المیہ جمعرات
 

"لاوارثی " حدیث اور عقل ونقل کے تقاضے
آئیے !حضرت ابوبکر کی بیان کردہ حدیث کو سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں دیکھیں ۔
رسول خدا(ص) نے اپنے آپ کو شریعت طاہرہ کے احکام سے کبھی بھی مستثنی نہیں فرمایا ۔
1:- جس طرح سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ : ہم گروہ انبیاء نہ تو نماز پڑھیں گے اور نہ ہی روزہ رکھیں گے (نعوذ باللہ )

97
مذکورہ فقرہ اس لئے غلط ہے کہ نبی احکام شریعت سے مستثنی نہیں ہوتا ۔
تو جس طرح نبی نماز روزہ اور اسلام کے دیگر احکام سے مستثنی نہیں ہوتا ۔اسی طرح سے وہ اسلام کے احکام میراث سے بھی مستثنی نہیں ہوتا ۔
2:- کیا فدک کا مسئلہ جو کہ خالص شرعی مسئلہ تھا ، اس کے نہ دینے میں کوئی سیاسی اغراض تو کار فرما نہیں تھیں ؟
3:- کیا حضرت سیدہ کو محروم ورارث رکھ کر خلیفہ صاحب اپنے سیاسی حریف علی اور اس کے خاندان کو اپنے سرنگوں تو نہیں کرنا چاہتے تھے ؟
4:- اور کیا اس مسئلہ کا تعلق اقتصادیات سے تو نیں تھا ؟
یعنی اس ذریعہ سے علی (ع) اور ان کے خاندان کو نان شبینہ سے محروم رکھنا تو مقصود نہ تھا ؟
5:- اور کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ علی (ع) کی مالی حالت کمزور کرکے انہیں خلافت کا امیدوار بننے سے روکنا مقصود ہو؟
6:- اور کیا فدک چھین لینے میں یہ حکمت عملی تو مد نظر نہ تھی کہ جن لوگوں نے حضرت ابو بکر کی خلافت کا انکار کیا تھا ۔انہیں مرتد اور مانعین زکواۃ کہہ کر ان پر لشکر کشی کی گئی تھی ۔ تو کیا فدک کے چھین لینے میں یہ تصور تو کار فرما نہ تھا کہ اگر فدک علی کے پاس ہوگا تو ممکن ہے کہ وہ ہمارے مخالفین کی مالی امداد کریں ؟
7:- کیا فدک چھیننے میں یہ فلسفہ تو مضمر نہ تھا کہ آل محمد کے وقار کو لوگوں کی نگاہوں میں گرادیا جائے لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ :خود رسول خدا(ص) ان لوگوں کو اپنی میراث سے محروم کرگئے ہیں ؟
تو جن لوگوں کو رسول خدا کی میراث کا حق نہیں ہے انہیں ان کی خلافت کا حقدار کیسے سمجھاجائے ؟
8:- کیا سلب فدک میں بہت سے عوامل کا فرما تھے ؟

98
9:- اور اگر حضرت ابو بکر کی بیان کردہ حدیث کو درست بھی مان لیا جائے تو اس حدیث کا اطلاق صرف پیغمبر اکرم کے لئے ہوگا یا دوسرے انبیاء پر بھی اس کا انطباق ہوگا ؟
10:-آخر رسول خدا اپنی پیاری دختر کو محروم ارث کیوں رکھنا چاہتے تھے ؟
11:- کیا خدانخواستہ حضور کریم کو یہ اندیشہ تھا کہ ان کے بعد ان کی بیٹی اور داماد فدک کی کمائی کو غلط مصرف میں لائیں گے ؟
12:- اگر حضور کریم کو یہی اندیشہ تھا تو انہوں نے اپنی حیات مبارکہ میں اپنی دختر کی تحویل میں کیوں دے دیا تھا ؟
13:- اور کیا یہ "خدشہ اس لیے پیدا ہوا تھا کہ حضرت سیدہ نے اپنے والد کی حیات طیبہ میں اس جاگیر سے سو استفادہ کیا تھا ؟
14:- اگر خدا نخواستہ ایسا ہوا تو کب اور کیسے ؟
علامہ ابن ابی الحدید معتزلی نے اسی مسئلہ کے متعلق قاضی القضاۃ اور علم الہدی سید مرتضی کا ایک خوبصورت مباحثہ نقل کیا ہے ۔قاضی القضاۃ وراثت انبیاء کی نفی کرتے تھے ۔جبکہ سید مرتضی میراث انبیاء کا اثبات کرتے تھے ۔
قاضی القضاۃ کا موقف یہ تھا کہ قرآن مجید میں انبیاء کی میراث کا جو تذکرہ کیا گیا ہے اس سے علم وفضل کی میراث مراد ہے ۔مالی مراد نہیں ہے ۔
علم الہدی سید مرتضی کا موقف تھا کہ میراث کا اطلاق پہلے مال ودولت اور زمین پر ہوتا ہے ۔اور یہ اطلاق حقیقی ہوتا ہے ۔علم وفضل کے لئے مجازی طور پر اس کا اطلاق ہوسکتا ہے اور اصول قرآن یہ ہے کہ مجازی معنی صرف اس وقت درست قرار پاتا ہے جب کہ حقیقی معنی متعذر ومحال ہو ۔ انبیاء اگر مالی میراث حاصل کریں تو اس سے کونسی شرعی اور عقلی قباحت لازم آتی ہے کہ ہم حقیقی معنی کو چھوڑ کر مجازی معنی قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں ۔اور اگر قاضی

99
القضاۃ کی بات کو تسلیم بھی کرلیاجائے کہ انبیاء کی میراث مالی کی بجائے معنوی یعنی علم وفضل پر مشتمل ہوتی ہے تو اس کا مقصد یہ بھی ہوگا کہ آل نبی پیغمبر کے علم وفضل کے وارث ہیں ۔
اور اگر آل نبی پیغمبر کے علم وفضل کے وارث ہیں تو ان وارثان علم وفضل کی موجودگی میں حضرت ابو بکر کی خلافت کا جواز کیاتھا (1)۔

فدک بعنوان ہبہ
جناب سیدہ نے فدک کا مطالبہ بطور ہبہ بھی کیا تھا جس پر خلیفہ صاحب نے گواہوں کا مطالبہ کیا ۔حضرت سیدہ کی طرف سے حضرت علی ، حضرت حسن اورحضرت حسین (علیھم السلام) اور حضرت ام ایمن نے گواہی دی ۔
مگر خلیفہ صاحب نے اس گواہی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ نصاب شہادت مکمل نہیں ہے ۔کیونکہ علی سیدہ کے شوہر ہیں ۔اور امام حسن اور امام حسین (علیھما السلام ) سیدہ کے فرزند اور ام ایمن ایک کنیز ہے ۔
حالانکہ شہادت ہر لحاظ سے کامل و اکمل تھی ۔
حضرت علی علیہ السلام کی گواہی کس قدر مستند ہے ۔اس کے لیے سورہ آل عمران کی اس آیت مجیدہ کی تلاوت کریں :-
شہد اللہ انہ لا الہ الا ھو و الملائکۃ و اولو العلم قآئما بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیم ۔
"اللہ خود اس بات کا گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور ملائکہ اوروہ اہل علم جو عدل پر قائم ہیں کہ اس غالب اور صاحب حکمت اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ۔ص 78-103

100
اس آیت میں توحید کے گواہوں میں خود اللہ تعالی اور ملائکہ اور عدل پر قائم رہنے والے اہل علم کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
وہ اہل علم جو عدل پر قائم ہیں وہ توحید کے گواہ ہیں ۔اورعدل پر قائم رہنے والے علماء میں علی (ع) سر فہرست ہیں کیونکہ علی (ع) کے علم کے متعلق رسول خدا کی مشہور حدیث ہے ۔"انا مدینۃ العلم وعلی بابھا " میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔
اور جہاں تک عادل ہونے کاتعلق ہے تو علی جیسا عادل چشم فلک نے نہیں دیکھا ۔جب علی توحید کے گواہ ہیں تو پھر فدک گواہ کیوں نہیں ہوسکتے ؟عجیب بات ہے ہے کہ توحید کی شہادت کے لئے تو علی کی گواہی مستند مانی جائے اور تھوڑی سی جائیداد کے لئے ان کی گواہی کو ٹھکرا دیا جائے ؟ علی صرف توحید کے گواہ نہیں ہیں وہ رسالت محمدیہ کے بھی گواہ ہیں ۔جیسا کہ سورہ رعد کی آخری آیت میں ارشاد خداوندی ہے :- "ویقول الذین کفروا لست مرسلا قل کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم ومن عندہ علم الکتاب ۔"
اور کافر کہتے ہیں کہ تو رسول نہیں ہے ۔کہ دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ کافی ہے اور وہ جس کے پاس کتاب کا مکمل علم موجود ہے ۔قول اصح کے مطابق "من عندہ علم الکتاب "سے مراد حضرت علی (ع) ہیں۔
اس آیت مجیدہ میں حضرت علی علیہ السلام کو رسالت کا گواہ قرار دیا گیا ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو علی (ع) رسالت محمدیہ کے گواہ ہیں ۔ان کی گواہی کو فدک کے لیے معتبر کیوں نہیں تسلیم کیا گیا ؟

101

فرع کی اصل کے لئے گواہی
حسنین کریمین کی گواہی یہ کہہ کر رد کر دی گئی کہ یہ گواہی "فرع" کی "اصل" کے لیے ہے ۔ یعنی امام حسن اورامام حسین (علیھما السلام) چونکہ حضرت سیدہ کے فرزند ہیں اور اولاد کی گواہی والدین کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔
جب کہ قرآن مجید کی سورہ مریم میں میں حضرت عیسی کی پیدائش اور حضرت مریم کی پریشانی کا ذکر موجود ہے اورجب حضرت مریم کے نو مولود فرزند حضرت عیسی نے ہی اپنی نبوت اور اپنی ماں کی پاکدامنی کی گواہی دی تھی ۔
اب اگر اولاد کی گواہی والدین کے حق میں قابل نہیں ہے تو اللہ نے حضرت عیسی کی زبانی ان کی ماں کی پاکدامنی کی گواہی کیوں دلائی ؟ اگر اس فارمولے کو تسلیم کرلیا جائے کہ ماں باپ کے حق میں اولاد کی گواہی قابل قبول نہیں ہے تو آپ ان روایات کے متعلق کیا کہیں گے جو حضرت عائشہ کی زبانی ان کے والد کے حق میں مروی ہیں ؟ خلیفہ صاحب کے دربار میں چار عظیم شخصیات موجود تھیں جن میں سے ایک مدعیہ تھیں کہ اور تین شحصیات گواہ تھیں ۔
اب ان چاروں شخصیات کی گواہی کتنی معتبر ہے ؟ اس کیلئے واقعہ مباہلہ کو مد نظر رکھیں ۔

مباہلہ کی گواہی
جب عیسائی علماء دلائل نبوی سن کر مطئمن نہ ہوئے تو اللہ تعالی نے آیت مباہلہ نازل کی اور ارشاد فرمایا :- "فمن حاجّک فیہ من بعد ما جآ ء ک من العلم فقل تعالوا ندع ابنا ءنا وابناءکم و نساءنا ونساءکم وانفسنا وانفسکم ثم نبتھل

102
فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین "(1)۔
"جو علم آنے کے بعد تم سے جھگڑا کرے تو کہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹے بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ او ر ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنی جانوں کو لائیں اور تو اپنی جانوں کو لاؤ پھر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں ۔"
جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول خدا (ص) علی (ع) کے گھر تشریف لائے اور علی و فاطمہ اور حسن وحسین (علیھم السلام ) کو اپنی چادر پہنائی اور کہا پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں ۔
رسول خدا نہی عظیم شخصیات کو لے کر مباہلہ کے لئے روانہ ہوئے جب عیسائی علماء نے ان نورانی چہروں کو دیکھا تو جزیہ دینا قبول اور مباہلہ سے معذرت کرلی ۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چار شخصیات پورے اسلام کی گواہ ہیں اور ان کی گواہی کا عیسائیوں نے بھی احترام کیا تھا ۔
مباہلہ کے چند ہی دن بعد یہی چاروں شخصیات خلیفہ صاحب کے دربار میں گئیں ۔ان میں ایک مدعیہ تھیں اور تین گواہ تھے ۔
انسانی ذہن کو انتہائی تعجب ہوتا ہے کہ جن شخصیات کو اللہ نے پوری امت اسلامیہ میں سے بطور نمونہ جماعت صادقین بنا کر غیر مسلموں کے مقابلہ میں بھیجا تھا ، ان شخصیات کی گواہی کو خلیفۃ المسلمین نے رد کردیا ؟
علاوہ ازیں ان ذوات طاہرہ کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ نے ان کی طہارت کا قرآن مجید میں ان الفاظ سے ذکر فرمایا :-انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا : اے اہل بیت ! اللہ کا تو بس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- آل عمران ۔

103
یہی ارادہ ہے کہ وہ تم سے ہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح سے پاک بنائے جیسا کہ پاکیزگی کا حق ہے (1)"۔
حضرت ابو بکر کا حق تھا کہ حضرت سیدہ کے دعوی کے بےچون وچرا تسلیم کرلیے ۔کیونکہ تاریخ وحدیث کا مشہور واقعہ ہے کہ کہ حضور کے ساتھ ایک اعرابی نے ناقہ کے متعلق تنازعہ کیا ۔ ہردو فریق ناقہ کی ملکیت کے دعویدار تھے ۔اعرابی نے رسول خدا (ع) سے گواہ طلب کیا تو حضرت خزیمہ بن ثابت نے حضور کے حق کے متعلق گواہی دی ۔ اور جب حضرت خزیمہ سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ گواہی بغیر علم کے کیوں دے دی ہے ؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم محمد کی نبوت اور وحی کی بھی تو گواہی دیتے ہیں جب کہ ہم نے جبریل امین کو اپنی آنکھوں سے اترتے نہیں دیکھا ۔جب ہم نبوت ورسالت جیسے عظیم منصب کی ان دیکھے گواہی دے دیتے ہیں تو کیا ہم اپنے نبی کے لئے ایک اونٹنی نہیں دیں گے ؟ رسول خدا (ص) نے حضرت خزیمہ کی شہادت کو صحیح قراردیا اور انہیں "ذو الشہادتین " یعنی دو گواہیوں والا قراردیا ۔
حضرت خزیمہ کی طرح اگر حضرت ابو بکر بھی حضرت سیدہ کی روایت ہبہ کو بدون شہود تسلیم کر لیتے تو یہ ان کے لئے زیادہ مناسب تھا ۔اس کے برعکس حضرت ابو بکر کی "لاوارثی" حدیث کے متعلق جناب زہرا (س) نے ان سے گواہ نہیں مانگے تھے ۔جب کہ حضرت سیدہ اس روایت کی صحت سے بھی منکر تھیں ۔
اور علی (ع) جیسے صدیق اکبر کی گواہی رد کرنے کا بھی حضرت ابو بکر کے پاس کوئی جواز نہیں تھا ۔اور ام ایمن جو کہ رسولخدا (ص) کی دایہ تھیں جن کی پوری زندگی اسلام اور رسول اسلام کی خدمت میں گزری تھی ، ان کی گواہی کو رد کرنے کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الاحزاب

104

خلیفۃ المسلمین کا عملی تضاد
حضرت ابو بکر کا موقف میراث انتہائی عجیب وغریب ہے ۔
1:- انہوں نے رسول خدا کی تلوار ان کی نعلین اور دستانے مبارک علی (ع) کے پاس رہنے دی تھی اور اس کے متعلق نہ تو انہوں نے علی (ع) سے کوئی تنازعہ کیا اور نہ ہی علی سے گواہ طلب کیے ۔
2:-علاوہ ازیں رسول خدا (ص) نے مرض الموت میں حضرت علی (ع) کو اپنی تلوار اور انگشتری عطا فرمائی تھی ۔ حضرت ابو بکر نے علی (ع) سے ان دونوں چیزوں کی واپسی کا کوئی تقاضا نہیں کیا ۔
اگر تلوار اور انگشتری ہبہ ہوسکتی ہے اور خلیفہ اسے واپس نہیں لیتے اسی طرح سے فدک بھی تو ہبہ ہوچکا تھا ۔ اس کی واپسی کے لئے یہ ساری تگ و دو کیوں کی گئی ؟
3:- جس لباس میں حضور اکرم نے وفات پائی تھی ،لباس حضرت فاطمہ (س) نے اپنے پاس رکھ لیا تھا ۔حضرت ابوبکر نے لباس رسول (س) کی واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔
4:- ازواج رسول (ص) سے بھی رسولخدا (ص) کے مکان خالی کرنے کامطالبہ نہیں کیا گیا۔
5:-عامل بحرین علاء بن حضرمی سے خلیفہ صاحب کے پاس مال بھیجا ۔حضرت جابر نے خلیفہ صاحب سے کہا کہ رسول خدا(ص) نے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی میرے پاس مال آیا تو میں تمہیں اتنا مال دون گا ۔اب جب کہ رسول خدا کی وفات ہوچکی ہے اورآپ اس وقت خلیفۃ المسلمین ہیں ۔لہذا مجھے اتنا مال دیں ۔ حضرت ابو بکر نے ان سے کسی گواہ کا مطالبہ نہیں کیا ان کی زبان پر اعتماد کرتے

105
ہوئے انہیں مطلوبہ مال فراہم کیا (1)۔
تو کیا حضرت خاتو ن جنت (س) جابر جتنی بھی صادق اللہجہ نہ تھیں ؟
6:- جب خلیفہ صاحب کے پاس مال بحرین آیا تو ابو بشیر المازنی ان کے پاس گئے اور کہا کہ حضور اکرم (ص) نے فرمایا تھا جب بحرین سے مال آیا تو میں تجھے دوں گا ۔حضرت ابو بکر نے اس کی بات سن کر تین تھیلیاں بھر کر انہیں مال دیا ۔
تاریخ کا طالب علم اس وقت انتہائی پریشان ہوجاتا ہے کہ جب کہ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہے ایک گم نام صحابی اگر مطالبہ کرے تو اس کی بات کو سچ سمجھا جا تا ہے اور اگر بنت رسول (س) اپنا حق مانگیں تو ان سے گواہ طلب کیئے جاتے ہیں اور ستم یہ ہے کہ گواہوں کی گواہی کو بھی ٹھکرا دیا جاتا ہے اور رسول خدا (ص) کی خاتون جنت بیٹی کو خالی ہاتھ لوٹا دیا جاتا ہے ۔
اگر "لاوارثی"حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے بڑی قباحتیں لازم آئیں گی ۔اس حدیث کے تحت رسول خدا (ص) کو ان کے مکان میں دفن نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ رسول خدا(ص) کی وفات کی وجہ سے ان کا تمام ترکہ صدقہ بن جاتا ہے اور وہ عوامی ملکیت میں بد جاتا ہے ۔اب جب کہ آپ کی وفات ہوئی تو مکان بھی تو صدقہ میں شامل ہوگیا ۔رسول خدا (ص) کا اس مکان سے کوئی واسطہ نہیں رہا اور جس مکان سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ وہ تو اس میں دفن کیسے ہوں گے ؟
اور عجیب بات یہ ہے کہ خود حضرت ابو بکر ہی دوسری حدیث کے راوی ہیں کہ "انبیاء کی جہاں وفات ہوتی ہے وہ وہاں ہی دفن ہوتے ہیں " اگر انبیاء اپنی جائے وفات پر دفن ہوتے ہیں تو وہ جگہ ان کی ہوتی ہے یا صدقہ کا مال ہوتا ہے ۔؟
اب اگر وہ مال وترکہ صدقہ ہوتا ہے تو انبیائے کرام کی وہاں تدفین صحیح نہیں ہے اور اگر تدفین صحیح اور درست ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ ان کا ترکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- صحیح بخاری سوم –ص 180

106
صدقہ میں تبدیل نہیں ہوتا ۔
تعجب ہے کہ ان دونوں حدیثوں میں جو واضح تناقض و تضاد ہے کیا حضرت ابو بکر کو اپنی ہی بیان کردہ دونوں حدیثوں کے تضاد کا ادراک نہیں ہوا تھا ؟
اگر مزید وضاحت کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے حدیث پڑھی کہ " نبی جہاں وفات پاتے ہیں ۔اسی جگہ ہی دفن ہوتے ہیں "
تو نبی کی جائے وفات دو میں سے ایک جگہ تو ضرور ہوگی ۔
1:- یا تونبی اپنی ملکیت میں وفات پائے گا ۔
2:- یا کسی غیر کی ملکیت میں وفات پائے گا ۔
اگر اپنی ملکیت میں نبی وفات پاتا ہے تو اس کی وفات پر وہ جگہ تو صدقہ بن گئی اور جو چیز مرنے والے سے متعلق ہی نہ ہو اس میں دفن ہونا ہی غلط ہے ۔
اگر بالفرض نبی کسی غیر کی زمین پر وفات پاتا ہے تو وہ زمین تو پہلے سے ہی غیر کی ہے اس میں تو دفن ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
لہذا اگر لاوارثی حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ آخر انبیاء کو کہاں دفن ہونا چاہئیے ؟
علاوہ ازیں حضرت ابو بکر کو یہ حق کس نے تفویض کیا تھا کہ وہ رسول خدا (ص) کے پہلو میں دفن ہونے کی وصیت کریں ۔ جب کہ وہ زمین خود رسول خدا (ص) کی ملکیت سے نکل کر صدقہ میں تبدیل ہوچکی تھی ؟ اور اس مقام پر یہ تسلیم کیاجائے کہ وہ حجرہ حضور اکرم (ص) کی ملکیت ہی تھا اور وہ وفات کے بعد بھی "بیت النبی " ہی تھا تو بیت النبی کے داخلہ کے لئے اللہ نے پہلی شرط یہ عائد کی ہے کہ پہلے نبی سے اجازت لی جائے بعد ازاں ان کے گھر میں قدم رکھا جائے تو کیا حضرت ابو بکر رسول خدا کی زندگی میں ان سے دفن ہونے کی اجازت حاصل کرچکے تھے ؟
یا رسول خدا(ص) اپنی زندگی میں یہ کہہ کر گئے تھے کہ خلیفہ اول کو میرے پہلو

107
میں دفن کیا جائے ؟
الغرض "لاوارثی " حدیث کو صحیح تسلیم کرنے سے یہ تمام قباحتیں جنم لیتی ہیں اور اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب بات یہ ہے کہ اہل سنت مفسرین نے انبیاء کی میراث حاصل کرنے کی آیات کے متعلق ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا کہ ان آیات سے میرا ث علمی مراد ہے ۔اور ہماری سمجھ میں آج تک یہ بات نہیں آسکی کہ علم وفضل کب سے میراث بنا ہے اگر علم وفضل میراث ہوتا تو ہر عالم باپ کا بیٹا عالم ہوتا ہے اور ہر جاہل باپ کا بیٹا جاہل ہوتا ہے ۔علم نفس اور علم اجتماع اس مفروضہ کی تردید کرتے ہیں اور طرفہ یہ کہ حضرت ابو بکر نے جناب سیدہ (س) کو محروم الارث کرکے بزعم خویش اس حدیث پر عمل کیا جس کے وہ واحد راوی تھے ۔
اور اپنی منفرد حدیث پر عمل کرتے وقت عالم اسلام کی اس مستند و موثق حدیث کو بھول گئے جس کی صحت کا انہیں خود بھی اقرار تھا ۔
رسول اکرم (ص) کی مشہور ترین حدیث ہے :-" فاطمۃ بضعۃ منّی من اذاھا فقد آذانی ،ومن آذانی فقد آذی اللہ "(1)۔
"فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس سے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی "۔
اور حضرت سیدہ کو محروم رکھتے وقت حضرت ابو بکر کو ابو العاص بن ربیع کا واقعہ بھی مد نظر رکھنا چاہیۓ تھا ۔
اس واقعہ کی تفصیل مورخ ابن اثیر نے یوں بیان کی ہے :-
"جنگ بدر کے قیدیوں میں ابو العاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبد الشمس بھی تھا ۔یہ شخص زینب بنت خدیجہ (رض) کا شوہر تھا ۔
مکہ کے تمام جنگی قیدیوں نے فدیہ دے کر رہائی حاصل کی ۔زینب بنت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- درج بالا حدیث کا مفہوم صحیح بخاری میں موجود ہے ۔

108
خدیجہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لئے اپنا وہ ہار بھیجا جو ان کی ماں حضرت خدیجہ الکبری نے انہیں دیا تھا ۔
جب جناب رسول خدا (ص) نے اس بار کو دیکھا تو انہیں حضرت خدیجہ کی یاد آئی اور خدیجہ کی یاد سے بڑے متاثر ہوئے اور مسلمانوں سے فرمایا :-" اگر تم زینب کے قیدی کو رہا کرسکو اور اس کا بھیجا ہوا فدیہ بھی واپس کر سکتے ہوتو کرو ۔مسلمانوں نے ابو العاص کو حضرت زینب بنت خدیجہ کی وجہ سے رہا کردیا اور ان کا فدیہ بھی واپس کردیا ۔
فتح مکہ سے پہلے ایک دفعہ ابو العاص بن ربیع اپنا اور باقی قریش کے چند افراد کا مال لے کر شام جارہا تھا ۔راستہ میں مسلمانوں کے ایک سریہ سے مڈبھیڑ ہوگئی ۔مسلمانوں نے اس کا سامان لوٹ لیا اور جب رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی زینب بنت خدیجہ کے پاس آگیا ۔اور جب رسول خدا نماز صبح کے لئے مسجد جارہے تھے تو زینب نے آواز دی لوگو!" میں ابو العاص بن ربیع کو پناہ دے چکی ہوں ۔"
رسول خدا نے لوگوں سے فرمایا کہ اگر تم مناسب سمجھو تو اس کا مال اسے واپس کر دو یہ میری خواہش ہے اور تم مال واپس نہ کرو پھر بھی تم پر کوئی گناہ نہ ہوگا ۔
لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کی خواہش کے سامنے ہم اپنی گردن جھکائے دیتے ہیں اور ہم اس کا مال واپس کردیتے ہیں ۔ مسلمانوں نے اس کا تمام سامان حتی کہ اس کے ہاتھ کی لکڑی بھی اسے واپس کردی (1)۔"
درج بالا واقعہ میں آپ نے ملاحظہ کیا کہ مسلمانوں نے وہ مال غنیمت جو کہ ان کا شرعی حق تھا ۔وہ بھی رسول خدا (ص) کی پروردہ جناب زینب کی وجہ سے ابو العاص بن ربیع کو واپس کردیا ۔اگر خدا نخواستہ بالفرض حضرت ابو بکر یہ سمجھتے تھے کہ حضرت سیدہ (س) کی میراث نہیں ہے تو بھی انہیں ابو العاص کے واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت سیدہ کی رضامندی کو مقدم رکھنا چاہئیے تھا ۔
یا حضرت ابو بکر کا یہ کردار سنت رسول کے مطابق تھا ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن اثیر ۔الکامل فی التاریخ ۔جلد دوم ۔ص 93-94