المیہ جمعرات
 

52

دور معاویہ میں وضع حدیث
آل محمد(ع) اور بالخصوص حضرت علی علیہ السلام کی مظلومیت کیلئے درج ذیل واقعہ کو ملاحظہ فرمائیں :-
ابو الحسن علی بن محمد بن ابی سیف المدائنی اپنی کتاب "الاحداث" میں رقم طراز ہیں :- کتب معاویۃ الی عمّالہ بعد عام الجماعۃ ان برئت الذمۃ ممّن روی شیا من فضل ابی تراب واھل بیتہ ،فقامت الخطباء فی کل کورۃ وعلی کل منبر یلعنون علیا و یبروؤن منہ ویقعون فیہ وفی اھل بیتہ و کتب معاویۃ الی عمّالہ فی جمیع الافاق ،ان لایجیزوا لاحد من شیعۃ علی واھل بیتہ شھادۃ وکتب الیھم ان انظروا من قبلکم من شیعۃ عثمان و محبیہ و اھل ولا یتہ و الذین یروون مناقبہ وفضائلہ فادنوا مجالسھم وقربوھم واکرموھم واکتبوا لی بکل ما یروی کال رجل و اسمہ و ابیہ و عشریتہ ،ففعلوا ذالک حتی اکثروا فی فضائل عثمان ومناقبہ لما کان یبعثہ الیھم من الصّلات ثم کتب لی عمّالہ ،ان الحدیث عن عثمان قد کثر فاذا جاء کم کتابی ھذا فادعو االناس الی الروایۃ فی فضائل الصحابۃ والخلفاء الاولین ولا تترکوا خبرا یرویہ احد من المسلمین فی ابی تراب الا واتو بمناقص لہ فی الصحابۃ فقرات کتابہ علی الناس فرویت اخبار کثیرۃ فی مناقب الصحابۃ مفتعلۃ لاحقیقۃ لھا ومضی علی ذالک الفقھاء والقضاۃ والولاۃ ۔"
امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد معاویہ نے اپنے حکام کو لکھا کہ :جو شخص ابوتراب اور ان کے اہل بیت کی فضیلت کے متعلق کوئی روایت بیان کرے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں ۔
اس خط کے بعد ہر مقام اور ہر منبر پر لوگ حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کرنے

53
لگے اور ان سے برائت کرتے اور ان کے اور ان کے خاندان کے عیوب بیان کرتے ۔
اس کے بعد معاویہ نے اپنے جملہ حکام کو لکھا کہ : علی اور ان کے اہل بیت کے ماننے والوں کی گواہی قبول نہ کی جائے ۔
اور پھر اپنے حکام کو مزید تحریر کیا کہ عثمان سے محبت رکھنے والے افراد اور ان کے فضائل ومناقب بیان کنے والے لوگوں کو اپنا مقرب بناؤ اور ان کا احترام کرو اور جو شخص عثمان کی فضیلت میں کوئی روایت بیان کرے تو اس شخص کانام ونسب اور بیان کردہ روایت میرے پاس بھیجو۔
حکام نے معاویہ کے ان احکام پر حرف بحرف عمل کیا اور فضائل عثمان بیان کرنے والوں کو گراں بہا انعامات سے نوازا گیا ۔اس کا نتیجہ نکلا کہ عثمان کے فضائل ومناقب بہت زیادہ ہوگئے ۔
پھر مستقبل کے خطرہ کو بھانپتے ہوئے معاویہ نے اپنے حکام کو تحریر کا کہ :فضائل عثمان کی حدیثیں بہت زیادہ ہوچکی ہیں اور جب تمھیں میرا یہ خط ملے لوگوں سے کہو کہ وہ اب صحابہ اور پہلے دوخلفاء کے فضائل کی احادیث تیار کریں اور ہاں اس امر کو ہمیشہ ملخوظ خاطر رکھنا کہ ابو تراب کی شان میں کوئی حدیث موجود ہو تو اس جیسی حدیث صحابہ کے لئے ضرور تیار کی جانی چاہیئے ۔
معاویہ کے یہ خطوط لوگوں کر پڑھ کر سنائے گئے ۔اس کے بعد صحابہ اور پہلے دونوں خلفاء کی شان میں دھڑا دھڑ حدیثیں تیار ہونے لگیں جن کا حقیقت س ے کوئی واسطہ نہ تھا ۔اس دور کے فقہاء ،قاضی اور حکام ان وضعی احادیث کو پھیلاتے رہے
اب مذکورہ سوال یعنی علی علیہ السلام سریر آرائے مسند خلافت کیوں نہ ہو سکے ؟
اس سوال کو حل کرنے کےلئے ہمیں حضرت علی کی سیرت اور زندگانی رسول میں ان کی فدا کاری اور ان کے صلح وجنگ کے فلسفہ کو مدنظر رکھنا ہوگا اور

54
جب ان کی دور رسالت کی زندگی اور ان کا فلسفہ وصلح وجنگ ہمارے پیش نظر ہوگا تو ہم اس گتھی کو سلجھا سکیں گے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس سوال کو سمجھنے کے لئے اسے دو بنیادی سوالوں میں تقسیم کردینا چاہیئے :-
1:- کیا علی علیہ السلام کی اہلیت رکھتے تھے ؟
2:- اگر رکھتے تھے تو انہیں خلافت سے محروم کیوں رکھا گیا ؟
پہلے سوال کے جواب کو سمجھنے کے لئے ہمیں علی کی زندگی کا مطالعہ کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ علی کے والدین کی فدا کاری وایثار کو بھی اپنے سامنے رکھنا ہوگا ۔

ابو طالب(ع) کی اسلامی خدمات
تاریخ اسلام کے معمولی طالب علم کو بھی اس حقیقت کا علم ہے کہ علی کے والد حضرت ابو طالب نے رسول خدا(ص) کی حفاظت کا فریضہ کس طرح سرانجام دیا ہے ۔اگر ہم حضرت ابو طالب کے ایثار کی داستان سنانا چاہیں تو اس کے لئے علیحدہ کتاب کی ضرورت ہوگی ۔
ذیل میں ہم سیرت ابن ہشام سے ابو طالب کی جان نثاری کا ہلکا سا نمونہ پیش کرتے ہیں :
جب رسول خدا(ص) نے تبلیغ دین شروع کی اور اہل مکہ توحید کی دعوت دی اور ان کے خود ساختہ معبودوں کی برائیاں بیان کیں تو قریش کو اس پر سخت غصہ آیا اور انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا کہ ابو طالب رسول خدا(ص) کے محافظ ونگران بنے ہوئے ہیں تو انہوں نے اشراف قریش اور ابو سفیان سرفہرست تھے ۔
قریش کا یہ وفد ابو طالب کے پاس گیا اور ان سے کہا : ابو طالب ! تمھار

55
بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا کہتا ہے اور ہمارے دین کے عیوب بیان کرتا ہے ۔آپ اسے بات سے روکیں یا آپ علیحدہ ہوجائیں ہم خود ہی نمٹ لیں گے ۔
ابو طالب نے ان لوگوں کو نرمی سے سمجھایا اور انہیں واپس بھیج دیا ۔چند دنوں کے بعد قریش دوبارہ ابو طالب کے پاس گئے ۔اس دفعہ بھی ابو طالب نے انہیں واپس بھیج دیا ۔ قریش کو جب یقین ہوگیا کہ ابو طالب محمد مصطفی کو ان کے حوالہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو وہ ایک خوبصورت نوجوان جس کانام عمارہ بن ولید تھا کو لے کر ابو طالب کے پاسے گئے ۔اور ان سے کہا ۔یہ عمارہ بن ولید ہے آپ اسے اپنے پاس ٹھہرا لیں اور اپنا بھتیجا ہمارے حوالے کردیں ۔
یہ سن کر ابو طالب نے کہا تم نے کتنا غلط فیصلہ کیا ہے ۔میں تو تمھارے بیٹے کو پالوں او راپنا تمہارے حوالے کردوں اور تم اسے قتل کردو۔ ابن سعد اپنی کتاب طبقات کبری جلد اول ص 101 پر لکھتے ہیں : جب عبد المطلب کی وفات ہوئی تو ابو طالب نے رسول خدا کو اپنی گود میں لے لیا ۔ وہ رسول خدا(ص) سے اتنی محبت کرتے تھے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔حد یہ ہے کہ انہیں اپنی اولاد سے بھی اتنی محبت نہیں تھی جتنی کہ وہ حضور اکرم (ص) سے کیا کرتے تھے ۔وہ رسول خدا(ص) کو اپنے پہلو میں سلایا کرتے تھے اور جہاں بھی جاتے رسول خدا (ص) کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ۔
ابو طالب کو محمد مصطفی سے ایسا عشق تھا کہ انہیں کسی چیز سے ایسا عشق نہیں تھا ۔

شعب ابی طالب
اسی جان نثاری ک داستان کو ابن اثیر نے الکامل فی التاریخ کی جلد دوم ص 59-62 پر یوں بیان کیا ہے :
"جب قریش نے محسوس کیا کہ دین اسلام روز بروز ترقی کر رہا ہے اور ان

56
کا قاصد عمرو بن العاص بھی نجاشی کے دربار سے ناکام ہوکر واپس آگیا ہے ۔تو انہوں نے اپنے سربراہوں کا اجلاس طلب کیا ۔ جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ بنی ہاشم کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کریں گے اور ان کے ساتھ کوئی رشتہ ناتا نہیں کیا جائے گا ۔
انہوں نے اپنے اس فیصلہ کو لکھ کر کعبہ میں نصب کردیا ۔حضرت ابو طالب بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب کو لے کر پہاڑ کی ایک گھاٹی میں چلے آئے ۔اس گھاٹی کو شعب ابی طالب کہا جاتا ہے ۔اس گھاٹی میں ابو طالب نے قریبا تین برس کا عرصہ گزارا ۔اس کے بعد اللہ تعالی نے رسول خدا (ص) کو وحی کے ذریعہ بتایا کہ صحیفہ کی عبارت کو دیمک چاٹ چکی ہے ۔اس میں صرف اللہ کانام باقی بچا ہے ۔آنحضرت (ص) نے اپنے چچا ابو طالب کو اس امر کی خبر دی ۔ابو طالب حضور اکرم کی کسی بات میں شک نہیں کرتے تھے ۔ جیسے ہی انہوں نے یہ خبر سنی تو فورا حرم میں آئے اور قریش سے کہا کہ تمہارے معاہدہ کو دیمک چاٹ چکی ہے ۔اس میں صرف اللہ کا نام باقی وہ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔پھر انہوں نے فی البدیہہ یہ شعر پڑھے ۔

وقد کان فی امر الصحیفۃ عبرۃ ۔۔۔۔۔متی ما یخبر غائب القوم یعجب
محااللہ عنھم کفرھم وعقوقھم۔۔۔۔۔وما نقموا من ناطق الحق معرب
فاصبح ما قالوا من الامر باطلا ۔۔۔۔۔ومن یختلق مالیس بالحق یکذب

"صحیفہ کےمعاملہ سے عبرت حاصل کرو ۔جب ایک غیر موجود شخص خبر دے تو تعجب ہوتا ہے ۔اللہ نے ان کے کفر ونافرمانی کی عبارتوں کو مٹاڈالا ۔ان لوگوں کو حق کے داعی سے ناحق ضد تھی انہوں نے جو کچھ بھی کہا تھا باطل ہوگیا اور جو شخص جھوٹی بات بنائے گا وہ لازمی طور پر جھٹلایا جائے گا ۔"
جب تک ابو طالب زندہ رہے کسی کافر کی جراءت نہ تھی کہ وہ حضور(ص) کو اذیت دے سکتا ۔لیکن جب ان کی وفات ہوگئی تو کافروں کے لئے میدان صاف

57
ہوگیا اور انہوں نے دل کھول کر نبی کریم (ص) کو تکلیفیں پہنچائیں ۔نبی کریم(ص) نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :-
"ما نالت قریش شیا منی اکرھہ حتی مات ابو طالب " جب تک ابو طالب زندہ رہے قریش مجھے اذیت نہ دیتے تھے :(1)۔
ابو طالب کی فدا کاری اور جاں نثاری کو ہم مورخ ابن خلدون کے ان الفاظ سے ختم کرتے ہیں ۔
رسول خدا(ص)آٹھ برس کے تھے کہ ان کے دادا عبد المطلب کی وفات ہوئی ۔عبد المطلب نے اپنی وفات سے پہلے محمد مصطفی (ص) کو ابو طالب کے حوالہ کیا تھا ۔ ابو طالب نے احسن انداز میں نبی کریم (ص) کی پرورش فرمائی ۔ابو طالب رسول خدا کی زندگی کے تمام لمحات کو بغور دیکھا کرتے تھے ۔انہوں نے آپ کے لڑکپن اور جوانی کا بہت اچھا مشاہدہ کیا اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ رسول خدا دورجاہلیت کی تمام رسومات سے دور رہاکرتے تھے ۔ہجرت سے تین بر س قبل ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی ۔شفیق چچا اور فدا کار زوجہ کی وفات رسول خدا(ص) کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا ۔ابو طالب کے خوف سے سہمے ہوئے قریش نے حضور اکرم (ص) کو ستانا شروع کیا اور اپ کی جائے نماز پر غلاظت ڈالی گئی ۔(2)
حضرت علی علیہ السلام کے والد ماجد کی فدا کاری کی یہ مختصر سی تاریخ تی اور حضرت علی علیہ السلام کی والدہ ماجدہ نے رسول اسلام (ص) کی کیا خدمت سرانجام دی اوراق کتاب کی تنگ دامنی کی وجہ سے ہم اس کی تفصیل بتانے سے قاصر ہیں ۔ان کی عظمت کے لئے یہی بات ہی کافی ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو رسول خدا(ص) نے ان کے کفن کے لئے اپنی قمیص اتار کردی اور جب قبر تیار ہوئی تو رسول خدا(ص) چچی کے جنازے سے پہلے خود لحد میں اترے ۔لحد کی مٹی کو اپنے ہاتھوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- الکامل فی التاریخ جلد دوم ص 59-62
(2):- تاریخ ابن خلدون جلد دوم ص 171