المیہ جمعرات
 

82

حضرت علی خلافت سے محرومی کی ایک اور وجہ
وفات رسول اور حضرت ابو بکر کی خلافت کا حال تو آپ پڑھ چکے ہیں حضرت علی کو خلافت کیوں محروم کیا گیا‏‏؟
اس کا ایک اہم سبب حافظ نے بیان کیا ہے ۔ہم اسے اپنے منصف مزاج قارئین کی نذر کرتے ہیں :-
علی علیہ السلام کے قریش سے تعلقات انتہائی پیچیدہ تھے ۔قریش علی (ع) سے سخت کینہ رکھتے تھے ۔کیونکہ علی علیہ السلام نے ان کے بزرگوں کو غزوات میں قتل کیا تھا اور ان کی قوت کو ضعف میں تبدیل کردیا تھا ۔ان کی تمام ترشان وشوکت کو خاک میں ملادیا تھا اسلام قبول کرنے سے دلوں کے کینے اور نفرتیں ختم نہیں ہوا کرتیں ۔
اس کے لئے آپ یہ فرض کریں کہ آپ خدا نخواستہ سال دو سال پہلے مشرک ہوتے اور ایک مسلمان نے اسلامی جنگ میں آپ کے بیٹے یا بھائی کو قتل کردیا ہوتا اور پھر چند دنوں کے بعد آپ کے دل کی تمام رنجشیں اور کینہ ختم ہوجائے گا؟ اور کیا آپ اپنے بیٹے یا بھائی کے قاتل کو گلے لگالیں گے ؟ایسا کرنا انتہائی دشوار ہے ۔ایسا کرنا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب آپ دل کی گہرائیوں سے مسلمان ہوجائیں ۔
لیکن اس کے برعکس اکثر عربوں نے یا تقلیدی طور پر اسلام قبول کیا یا کسی منفعت ومفاد کی خاطر انہوں نے ایسا کیا ۔
بہت سے لوگوں نے تو اپنے خون کے تحفظ کے لئے کلمہ پڑھا تھا اور بعض لوگوں نے اپنے مخالف قبیلہ کو مزید زچ کرنے کے لئے اسلام قبول کیا تھا ۔آپ کو یہ حقیقت ہمیشہ ذہن نشین کرنی چاہئیے کہ رسالت مآب کے زمانہ میں جتنے

83
غزوات ہوئے اور وہ تمام کفار جو علی کی تلوار سے قتل ہوئے یا کسی اور مسلمان کی تلوار سے قتل ہوئے ان کے ورثاء نے اپنے تمام تر قتل کی ذمہ داری علی (ع)پر ڈال دی تھی اور وہ علی کو اپنا دشمن اور قاتل سمجھتے تھے ۔ اور اتفاق یہ ہوا کہ مقتول کفار کے ورثا نے بوجوہ اسلام قبول کرلیا ۔اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ان کے سینے صاف نہیں ہوئے تھے ۔علی کی دشمنی اور بغض کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک رہی تھی اور وہ ہمیشہ علی (ع) سے اپنے انتقام کی پہلی قسط وصول کی تھی اور یہی جذبہ انتقام کربلا میں مکمل پروان چڑھ چکا تھا ۔ حضرت علی (ع) کے خاندان کو جس بے دردی سے کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر مارا گیا تھا وہ سب اسی انتقام کا شاخسانہ تھا (1)۔
اگر امت اسلامیہ کے سرکردہ افراد میں انصاف کی رمق ہوتی تو خلافت اور بیعت کے مسئلہ کو رسول خدا(ص) کی تجہیز وتکفین تک موخر کردیتے ۔آج درد دل رکھنے والا ہر انسان یہ سوچ کر غم زدہ ہوجاتا ہے کہ جس عظیم شخصیت کی جانشینی کی خاطر ساری تگ و دو کی گئی ۔اس سے حق محبت کو یوں ادا کیا گیا کہ اس کے جنازہ میں شرکت نہیں کی گئی اور اس کے غم زدہ پسماندگان کے سر پر کسی نے شفقت سے ہاتھ تک نہ پھیرا ۔حضور اکرم (ص) کی آنکھ بند ہوتے ہی وہ محبت ودوستی کیوں عنقا ہوگئی ؟۔
علی علیہ السلام کو جو حضور اکرم سے الفت ومحبت تھی ،انہوں نے اس محبت کا حق ادا کیا انہوں نے اس لمحہ میں حکومت کے حصول کی بجائے جنازہ رسول (ص) کو ترجیح دی ۔اس سے علی علیہ السلام کے سیاسی حریفوں نے فائدہ اٹھایا ۔علی صلح وآشتی کو پسند کرنے والے تھے ۔علی کی عظمت کا اس سے اندازہ لگائیں کہ انہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص 283 مطبوعہ مصر ۔

84
نے سقیفہ میں تشکیل پانے والی حکومت سے پنجہ آزمائی نہیں کی ۔علی اسلام اور قرآن کے تحفظ کی خاطر خاموش ہوگئے ۔بلکہ جہاں اسلام اور امت اسلامیہ کی مصلحت کو دیکھتے تھے تو وہاں اپنے صائب مشوروں سے بھی نوازا کرتے تھے ۔
علی نے اسی صلح وآشتی کی پالیسی کو نہج البلاغہ کے ایک خطبہ میں یوں بیان فرمایا :-
"اما بعد ۔اللہ تعالی نے حضرت محمد مصطفی (ص) کو تمام جہانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا اور جب ان کی وفات ہوئی تو مسلمانوں نے امر خلافت میں جھگڑا کیا ۔
خدا کی قسم! میرے وہم وگمان میں بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ عرب امر خلافت کو خاندان نبوت سے علیحدہ کریں گے اور میں نے کبھی یہ سوچا تک نہیں تھا ۔لوگ مجھے چھوڑ کر کسی اور کو حاکم بنا لیں گے ۔جب میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک شخص کی بیعت کررہے ہیں ،تو میں نے بھی ان سے کوئی جھگڑا کرنا پسند نہیں کیا ۔کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو لوگوں کی اکثریت اسلام کو ہی چھوڑ جائے گی ۔۔۔۔۔۔
ان حالات میں میں نے یہ محسوس کیا کہ میرا ذاتی نقصان ہوتا ہے تو ہوتا رہے مگر اسلام کا تحفظ کرنا چاہئیے ۔میں چند روزہ دنیا کی حکومت لے کر اسلام کو صدمات سے دوچار کرنا نہیں چاہتا تھا ۔کیونکہ حکومت حاصل نہ ہونے کے صدمہ کی بہ نسبت مجھے اسلام کا نقصان زیادہ ضرررساں نظر آتا تھا (1)۔" حضرت علی (ع) کی صلح پسندی کا اس سے بڑھ کر اورثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں اگر اختلاف کیا تو فقط دینی امور کے متعلق ہی کیا تھا ۔
تاریخ عالم علی (ع) صلح پسند افراد کی نظیر پیش کرنے قاصر ہے کیونکہ علی نے اپنے حقوق کی پامالی اور اپنی زوجہ کے حق سے محرومی کے باوجود بھی اسلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ 44 ص 164-165

75
کے عظیم تر مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جن سے اجتناب کیا ۔حضرت فاطمہ زہرا(س) کو حق میراث اور حق ہبہ فدک سے محروم کیا گیا ۔اس کے باوجود بھی علی (ع) نے امن وصلح کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔علاوہ ازیں حضرت ابوبکر کی خلافت کے ابتدائی ایام میں چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ حضرت عمربن خطاب اپنے ہم نواز افراد کو لے کر علی (ع) کے دروازے پر آئے اور لکڑیاں بھی اپنے ساتھ لائے اور گھر جلانے کی باتیں کیں ۔کیا لوگوں کی زبان کو ان تاریخی واقعات کے بیان کرنے سے روکا جاسکتا ہے (1)۔

واقعہ فدک
واقعہ فدک کاخلاصہ یہ ہے کہ فدک حجاز کا ایک قریہ ہے اور مدینہ کے قریب ہے ۔مدتوں وہاں یہودی آباد تھے اور وہاں کی زمین بڑی زرخیزتھی ۔وہاں یہود کھیتی باڑی کیا کرتے تھے ۔
7ھ میں اہل فدک نے حضور اکرم (ص) کے رعب ودبدبہ سے مرعوب ہوکر فدک کی زمین ان کے حوالہ کردی تھی اور فدک خالص رسول خدا(ص) کی جاگیر تھی ۔کیوں کہ سورہ حشر میں اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔"ومآ آفاء اللہ علی رسولہ منھم فما اوجفتم علیہ من خیل ولارکاب ۔۔۔۔۔۔۔" ان میں سے اللہ جو رسول کو عطا کردے جس پر تم نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے ۔لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہے مسلط کردے اور اللہ ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے ۔"
رسول خدا(ص) نے سر زمین فدک میں اپنے ہاتھ سے گیارہ کھجوریں بھی کاشت فرمائی تھیں ۔اس کے بعد آپ نے فدک کی ممکل کی مکمل جاگیر اپنی اکلوتی دختر حضرت فاطمہ زہرا کوہبہ فرمادی ۔فدک ہبہ ہونے کے بعد مکمل طورپر حضرت سیدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-عبدالفتاح بعد المقصود ۔الامام علی بن ابی طالب ۔جلد اول ص216

86
کے تصرف میں رہتا تھا ۔جب حضور اکرم کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر نے علی و فاطمہ کو اپنا سیاسی حریف سمجھتے ہوئے فدک پر قبضہ کرلیا ۔فدک خاندان محمد(ص) کے تصرف میں تھا ۔اس قبضہ اور تصرف کا ثبوت حضرت علی کے اس خط سے بھی ملتا ہے جو انہوں نے والی بصرہ عثمان بن حنیف کو تحریر کیا تھا ۔س خط کے ضمن میں آپ نے یہ الفاظ تحریر کیئے :
"بلی قد کانت فی ایدینا فدک من کل ما اظلتہ السمآء فشحت بھا نفوس قوم وسخت عنھا نفوس آخرین ۔۔۔۔۔۔"اس آسمان کے سایہ تلے لے دے کے ایک فدک ہمارے ہاتھوں تلے تھا ۔اس پر بھی لوگوں کے منہ سے رال ٹپکی اور دوسرے فریق نے اس کے جانے کی پروانہ کی ۔اور بہترین فیصلہ کرنے والا اللہ ہے ۔(1)۔
حضرت سیدہ فاطمہ زہرا (س) ہی شرعی لحاظ سے اس جاگیر کی بلاشرکت غیر ے مالک تھیں ۔
خلیفہ کافرض تھا کہ ہبہ رسول (ص) کو اصلی حالت پر رہنے دیتے اور اس میں کسی قسم کا تصرف نہ کرتے اور اگر بالفرض خلیفہ صاحب کو اس ہبہ پر کوئی قانونی اعتراض تھا تو بھی قانون کا تقاضہ یہ تھا کہ مقدمہ کے تصفیہ تک فدک کو حضرت سیدہ (س) کے تصرف میں رہنے دیا جاتا ۔
اور اس مقدمہ کا عجیب ترین پہلو یہ ہے کہ حضرت ابو بکر کا یہ موقف تھاکہ فدک کی جاگیر حضرت سیدہ کی نہیں ہے بلکہ عامۃ المسلمین کی ہے اور یہ قومی ملکیت ہے اسی لئے اس جاگیر پر انہوں نے بزور حکومت قبضہ کرلیا ۔تو حضرت سیدہ نے اپنا قبضہ واپس لینے کا مطالبہ حضرت ابو بکر سے کیا ۔تو اب صورت حال یہ ہے کہ حضرت سیدہ(س) مدعیہ تھیں اور اس مقدمہ میں حضرت ابوبکر مدعی علیہ تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ جلد چہارم ۔ص 28 مکتوب 45

87
اس مقدمہ میں ستم ظریفی یہ ہوئی کہ جو فریق ثانی تھا وہی منصف بھی تھا ۔حالانکہ سیدھی سی بات تھی کہ مقدمہ حضرت ابوبکر کرے خلاف تھا یا کم ازکم عوام الناس کے خلاف تھا جن کے سربراہ حضرت ابو بکر تھے تو ان دونوں صورتوں میں مقدمہ حضرت ابو بکر کے ہی خلاف تھا اب انہیں قانونی سطح پر اس مقدمہ کی سماعت کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔اور نہ ہی انہیں اس مقدمہ میں منصفی کا حق حاصل تھا ۔

فدک مختلف ہاتھوں میں
مقدمہ فدک کی تفصیل سے پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضرات شیخین کے دور اقتدار میں فدک قومی ملکیت میں رہا۔
خلیفہ ثالث کے دور میں فدک کی پوری جاگیر مروان بن حکم کو عطا کی گئی خدا را یہ بتایا جائے کہ حضرت ابو بکر وحضرت عمر کا طرز عمل صحیح تھا یا حضرت عثمان کا طرز عمل صحیح تھا ؟
علمائے اہل سنت اس مقام پر حضرت ابو بکر کے کردار کو مثالی بنا کر پیش کرتے ہیں "ان سے درخواست ہے کہ حضرت عثمان نے تو اس مسئلہ میں ان کے طرز عمل سے انحراف کیاتھا ۔اب ان دونوں خلفاء میں سے کون صحیح تھا اور کون غلط تھا ؟
فدک اگر بنت رسول (س) کے ہاتھ میں تو لوگوں کو اچھا نہ لگا اب جو مروان جیسے افراد کے ہاتھوں میں چلا گیا تو اس وقت امت اسلامیہ کیوں خاموش ہوگئی ؟جب کہ حضرت ابو بکر کہہ چکے تھے کہ فدک کسی فرد واحد کی نہیں پوری امت اسلامیہ کی ملکیت ہے ؟
اور جب معاویہ بن ابو سفیان کی حکومت قائم ہوئی تو اس نے فدک کی جاگیر کو تین حصوں میں تقسیم کیا ۔ایک تہائی مروان بن حکم طرید رسول کے پاس

88
رہنے دی ۔ایک تہائی حضرت عثمان کے فرزند عمروبن عثمان بن عفان کو عطا کی گئی ۔ایک تہائی اپن بیٹے یزید بن معاویہ بن ابو سفیان کے حوالے کی گئی ۔
اور جب یزید کے بعد مروان کو حکومت ملی تو اس نے خلیفہ ثالث کے عمل کو حجت قراردیتے ہوئے اپنے دونوں شریکوں کو بے دخل کردیا اور خود سارے فدک پر قابض ہوگیا ۔
بعد ازاں یہی فدک اس کے بیٹے عبد العزیز کی ملکیت بنا اور جب عبدا لعزیز کا بیٹا حضرت عمر بن عبد العزیز بر سر اقتدار آیا تو اس نے فدک سےاپنے خاندان کو بے دخل کرکے اولاد فاطمہ کے حوالہ کردیا اورجب حضرت عمربن عبدالعزیز کی وفات ہوئی تو بنو امیہ میں سے یزید بر سر اقتدار آیا ۔اس نے اولاد فاطمہ سے فد ک چھین کر اولاد مروان کے حوالے کردیا ۔بنی امیہ کی حکومت کے خاتمہ تک فدک اولاد مروان کے پاس رہا ۔
اور جب بنی امیہ کی حکومت ختم ہوئی اور بنی عباس کا اقتدار شروع ہوا تو ابو العباس سفاح نے فدک اولاد فاطمہ کے حوالہ کیا ۔
منصور دوانیقی نے بنی فاطمہ سے چھین لیا ۔بعد از اں اس کے بیٹے مہدی نے فدک بنی فاطمہ کے حوالہ کیا ۔جسے ہادی اور رشید نے پھر واپس لے لیا ۔مامون الرشید عباسی نے فدک واپس کیا تھا جسے بعد میں معتصم نے واپس چھین لیا ۔ اس کے بعد کیا ہوا اس کے متعلق مورخین خاموش ہیں ۔
اس سے معلوم ہوتاہے کہ حکام کے ہاتھ میں فدک ایک ایسا کھلونا تھا ۔ جسے جب چاہتے وارثان بازگشت کو دے دیتے تھے اور جب چاہتے اپنے قبضہ میں لے لیا کرتے تھے ۔مامون الرشید عباسی نے فدک کی واپسی کے لئے جو تحریری احکام روانہ کیے تھے وہ انتہائی علمی قدروقیمت کے حامل ہیں ۔جس میں اس نے پوری تفصیل ووضاحت کے ساتھ وارثان فدک کی نشاندہی کی تھی ۔

89

مامون کی واپسی فدک
مامون الرشید عباسی کے خط کو مورخ بلاذری نے نقل کیا ہے ۔
سن 210 ہجری میں مامون الرشید نے فدک کی واپسی کے احکام جاری کیے اور اس نے مدینہ کے عامل قثم بن جعفر کو خط تحریر کیا
اما بعد ، فانّ امیرالمومنین بمکانۃ من دین اللہ وخلافۃ رسولہ والقرابۃ بہ اولی من ستنّ سنتہ ونفذ امرہ و سلّم لمن منحہ منحۃ وتصدّق علیہ بصدقۃ منحتہ و صدقتہ ۔وقد کان رسول اللہ اعطی فاطمۃ بنت رسول اللہ فدک وتصدّق بھا علیھا وکان امرا ظاھرا معروفا لا اختلاف فیہ فرای امیرالمومنین ان یردھا الی ورثتھا و یسلمھا الیھم تقرّبا الی اللہ باقامۃ حقہ وعدلہ والی رسول اللہ بتنقیذ امرہ وصدقتہ ۔۔۔۔الخ"
"امیر المومنین کو اللہ کے دین میں جو مقام حاصل ہے اور انہیں رسالت مآب کی جانشینی اور جو قرابت حاصل ہے ، ان تمام چیزوں کا تقاضا یہ ہے کہ وہ رسول خدا(ص) کی سنت پر عمل پیرا ہوں اور نبی اکرم کے فرامین کو نفاذ میں لائیں اور رسول خدا نے جسے جو کچھ عطا کیا تھا اس عطا کو اس تک پہنچائیں ۔
جناب رسول خدا نے اپنی دختر حضرت فاطمہ زہرا (س) کو فدک عطا کیا تھا ۔یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے اور اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔
اسی لئے امیر االمومنین کی یہ رائے ہے کہ فدک اس کے وارثوں کو واپس کردیا جائے اور اس عمل کے ذریعہ سے امیر المومنین اللہ کی قربت کے خواہش مند ہیں اور عدل وانصاف کی وجہ سے رسول خدا کی سنت پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں ۔" بعداز اں مامون الرشید نے اپنے ملازمین کو حکم دیا کہ سرکاری ریکارڈ میں اس بات کو لکھا جائے ۔

90
رسول خدا کی وفات کے بعد سے ہمیشہ ایام حج میں ی اعلان کیا جارہا ہے کہ رسول خدا (ص) نے جس کسی کو کوئی صدقہ یاجاگیر عطا کی ہو تو وہ آکر وصول کرے اس کی بات کو قبول کیا جائیگا ۔اس کے باوجود آخر خدا کی دختر کو ان کے حق سے محروم رکھنے کا کیا جواز ہے ؟
مامون الرشید نے اپنے غلام خاص مبارک طبری کو خط لکھا کہ فدک کی مکمل جاگیر کو جملہ حدود کے ساتھ اولاد فاطمہ کو واپس کیاجائے اور اس کام کی تکمیل کے لئے محمد بن یحیی بن زیدبن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب اور محمد بن یحیی اور محمد بن عبد اللہ سے مدد حاصل کی جائے اور فدک کے لئے ایسے انتظامات کیے جائیں جس کی وجہ سے وہاں زیادہ پیدا وار ہوسکے ۔
درج بالا خط ذی الحجہ 210 ھ میں لکھا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔(1)۔

محاکمہ فدک
صبّت علیّ مصائب لوانھا
صبّت علی الایام صرن لیالیا
مجھ پر اتنے مصائب آئے اگر وہ دنوں پر پڑتے تو وہ راتوں میں تبدیل ہوجاتے (ماخوذ از مرثیہ فاطمہ زہرا علیہا السلام )۔
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالی نے فدک کی جاگیر عطا فرمائی پھر آپ نے وہ جاگیر حکم خداوندی کے تحت اپنی اکلوتی دختر حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کو ہبہ فرمائی ۔ رسول خدا کی حیات مبارکہ جناب فاطمہ اس جاگیر پر تصرف مالکانہ رکھتی تھیں اورجب جناب رسول خدا کی وفات ہوئی تو حضرت ابو بکر نے حضرت فاطمہ کے ملازمین کو فدک سے بے دخل کردیا اور اسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- البلاذری ۔فتوح البلدان ص 46 -47

91
بحق سرکار ضبط کرلیا ۔جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو اس واقعہ کی خبر ملی تو وہ اپنے حق کی بازیابی کے لئے حضرت ابو بکر کے دربار میں تشریف لے گئیں اور اپنے حق کا مطالبہ کیا ۔
جس کے جواب میں حضرت ابو بکر نے ایک نرالی حدیث پڑھی کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :- نحن معاشر الانبیاء لل نرث ولا نورث ما ترکناہ صدقۃ " ہم گروہ انبیاء نہ تو کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ ہی کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے ۔ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ۔

"لاوارثی "حدیث اور قرآن
اس حدیث کے متعلق عرض ہے کہ اس حدیث کے واحد راوی حضرت ابو بکر ہیں اسی حدیث کی طرح حضرت ابو بکر سے ایک اور حدیث بھی مروی ہے ۔
جس وقت رسول خدا کی وفات ہوئی اور مسلمانوں میں اختلاف ہوا کہ حضور اکرم کو کہاں دفن کیا جائے تو حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ جناب رسول خدا کا فرمان ہے :-
"ما قبض نبی الا ودفن حیث قبض " جہاں کسی نبی کی وفات ہوئی وہ اسی جگہ ہی دفن ہوا ۔جب کہ مورخ طبری ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام اپنی جائے وفات کے علاوہ دوسرے مقامات پر دفن ہوئے ہیں ۔
حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے اس حدیث کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔کیونکہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اگر انبیاء کی میراث ان کی اولاد کو نہیں ملتی تھی تو حق تویہ بنتا تھا کہ رسول خدا خود اپنی بیٹی سے کہہ دیتے کہ میری میراث تمہیں نہیں ملے گی ۔طرفہ یہ ہے کہ جس شخصیت کو میراث ملتی تھی اسے نہیں کہا اور چپکے سے یہ بات ایک غیر متعلقہ شخص کے کان میں کہہ دی گئی اور یہ "لاوارثی حدیث" حضرت علی نے بھی نہیں سنی تھی کیوں کہ اگر انہوں نے سنی ہوتی تو اپنی

92
زوجہ کو حق میراث کے مطالبہ کی کبھی اجازت نہ دیتے ۔علاوہ ازایں اتنی اہم بات حضور اکرم نے صرف حضرت ابو بکر کو ہی کیوں بتائی دوسرے مسلمانوں کو اس سے بے خبر کیوں رکھا ؟

"لا وارثی حدیث"قرآن کے منافی ہے
مذکورہ حدیث لاوارثی حدیث کے متعلق حضرت فاطمہ (س) کا موقف بڑا واضح اور ٹھوس تھا ۔ انہوں نے اس حدیث کو یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ یہ حدیث قرآن کے منافی ہے ۔
1:- قرآن مجید میں اللہ تعالی کا فرمان ہے : یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین " اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے متعلق وصیت کرتا ہے ۔بیٹےر کو بیٹی کی بہ نسبت دوحصے ملیں گے (1)۔
اس آیت میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے ۔
2:-اللہ تعالی نے ہر شخص کی میراث کےمتعلق واضح ترین الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے : "ولکلّ جعلنا موالی ممّا ترک الوالدان و الاقربون" اور ہر کسی کے ہم نے وارث ٹھہرا دئیے اس مال میں جو ماں باپ اور قرابت چھوڑ جائیں (2)۔
قارئین کرام سے التماس ہے کہ وہ لفظ "ولکلّ" پر اچھی طرح سے غور فرمائیں اس آیت مجیدہ میں بڑی وضاحت سے "ہر کسی " کی میراث کا اعلان کیا گیا ۔
میراث سے تعلق رکھنے والی جملہ آیات کی تلاوت کریں ۔ آپ کو کسی بھی جگہ یہ نظر نہیں آئے گا کہ اللہ نے فرمایا ہو: کہ ہر کسی کے وارث ہوتے ہیں لیکن انبیاء کے نہیں ہوتے ۔میراث انبیاء کی اگر قرآن مجید میں کسی جگہ نفی وارد ہوئی ہے تو اس آیت مجیدہ کوبحوالہ سورت بیان کیا جائے اور قیامت تک تمام دنیا کو ہمارا یہ چیلنج ہے کہ اگر قرآن میں ایسی آیت ہے تو پیش کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-النساء 11۔ (2):- النساء 33۔

93

لاوارثی حدیث کے تین اجزاء ہیں :-
1:-انبیاء کسی کے وارث نہیں ہوتے ۔
2:- انبیاء کی اولاد وارث نہیں ہوتی ۔
3:- انبیاء کا ترکہ صدقہ ہوتا ہے ۔
قرآن مجید مذکورہ بالا تینوں اجزا کی نفی کرتا ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :-" وورث سلیمان داؤد " سلیمان علیہ السلام ،داؤد علیہ السلام کے وارث بنے (1)۔
اگر نبی کسی کا وارث نہیں ہوتا تو سلیمان علیہ السلام اپنے والد حضرت داؤد کے وارث کیوں بنے ؟
معلوم ہوتا ہے کہ "لاوارثی " حدیث کا پہلا جز صحیح نہیں ہے ۔
علاوہ ازیں مذکورہ آیت میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ سلیمان "داؤد کے وارث بنے ۔
اب جس کے سلیمان وارث بنے وہ بھی تو نبی تھے ۔ اگر "لاوارثی" حدیث کا دوسرا جز صحیح ہوتا یعنی نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا تو داؤد کی میراث کا اجراء کیوں ہوا ۔ ان کی میراث کو صدقہ کیوں قراردیا گیا ۔تو گویا یہ ایک آیت "لاوارثی " حدیث کے تینوں اجزا کو غلط ثابت کرتی ہے ۔
حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا قرآن مجید میں مذکور ہے :-
"قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْباً وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيّاً (٤) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِراً فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً (٥) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيّاً (٦) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيّاً " زکریا نے کہا میرے رب میری

94
ہڈیاں کمزورہوگئیں اور سربڑھاپے کی وجہ سے سفید ہوچکا اور اے رب میں تجھ سے دعا کرکے محروم نہیں ہوا اور میں اپنے پیچھے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری عورت بانجھ ہے مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کی جو میراث مجھے ملی ہے اس کا بھی وارث ہو اے میرے رب اسے نیک بنانا ۔اللہ تعالی نے کہا : اے زکریا ! ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں جس کا نام یحیی ہے اس پہلے ہم نے کسی کا یہ نام نہیں رکھا (1)
درج بالا آیت کو مکرر پڑھیں ،حضرت زکریا نے اللہ سے اپنا وارث مانگا اور اللہ نے انہیں وارث بھی دیا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز فرمایا ۔
اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو حضرت زکریا علیہ السلام نے وارث کی درخواست کیوں کی ؟
اور اگر بالفرض انہوں نے وارث کے لئے دعا مانگ بھی لی تھی تو اللہ نے انہیں یہ کہہ کر خاموشی کیوں نہ کرا دیا کہ تم تونبی ہو ۔تم یہ کیا کہہ رہ ہو؟
نبی کی میراث ہی نہیں ہوتی ۔لہذا تمہیں وارث کی دعا ہی سرے سے نہیں مانگنی چاہیے ؟
اگر انبیاء کی میراث ہی نہیں ہوتی تو اللہ تعالی نے انہیں وارث کیوں عطا فرمایا اور اس وارث کا نام بھی خود ہی تجویز کیوں کیا؟
حضرت سیدہ سلام اللہ علیھا نے مذکورہ بالا آیات کی اور ان آیات سے "لا وارثی " حدیث کی تردید فرمائی ۔
لیکن حضرت ابوبکر نے تمام آیات سن کربھی حضرت سیدہ کو حق دینے سے انکار کردیا ۔
پھر حضرت سیدہ نے آخر میں فرمایا :-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- مریم :4-7

95
فدونکھا مخطومۃ مرحومۃ نلقاک یو حشرک ۔۔۔۔۔۔۔فنعم الحکم اللہ ۔۔۔۔۔والموعد القیامۃ وعند الساعۃ یخسر المبطلون ۔
"اب تم اپنی خلافت کو نکیل ڈال کر اس پر سوار رہو ۔اب قیامت کے دن تجھ سے ملاقات ہوگی ۔اس وقت فیصلہ کرنے والا اللہ ہوگا اور وعدہ کا مقام قیامت ہے اور قیامت کے روز باطل پرست خسارہ اٹھائیں گے "
یابن ابی قحافۃ افی کتاب اللہ ان ترث اباک ولا ارث ابی لقد جیت شیا فریا افعلی عمد ترکتم کتاب اللہ ونبذتموہ ورآء اظھرکم ؟
الم تسمع قولہ تعالی واولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ اخصّکم اللہ بایۃ اخرج ابی منھا ؟ ام تقولون اھلی ملّتین لایتوارثان ؟
اولست انا وابی من ملّۃ واحدۃ ؟ اانتم اعلم بخصوص القرآن وعمومہ من ابی وابن عمّی ؟
"ابو قحافہ کے فرزند ! کیا اللہ کی کتاب کا یہی فیصلہ ہے کہ تم تو اپنے باپ کے وارث بنو اور میں اپنے والد کی میراث سے محروم رہوں ؟ تم ایک عجیب چیز لائے ہو ۔
تو کیا تم نے جان بوجھ کر اللہ کی کتاب کو چھوڑ دیا اور اسے پس پشت ڈال دیا ؟اور کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا کہ :رشتہ دار ہی ایک دوسرے کے اللہ کی کتاب میں وارث ہیں ؟ اور کیا اللہ نے تمہیں میراث کے لئے مخصوص کرنے کے لئے کوئی آیت نازل فرمائی ہے جس سے میرے والد کو مستثنی قرار دیا ہے ؟ یا تم یہ کہتے ہو کہ دو ملت والے افراد ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے ؟تو کیا میں اور میرے والد ایک ہی ملت سے تعلق نہیں رکھتے ؟ اور کیا تم میرے والد اور میرے چچا زاد کی بہ نسبت قرآن کے عموم وخصوص کو زیادہ جانتے ہو؟

96
ان دلائل قاہرہ اور آیات قرآنیہ پڑھنے کے بعد حضرت سیدہ نے ملاحظہ کیا کہ ان باتوں کا خلیفہ پر کوئی اثر مرتب نہین ہوا تو ناراض ہو کرروتی ہوئی واپس آئیں ۔
حضرت سیدہ کو پہلے سے ہی علم تھا کہ خلیفہ انہیں فدک کبھی بھی واپس نہیں کرے گا ۔آپ فقط اتمام حجت کے لئے تشریف لے گئی تھیں اور عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ جب چند روز پہلے میرے والد حدیث لکھانا چاہتے تھے تو اسی گروہ نے کہا تھا : ہمیں حدیث کی ضرورت نہیں ہمیں قرآن کافی ہے ۔اور جب حضرت سیدہ نے اپنی میراث کے لیے قرآن پڑھا تو مقابلہ میں "لاوارثی "حدیث پڑھ کر سیدہ کو محروم کردیا گیا ۔
تو گویا حضرت سیدہ نے دربار میں جاکر کا ئنات کو اس دوغلے پن سے آگاہ کیاکہ کل جو حدیث کا انکار کررہے تھے آج وہ قرآنی آیات کے تسلیم کرنے سے بھی انکار کررہے ہیں ۔ جناب سیدہ کو پہلے سے علم تھا کہ مجھے میرا حق فدک نہیں دیا جائے گا ۔کیونکہ جن لوگوں نے چند روز پہلے ان کے شوہر کی خلافت چھین لی تھی ،وہ ان سے فدک بھی چھین سکتے ہیں ۔