہ کونسی وجوہات تھیں کہ جن کی وجہ سے حضرت عمر نے رسول خدا(ص) کی سنت کو چھوڑ کر سنت ابو بکر کی پیروی کی؟
11:-قرآن مجید میں رسول خدا کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے راستے سے انحراف کرنے سے منع کیاگیا ہے ۔اس کے باوجود وہ علل واسباب کیا تھے جن کی بنا پر اتباع رسول کو چھوڑنا پڑا ۔؟
12:- خلافت کو صرف چھ افراد میں منحصر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور ان

133
کے علاوہ پوری امت اسلامیہ میں کوئی جوہر قابل نہیں تھا ؟
13:- اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ ان سے رسول خدا (ص) راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ،تو ہمیں اس جواب کے تسلیم کرنے میں تامل ہوگا کیونکہ شوری ممبران میں سے طلحہ بن عبیداللہ کے متعلق خود حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ :
تمہاری اس غلط گفتگو کی وجہ سے رسول خدا (ص) مرتے دم تک تجھ سے ناراض تھے ۔ جب ایسے فرد بھی شوری میں شامل تھے تو یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ ان افراد کی تعیین رضائے رسول کی وجہ سے عمل میں آئی تھی ؟
14:- اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ان افراد سے رسول خدا (ص) راضی تھے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان چھ افراد کے علاوہ حضور کریم باقی تمام صحابہ اور امت اسلامیہ سے ناراض تھے ؟
15:- اگر کہا جائے کہ ایسا نہیں ہے تو پھر ان کی وجہ کیا قرارپائے گی کہ رسول خدا تو ہزاروں افراد سے راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوں اور خلافت کو صرف چھ افراد میں محدود کیا جائے ؟
16:-سعید بن عمرو بن نفیل کے متعلق حضرت عمر نے خود اعتراف کیا کہ ان میں شوری کی شمولیت کی جملہ صفات موجود نہیں ہیں ۔اس کے باوجود انہیں شوری کا ممبر کیوں نہ بننے دیا گیا ؟
17:- حضرت علی کے متعلق خلیفہ ثانی نے جو تبصرہ کیا کہ ان میں مزاح زیادہ ہے ۔تو کیا حضرت عمر کے علاوہ بھی کسی نے حضر ت علی کے متعلق یہ رائے دی تھی ؟
18:- کیا حضرت علی کی زندگی کا مطالعہ صرف حضرت عمر کو ہی نصیب ہوا تھا ۔ان کے علاوہ حضرت علی کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل تھی ؟
اگر ان کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل نہ تھی تو باقی دنیا کو علی میں مزاح

134
کا عیب آخر کیوں نظر نہ آیا ؟
اس کے لئے ابن عباس کا یہ قول بھی ہمیشہ مدنظر چاہئیے کہ حضرت علی (ع) اتنے بارعب تھے کہ ہم ان کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے گفتگو کا آغاز کرنے سے گھبرایا کرتے تھے ۔
19:-شوری کے لئے جن افراد کو چنا گیا ، کیا ان سب کی اسلامی خدمات یکساں تھیں یا ان میں کچھ فرق بھی تھا؟اوراگر فرق اور یقینا تھا تو پھر حضرت عمر نے ان سب کو ایک ہی صف میں کیوں لا کھڑا کیا ؟۔
20:- کیا شوری ممبران کے ایک دوسرے سے خاندانی اور عائلی روابط تو نہ تھے ؟
21:- اگر ان کے درمیان عائلی روابط موجود تھے تو کیا وہ قرابت داری کی وجہ سے کسی کی ناجائز حمایت بھی کرسکتے تھے یا نہیں ؟
22:-کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ طلحہ کا تعلق حضرت ابو بکر کے خاندان بنی تمیم سے تھا اور اس خاندان کی علی سے تعلقات کی نوعیت پیچ پیچ تھی ؟
23:- سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف کا تعلق بنی زہرہ سے تھا اور بنی زہرہ کے یہ دونوں چشم وچراغ بنی امیہ سے قریبی رشتہ داری رکھتے تھے ۔سعد بن ابی وقاص کی ماں حمنہ بنت سفیان تھی اور وہ حضرت عثمان کی بہن تھیں اور کیا اس نازک مرحلہ پر یہ امید کی جاسکتی تھی کہ عبدالرحمن اپنی بیوی کے بھائی کو چھوڑ کر کسی اور کی حمایت کریں گے؟
24:- حضرت علی کے متعلق حضرت عمر کے ریمارکس کو اگر درست بھی

135
تسلیم کرلیا جائے تو کیا حس مزاح کی وجہ سے کسی کو حق سے محروم ٹھہرانا درست ہے ؟
25:- مورخ طبری کی روایت آپ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عمر نے خود کہا تھا کہ علی لوگوں کو حق پرچلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اگر یہ بات درست تھی اور یقینا درست بھی ہے تو پھر وہ کونسے عوامل تھے جس کی بنیاد پر علی (ع) کے انتخاب کو مشکوک بنایا گیا؟ علاوہ ازیں شوری کے اجلاس میں جو "پھرتیاں " دکھائی گئیں وہ بھی قابل توجہ ہیں ۔
26:-عبد الرحمن بن عوف نے بڑی چالاکی دکھائی اور اپنے آپ کو خلافت کی امیدواری سے دستبراری کرلیا تا کہ لوگ ان کی غیر جانبداری پر کوئی تنقید نہ کرسکیں ۔
تو اس سلسلہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی دست برادری ایک اتفاقیہ امر تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کی ایک کڑی تھی ؟
27:- عبدالرحمن نے اپنی دست برداری کے بعد اپنے قریبی عزیز کو منتخب نہیں کیا تھا ؟
28:-کیا حضرت عثمان کے انتخاب میں اقرباء پروری کا جذبہ تو کار فرما نہ تھا ؟
29:- عبد الرحمن بن عوف نے خلافت کیلئے تین شرائط عائد کی تھیں (1)اللہ کی کتاب(2)سنت رسول (3)سیرت شیخین ۔ان شرائط میں کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کی موجودگی کے باوجود"سیرت شیخین" کا اضافہ کیوں کیا گیا ؟
30:- سیرت شیخین اگر قرآن وسنت کی تعبیر وتفسیر ہے تو شرائط میں کتاب وسنت کی شرط تو پہلے سے موجود تھی ۔ اس کے باوجود اس شرط کو الگ کیوں رکھا گیا ؟
31:- اور اگر سیرت شیخین قرآن وسنت کے علاوہ کوئی اور چیز تھی تو خلافت کے لئے اسے ایک شرط کے طور پر کیوں پیش کیا گیا ؟
32:- کتب تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے مواقع نظر آتے ہیں جہاں حضرت

136
ابو بکر کا موقف کچھ تھا اور حضرت عمر کا موقف کچھ اور تھا تو اب ان کے بعد میں آنے والا خلیفہ اگر سیرت شيخین کو قبول بھی کرلیتا تو جس مسئلہ میں خود شیخین کا باہمی اختلاف تھا۔ اس مسئلہ میں وہ کسی کی سیرت کو ترجیح دیتا اور کس کی سیرت سے انحراف کرتا؟ تاریخ وحدیث میں بہت سے ایسے مواقع ہیں جہاں حضرت عمر کا طرز عمل سیرت نبوی سے مختلف تھا۔

حضرت عمر کے بعض اجتہادات
1:- جناب رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر اپنے اپنے دور میں تمام مسلمانوں کو یکساں طورپر عطیات وروزینے دیا کرتے تھے اور حضرت ابو بکر نے سابقین اولین کو بھی زیادہ روزینہ انکار کردیا تھا۔ لیکن حضرت عمر نے اس مسئلہ میں ان دونوں کی مخالفت کی اور اپنے زمانہ خلافت میں یکساں وظیفہ دینے کے طریقے کو ختم کردیا اور کسی کا وظیفہ کم اور کسی کا زیادہ مقررکیا (1)
حضرت عمر ایک عجیب نفسیات رکھتے تھے" کبھی سلام پہ ناراض اور کبھی دشنام پہ خوش " تو ان کے کردار کو خلافت کے لئے شرط قرار دینا کسی طرح سے بھی قرین دانش نہیں تھا ۔حضرت عمر کی اس سیمانی فطرت کے واقعات سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں ۔
1:- ایک شخص ان کے پاس آیا اور فریاد کی ہے کہ : فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے آپ مجھے انصاف فراہم کریں ۔
حضرت عمر نے اپنا درہ فضا میں بلند کیا اور فریادی کے سر پر دے مارا اور کہا جب عمر نکما ہوتا ہے تو تم اس وقت نہیں آتے اور جب عمر امور مسلمین میں مصروف ہوتا ہے تو تم فریاد یں لے کر اس کے پاس آجاتے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- عبدالفتاح عبدالمقصود۔الامام علی بن ابی طالب جلد دوم ۔ص 9-10

137
فریادی بے چارہ آہ زاری کرتا ہوا چلا گیا ۔ کچھ دیر بعد انہوں نے کہا کہ اس فریادی کو دوبارہ لایا جائے اور جب وہ آیا تو درہ اٹھا کر اس ہاتھوں میں دیا اور کہا اب تم مجھ سے قصاص لے لو ۔
فریادی نے کہا میں نے اللہ اور تمہاری خاطر تمہیں معاف کیا ہے ۔
حضرت عمر نے کہا کہ : تم یا اللہ کے لئے معاف کردیا صرف مجھے میری خاطر معاف کرو ۔فریادی نے کہا تو پھر میں اللہ کے لئے تمہیں معاف کرتا ہوں ۔
اس کے بعد فریادی سے کہا کہ اب تم واپس چلے جاؤ (1)
"عدل فاروقی " سیمابی کیفیت کا حامل تھا جہاں فریادی کو انصاف کی جگہ بعض اوقات کوڑے کھانا پڑتے تھے ۔
2:- حضرت عمر نے نعمان بن عدی بن نفیلہ کو علاقہ "میسان" کا عامل مقرر کیا کچھ دنوں بعد حضرت عمر کو کسی نے نعمان کی ایک نظم سنائی ۔ جس میں رنگ تغزل وتشبیب نمایاں تھا۔ حضرت عمر نے انہیں لکھا کہ میں نے تجھے تیرے عہدہ سے معزول کردیا ہے ۔لہذا تم واپس آجاؤ ۔
جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے کبھی نہ تو شراب پی ہے اور نہ ہی کبھی عورتوں سے عشق لڑایا ہے ۔ یہ تو صرف شاعر انہ رنگ تھا جس کا اظہار میرے اشعار سے ہوا ہے ۔
حضرت عمر نے کہا درست ہے لیکن تم آج سے میری حکومت کے لئے کوئی کا م سرانجام نہیں دوگے ۔
3:- ایک قریشی کو حضرت عمر نے عامل بنایا ۔اسکا ایک شعر حضرت عمر کو سنا یا گیا
اسقنی شربۃ تروی عظامی ۔۔۔۔۔۔۔۔واسق باللہ مثلھا ابن ھشام
مجھے ایک گھونٹ پلا جس سے میری ہڈیاں سیراب ہوں اور اس جیسا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- عبدالفتاح عبدالمقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد اول ۔ص 200۔

138
ایک پیالہ ابن ہشام کو بھی پلا ۔
شعر سن کر حضرت عمر نے بلا یا ۔شاعر صاحب بڑے کایاں تھے جب آئے تو حضرت عمر پوچھا ۔مذکورہ شعرتم نے کہاتھا؟
اس نے کہا جی ہاں !کیا اس کے ساتھ والا دوسرا شعر آپ نے نہیں سنا ؟
کہا نہیں ۔ شاعر نے کہاکہ اس کا دوسرا شعر یہ ہے ۔
عسلا باردا بمآء غمام ۔۔۔۔۔۔اننی لااحب شرب المدام
بارش کے ٹھنڈے پانی میں شہد ملا کر مجھے پلا ۔میں شراب پینے کو پسند نہیں کرتا ۔
اس کی اس حاضر جوابی کو سن کر حضرت عمر بڑے محفوظ ہوئے اور کہا تم اپنے فرائض بدستور سرانجام دیتے رہو۔
4:- حضرت عمر نے ایک عامل سے قرآن واحکام کے متعلق سوالات کئے تو اس نے تسلی بخش جواب دئیے تو اسے کہا تم اپنا کام سرانجام دیتے رہو ۔جاتے ہوئے وہ واپس آیا اور رات میں نے ایک خواب دیکھاہے کہ آپ اس کی تعبیر بتائیں ۔حضرت عمر نے کہا خواب بیان کرو ۔اس نے کہا ۔رات میں نے سورج اور چاند کو ایک دوسرے سے لڑتے دیکھا اور ہر ایک کے پاس لشکر بھی تھا ۔ حضرت عمر نے پوچھا تم کس لشکرمیں تھے ؟ اس نے کہا کہ میں چاند کے لشکر میں شامل تھا ۔
حضرت عمر نے کہا۔ میں نے تجھے معزول کردیا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے "وجعلنا اللیل والنھار ایتین فمحونا آیۃ اللیل وجعلنا آیۃ النھا ر مبصرۃ " ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ۔ہم نے رات کی نشانی کو مٹایا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا (1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص 98 ۔بنی اسرائیل 12

139
5:- مقام حدیبیہ پر رسول خدا اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا جس میں ایک شرط یہ تھی کہ :مکہ کا جو فردمسلمانوں کے پاس جائے گا مسلمان اسے واپس کریں گے مسلمانوں کا کوئی شخص اگر مکہ والوں کے پاس پناہ لےگا تو واپس نہ کیا جائے گا ۔
اس شرط کو دیکھ کر حضرت عمر بہت ناراض ہوئے اور حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان کے سامنے احتجاج کیا پھر رسول خدا کے پاس آکر بیٹھے اور کہا ۔آپ ہمیں دین میں کیوں رسوا کرنا چاہتے ہیں ؟
رسول خدا (ص) نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اس کی نافرمانی نہیں کرونگا ۔
حضرت عمر ناراض ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا خدا کی قسم !اگر آج میرے پاس مددگار ہوتے تو میں رسوائی کبھی برداشت نہ کرتا (1)
حضرت عمر ایک رات عبدالرحمن بن عوف کو ساتھ لے کر شہر میں چل رہے تھے انہوں نے چند افراد کو شراب پیتے ہوئے دیکھ لیا ۔ عبدالرحمن سے کہا میں انہیں پہچان چکا ہوں ۔جب صبح ہوئی تو ان لوگوں کو بلا کر کہا ۔رات تم شراب نوشی کیوں کر رہے تھے ؟
ان میں سے ایک شخص نے کہا :- آپ کو کس نے بتایا ؟
حضرت عمر نے کہا:- رات میں نے تمہیں اپنی آنکھوں سے مے نوشی کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ اس شخص نے کہا ۔ کیا اللہ نے آپ کو تجسس سے قرآن میں منع نہیں کیا ؟حضرت عمر نے اسے معاف کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ص 30