المیہ جمعرات
 

78

واقعات سقیفہ کا تجزیہ
ہم سقیفہ کی کاروائی بلا کم وکاست اپنے قارئین کے حضور پیش کرچکے ہیں ۔
ان واقعات میں حضرت عمر کا جو کردار رہا ہے اس سے کوئی بھی صاحب نظر چشم پوشی نہیں کرسکتا ۔
1:- خدارا ہمیں بتایا جائے کہ حضرت رسول خدا(ص) کے گھر میں تعزیت تسلی کے لئے کیوں نہیں گئے ۔اگر بالفرض انہیں علی (ع) اور اولاد علی (علیھم السلام) سے کوئی دلچسپی نہیں تھی تو اس دلخراش صدمہ کے وقت کم از کم اپنی بیوہ بیٹی کے سرپر ہی ہاتھ رکھنے کیلئے چلے جاتے اور یوں رسو لخدا(ص) کی تجہیز وتکفین میں شرکت کا اعزاز حاصل کرلیتے ۔
2:-موصوف اگر غم زدہ خاندان کو تسلی دینا نہیں چاہتے تھے ۔تو جس وقت انہیں اوس وخزرج کے اجتماع کا علم ہوا تو اس وقت حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے خود اندر تشریف کیوں نہ لےگئے ؟
3:- خود جانے کے بجائے انہوں نے کسی اور فرد کو حضرت ابو بکر کو بلانے کے لئے کیوں بھیجا اور خود دروازے پر کھڑے رہنے کو کیوں پسند فرمایا ؟
4:- غم زدہ خاندان کے پاس اس وقت اور بھی اصحاب موجود ہوں گے اس کے باوجود حضرت عمر نے صرف حضرت ابوبکر کو ہی مشہورہ کیلئے طلب کیوں فرمایا ؟
5:- ہمیں بتایا جائے کہ حضرت ابو بکر کا گھر کے اندرہونا اور حضرت عمر کا باہر دروازے پر کھڑا ہونا یہ محض ایک اتفاق تھا یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا ؟
6:- حضرت ابوبکر کے آنے سے پہلے حضرت عمر اور ابو عبیدہ کی جو باہمی گفتگو ہوئی تھی ۔اس میں کن نکات پر اتفاق ہواتھا ؟
7:- حضرت ابوبکر نے مہاجرین کی جو فضیلت بیان فرمائی تھی ۔اس فضیلت

79
میں تمام مہاجر برابر کے شریک تھے یا صرف حضرت عمر اور ابو عبیدہ ہی تمام فضیلت کے مالک تھے ؟
8:-حضرت ابو بکر نےمہاجرین کے استحقاق خلافت کے لئے دو وجوہات بیان فرمائیں ۔
(الف):- انہیں اسلام میں سبقت کا شرف حاصل ہے ۔
(ب):- وہ حضور کریم کا خاندان ہیں
اگر مذکورہ بالا دو وجوہات ہی خلافت کا معیار ہیں تو اس معیار پر حضرت علی علیہ السلام زیادہ اترتے ہیں کیونکہ
(1):- ان کی اسلام میں سبقت مسلم ہے ۔
(2):- وہ حضرت ابو بکر کی بہ نسبت رسول خدا(ص) کے زیادہ قریب ہیں ۔
پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر کے بیان کردہ معیار کے مطابق علی علیہ السلام کو خلافت کا حق دار نہیں سمجھا گیا ؟
9:- خلافت اگر مہاجرین کاہی حق ہے تو پھر حضرت ابو بکر نے مہاجرین میں صرف دو افراد یعنی حضرت عمر اور ابو عبیدہ کے نام ہی کیوں پیش کیے ؟
مذکورہ ناموں کی تخصیص کی کوئی وجہ بیان کی جاسکتی ہے ؟ اور کیا یہ "ترجیح بلا مرجح " تو نہیں تھی ؟
10:-خلافت کو مہاجرین میں ہی محدود کرنا ضروری تھا تو کیا حضرت ابو بکر انصار کو یہ مشہورہ نہیں دے سکتے تھے کہ وہ جس مہاجر کو امیر بنانا چاہیں بنا لیں آخر ایسا کیوں نہیں کیا گیا ؟
11:- بزم مہاجرین میں سے صرف دو افراد کے نام پیش کرنے میں کونسی حکمت تھی ؟طالبان تحقیق کے لئے اس حکمت کو آشکار کیا جائے ۔
12:-حضرت عمر اور ابوعبیدہ نے اس پیش کش کو کیوں مسترد کردیا اور انہوں نے حضرت ابو بکر کی امارت کو کیوں ترجیح دی ؟ اس کی کوئی معقول وجہ بیان فرمائی جائے ۔

80
13:- سقیفہ کی کاروائی کی تمام کڑیاں اتفاقیہ انداز میں ملتی گئیں یا پہلے سے کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت انہیں جوڑا گیا تھا ؟ علم تاریخ کے طلباء کے لئے اس سوال کا جاننا انتہائی ضروری ہے ۔
علمائے اہل سنت سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں تسلی بخش جواب دیں ۔
14:- کیا سقیفہ کی کاروائی اور لشکر اسامہ کا بھی آپس میں کوئی تعلق ہے ؟ اور حضرت عمر اور ابو عبیدہ نے مسجد میں بیٹھ کر جو مشورہ کیا تھا ۔سقیفہ کا اس مشورہ سے بھی کوئی واسطہ تھا ؟۔
حضرت ابو بکر کی رفاقت میں دونوں شخصیات جب سقیفہ کی طرف روانہ ہوئیں ،تو کیا تینوں بزرگوں کی رفاقت تو سقیفہ میں کامیابی کا ذریعہ نہیں بنی ؟
15:- جب چند افراد خلافت کے لئے سقیفہ میں جمع ہوئے تھے تو اس وقت دوسرے مہاجرین کہاں تھے ؟
16:- اوس وخزرج کی پرانی دشمنیاں سقیفہ میں عود کرآئی تھیں ۔کیا ایسا اتفاقی طور پر ہوا تھا یا کوئی خفیہ ہاتھ اس دشمنی کو بھڑکانے پر تلے ہوئے تھے ؟
17:- اور اگر اس آتش عداوت کو بھڑکانے میں خفیہ ہاتھ کارفرما تھے تو ان خفیہ ہاتھوں کی نشاندہی کرنا آپ پسند فرمائیں گے ؟
18:- کیا خلیفہ کا انتخاف تدفین رسول سے بھی زیادہ ضروری تھا ؟۔
19:- کیا حضرت ابو بکر رسول خدا (ص) کی تدفین تک مسلمانوں کو انتظار کرنے کا مشورہ نہيں دے سکتے تھے ؟
آخر ایسی جلدی بازی کی بھی کیا ضرورت تھی کہ اللہ تعالی کے آخری پیغمبر جو کہ رشتہ میں ان کے داماد بھی تھے ،دفن نہیں ہوئے تھے کم از کم ان کے دفن ہونے کا تو انتظار ہی کرلیتے اور کیا اتنی جلدی بازی کرکے انہوں نے اپنے داماد

81
سے حق محبت ادا کرنے میں کوئی کوتاہی تو نہیں کی ؟
20:- کیا سقیفہ کی اس پیچیدہ کاروائی اور کاغذ اور قلم دوات مانگنے کی حدیث اور جیش اسامہ کے واقعات کا کوئی باہمی ارتباط تو نہیں ہے ؟ تاریخ کے طلاب کے لئے درج بالا سوالات کے جواب انتہائی لازمی ہیں ۔میرا اپنا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس پوری کاروائی میں حضرت عمر نے مرکزی کردار ادا کیا ۔انہوں نے ہی ابو عبیدہ سے اس معاملہ میں پہلے مشہورہ کرلیا تھا ۔اور ایک منصوبہ تیار کرلیا تھا ۔جس کی تکمیل کے لئے حضرت ابوبکرکو بلایا گیا بعد ازاں اسلام کے ان "چاند تاروں" نے اثنائے راہ اپنے منصوبے کی باقی جزئیات طے کرلیں ۔
یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر فقط ان دو حضرات (عمر اور ابو عبیدہ)کو ہی پیش کرتے تھے اور یہ دونوں بزرگ حضرت ابو بکر کو پیش کرتے تھے ۔
تو کیا پوری ملت اسلامیہ نے انہیں اپنا نمائندہ بنا کر سقیفہ میں بھیجا تھا ؟۔جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ سقیفہ کے اجلاس میں امت کے افراد کا ایک عشر عشیر تک نہ تھا ۔
تو اتنی اقل القلیل تعداد کو امت اسلامیہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت کس نے دی تھی ؟
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت ابو بکر کو جب بلا یا گیا تو نہ تو اس سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کسی مسلمان سے مشورہ کیا گیا تھا کہ اسلام کی قیادت کے لئے کون سی شخصیت سب سے زیادہ موزوں ہے ۔سقیفہ کی پوری کاروائی کو اتفاقی حادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن ہے یہ ایک طویل منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔جس میں حضرت عمر کا کردار سب سے نمایاں ہے ۔
اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست