المیہ جمعرات
 

41

سواد اعظم کا نظریہ خلافت
مسلمانوں کے دوسرے فریق کے نظریہ کے مطابق خلافت کے لئے اگر چہ دینی تعلیمات کی پابندی ضروری ہے لیکن بایں ہمہ وہ اول وآخر دنیاوی معاملہ ہے ۔ اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خلافت کے لئے نص نہیں فرمائی ۔کیونکہ یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے نہیں تھا ۔
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خدا کے فورا بعد کچھ مسلمان سقیفہ بنی ساعدہ (1) میں خلیفہ کے لئےجمع ہوئے ۔انہوں نے یہ عظیم منصب حضرت ابو بکر کے حوالہ کیا ۔ انہوں نے حضرت عمر کو نامزد کیا ۔انہوں نے شوری قائم کی ،شوری نے حضرت عثمان کا انتخاب کیا اور ان کی وفات کے بعد لوگوں نے حضرت علی کا انتخاب کیا ۔ یہ چاروں بزرگواروں خلفائے راشدین کہلاتے ہیں اور دینی اعتبار سے بھی ان کی فضیلت کی ترتیب یہی ہے ۔ اس نظریہ کے حامل افراد یہ کہتے ہیں کہ وفات رسول تک یہ دینی احکام کی تکمیل ہوچکی تھی اور زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق ضروری ہدایت بھی مل چکی تھیں اسی لئے کسی آسمانی خلافت کی امت کو ضرورت نہیں رہی تھیں اسی نظریہ کی ترجمانی کرتے ہوئے استاد عبد الفتاح عبد المقصود اپنی کتاب "الامام علی بن ابی طالب " میں لکھتے ہیں :-
"اسلامی خلافت کا تعلق دنیاوی نظام زندگی سے ہے اور دنیا کے دیگر رائج نظریات حکومت کی طرح خلافت بھی ایک نظریہ ہے ۔خلافت رائے اور فکر کی پیداوار ہے اس کا نص سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ کیونکہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں کسی کو اپنی خلافت کیلئۓ صریح الفاظ میں نامزد نہیں فرمایا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-سقیفہ ایک جگہ تھی جہاں دور جاہلیت میں لوگ امور باطل کو سرانجام دینے کے لئے جمع ہوتے تھے اور مجازا بے ہودہ گفتگو کو بھی سقیفہ کہا جاتا ہے ۔غیاث اللغات طبع ہند مادہ "سقف"

42
ہاں یہ درست ہے کہ آپ (ص) نے وقتا فوقتا ایسے اشارات ضرورکئے تھے لیکن صحابہ اس کی تاویل سے قاصر رہے اس کے ساتھ چند احادیث ایسی بھی ہین جن میں خلافت کے لئے صریح الفاظ کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے ۔مثلا حدیث غدیر اور حدیث خاصف النعل ،تو ان جیسی احادیث کو صراحت استخلاف کے لئے پیش کیا جاسکتا ہے (1)

معتزلہ کا نظریہ خلافت
اسی مسئلہ کے متعلق ایک تیسرا نظریہ بھی ہے جو کہ ان دونوں فریقوں کے نظریات کے "بین بین " ہے ۔
اس نظریہ کے حامل افراد اہل سنت کے اس نظریہ سے اتفاق کرتے ہیں کہ خلافت ہر لحاظ سے ایک دنیاوی معاملہ ہے اور رسول خدا (ص) نے اس کے لئے کوئی نص صریح نہیں فرمائی ۔لیکن اس کے باوجود علی علیہ السلام ،حضرت ابو بکر کی بہ نسبت خلافت کے زیادہ حقدار ہیں ۔کیونکہ علی علیہ السلام ہر لحاظ سے پوری امت مسلمہ کے افضل فرد ہیں ۔
اسی نظریہ کے حامل افراد میں سے ابن ابی الحدید کی رائے کو ہم ان کی کتاب شرح نہج البلاغہ سے نقل کرتے ہیں :-
"ہمارے تمام شیوخ کا اتفاق ہے کہ حضرت ابو بکر کی بیعت صحیح اور شرعی تھی اور ان کی خلافت نص پر قائم نہیں ہوئی تھی ۔
ان کی خلافت اجماع اور اجماع کے علاوہ دوسرے طریقوں کے تحت قائم ہوئی تھی ۔ ہمارے شیوخ کا تفصیل میں اختلاف ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-خلافت کی نصوص صریحہ کے لئے علامہ امینی کی مشہور کتاب "الغدیر کا مطالعہ فرمائیں یہ کتب گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔

43
ابو عثمان اور عمرو بن عبید جیسے متقدمین کہتے ہیں کہ ابو بکر ،علی سے افضل ہیں ۔اور خلفا ئے راشدین کی فضلیت کی ترتیب وہی ہے جو کہ ان کی خلافت کی ترتیب ہے ۔ہمارے بغداد ی شیوخ خواہ متقدمین ہوں یا متاخرین ان سب کی متفقہ رائے یہ ہے کہ :-
علی علیہ السلام حضرت ابو بکر سے افضل ہیں ۔ اور بصرہ کے مندرجہ ذیل علما بھی اس مسئلہ میں ان کے موید ہیں ۔ابو علی محمد بن عبد الوہاب الجبائی ،شیخ ابو عبداللہ الحسین بن علی البصیری اور قاضی القضاۃ عبد الجبار بن احمد اور ابو محمد حس بن متویہ وغیرہ ۔
علاوہ ازیں ابو حذیفہ واصل بن عطاء اور ابی الھذیل محمد بن الہذیل العلاف کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت علی (ع) اور حضرت ابوبکر کی تفصیل کے متعلق ہمیں خاموش رہنا چاہیئے البتہ علی علیہ السلام حضرت عثمان سے ہر لحاظ سے افضل تھے ۔
اور جہاں تک ہقا اپنا تعلق ہے تو ہم اپنے بغدادی شیوخ کے نظریہ کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت علی کو باقی تمام لوگوں سے افضل وبہتر سمجھتے ہیں "۔
فرقہ معتزلہ کے یہ فاضل شخص شرح نہج البلاغہ میں ایک دوسرے مقام پر لکھتے ہیں کہ کافی بحث وتمحیص کے بعد فرقہ معتزلہ نے تفضیل کے متعلق یہ رائے قائم کی ہے :
"حضرت علی (ع) پوری امت اسلامیہ میں سے افضل ترین فرد تھے ۔ لوگوں نے چند مصلحتوں کی وجہ سے انہیں خلافت سے محروم رکھا ۔حضرت علی (ع) کی خلافت کے متعلق نصوص قطعیہ موجود نہ تھیں ہاں اگر نصوص موجود بھی تھیں تو بھی ان کے مفہوم میں اشتباہ موجود تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے پہلے پہل حضرت ابوبکر کی حکومت سے اختلاف کیا لیکن پھر مصالحت کرلی ۔اگر علی (ع) سابقہ مخالفت پر ڈٹے رہتے تو ہم حضرت ابوبکر کی خلافت کو غلط قرار دیتے الغرض ہمارا نظریہ یہی

44
ہے کہ : حضرت علی (ع)ہی خلافت کے اصل مالک ووارث تھے ۔خواہ خلافت پر فائز ہوتے تو بھی ان کا حق تھا اور اگر انہوں نے کسی اور کو خلافت پر فائز ہونے دیا تو بھی یہ ان کا استحقاق تھا ۔البتہ اس مقام پر ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ انہوں نے اور لوگوں کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا اسی لیے ہم بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے بزرگوں کی خلافت کو تسلیم کرتے ہیں اور جس پر علی (ع)راضی تھے ہم بھی اس پر راضی ہیں (1)"۔
تو اس فریق کے نظریہ کی تلخیص ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ یہ فریق حضرت علی علیہ السلام کو حضرت ابو بکر سے افضل مانتا ہے اور انہیں خلافت کا صحیح حقدار قرار دیتا ہے ۔البتہ ان کے لئے رسول اکرم (ص) کی طرف سے کسی نص کا قائل نہیں ہے ۔اس لحاظ سے صورت حال یہ ہوگی کہ شرعی تقاضوں کے تحت حضرت علی (ع) خلیفہ تھے اور حضرت ابو بکر چونکہ مخصوص حالات کی وجہ سے خلیفہ بن چکے تھے اور حضرت علی (ع) نے بھی مزاحمت نہیں کی تھی ۔ اسی لئے ان کی خلافت بھی درست ہے ۔
الغرض مسئلہ خلافت ہر دور میں اختلاف کا محور رہا ہے ۔اسی سے دوسرے اختلاف نے ہمیشہ جنم لیا ہے ۔وفات رسول (ص) سے لے کر آج تک یہ مسئلہ ہر دور میں نزاعی رہا ہے ۔مسئلہ خلافت کیلئے ہر فریق نے اپنی رائۓ کو درست قرار دیا اور دوسرے فریق کی رائے کو ہمیشہ جھوٹ اور بہتان کہہ کر ٹھکرایا ہے ۔
تاریخ کوئی شخص نص ووصیت کا انکار کرتا ہے تو پھر وہ اس بات کا قائل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی 2/72 طبع اول مطبوعہ مصر ۔

45
ہے کہ پیغمبر خدا کو امت اسلامیہ کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں تھی ۔اور آپ کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ امت کے کتنے ٹکڑے ہوجائیں گے اور امت کتنی زبوں حالی کا شکار ہوجائے گی ۔
جب کہ تاریخی حقائق اس نظریہ کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں ۔آپ حدیث قرطاس کو ہی لے لیں ۔جس پر ہم سابقہ اوراق میں کافی بحث کرچکے ہیں لیکن اس مقام پر بھی ہم مذکورہ حدیث کو پیش کرنا چاہتے ہیں ۔

حدیث قرطاس
ابن اثیر اپنی کتاب الکامل فی التاریخ جلد دوم صفحہ نمبر 217 پر تحریر کرتے ہیں :- اشتد برسول اللہ مرضہ وجعہ فقال ایتونی بدواۃ وبیضاء اکتب لکم کتابا لاتضلون بعدی ابدا ،فتنازعوا ،ولا ینبغی عند نبی تنازع ،فقالوا ان رسول اللہ یھجر ،فجعلوا یعیدون علیہ ،فقال دعونی فما انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ ،فاوصی بثلاث ،ان یخرج المشرکون من جزیرۃ العرب وان یجازی الوفد بنحو ما کان یجیزھم ،وسکت عن الثالثۃ عمدا وقال نسیتھا ۔"
جناب رسول خدا (ص) کی بیماری اور درد میں اضافہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ :-میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمہیں تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے ۔ یہ سن کر لوگوں نے جھگڑنا شروع کردیا جبکہ نبی کے پاس جھگڑا کرنا نامناسب تھا ۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ رسول خدا ہذیان کہہ رہے ہیں اور بار بار یہی کہنے لگے ۔اس پر رسول خدا(ص)نے فرمایا : میں جس تکلیف میں ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلانا چاہتے ہو ۔آپ نے تین امور کی وصیت کی ۔
1:- مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دیا جائے ۔

46
2:- وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہنا چاہیئے جیسا کہ میں بھیجا کرتا تھا اور تیسری وصیت کو جان بوجھ کر چھپایا گیا اور کہا کہ وہ مجھے بھول گئی ہے ۔امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس روایت کو یوں نقل کیا ہے ۔
"حدّثنا سفیان عن سلیمان الاحول عن سعید بن جبیر قال قال ابن عباس ،اشتد برسول اللہ وجعہ فقال ایتونی اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ ابدا ۔فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازع ،فقالوا ماشانہ اھجر ؟ استفھموہ ۔فذھبوا یرددون علیہ فقال ۔دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ ،واوصاھم بثلاث قال اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب ،واجیزوا الوفد بنحو ما کنت اجیزھم ،وسکت عن الثالثۃ او قال نسیتھا ۔"
رسول خدا (ص) کی تکلیف میں اضافہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں تمھارے لیئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے اس کے بعد لوگوں میں تنازعہ پیدا ہوگیا جب کہ نبی کے پاس تنازعہ نامناسب تھا ۔ پھر وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا نبی ہذیان کہہ رہے ہیں اور بار بار اسی جملہ کا تکرار کرنے لگے ۔اس پر حضور اکرم (ص) نے فرمایا :" میں جس تکلیف میں ہوں وہ تمہاری دعوت سے کئی گنا بہتر ہے اور آپ نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی :
1:- جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو
2:- وفد بھیجنے کا سلسلہ اس طرح جاری رہنا چاہئیے جیسا کہ میں بھیجا کرتا تھا ۔روای نے تیسری وصیت کے متعلق خاموشی اختیار کرلی یا اس نے کہا :مجھے تیسری بات بھول گئی ہے ۔
امام بخاری نے ایک اور سند سے اسی حدیث کو یوں بیان کیا ہے "لمّا حضر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم وفی البیت رجال ،فقال النبی ھلموا اکتب لکم کتابا لاتضلوا بعدہ ،فقال بعضھم ان رسول اللہ قد غلب علیہ الوجع وعندکم القرآن ،وحسبنا کتاب اللہ ،فاختلف اھل البیت واختصموا

47
فلمّا اکثروا اللغو والاختلاف قال رسول اللہ قومو۔۔" ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضور کریم (ص) کا وقت آخر گھر میں بہت سے افراد موجود تھے ۔رسول خدا(ص) نے فرمایا : میں تمہیں ایسی تحریر لکھ کر دینا چاہتا ہوں کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہوگے ۔تو ان میں سے بعض نے کہا رسول خدا(ص) پر درد کا غلبہ ہے اور تمھارے پاس قرآن موجود ہے ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں موجود افراد کا اس بات پر اختلاف ہوگیا اور وہ جھگڑنے لگے ۔جب حضور کریم کے پاس اختلاف اور بے ہودہ گوئی زیادہ بڑھی تو آپ نے فرمایا اٹھ کر چلے جاؤ ۔
اسی حدیث کو ابن سعد نے اپنی کتاب طبقات کبری جلد 4 ص 60-61 پر اس طرح نقل کیا ہے ۔
"ان رسول اللہ عند ما حضر تہ الوفاۃ و کان معہ فی البیت رجال فیھم عمر بن الخطاب قال ، ھلموا اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ ، فقال عمر ان رسول اللہ قد غلبہ الوجع وعندکم القرآن حسبنا کتاب اللہ ،فاختلف اھل البیت واختصموا ،فلما کثر اللغط و الآختلاف قال النبی قوموا عنی "۔
حضور کریم (ص) کی وفات کے وقت گھر میں بہت سے افراد تھے ان میں عمر بن خطاب بھی موجود تھے ،حضور نے فرمایا تم کاغذ اور قلم دوات لاؤ ،میں تمہارے لئے تحریر لکھدوں جس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے ۔حضرت عمر نے کہا اس وقت رسول خدا(ص) پر درد کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے افراد کا آپس میں اختلاف ہوگیا اور جھگڑنے لگے ۔جب حضور اکرم (ص) کے پاس شوروغوغا بڑھ گیا تو آپ نے فرمایا :میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ ۔
اس حدیث کے پڑھنے کے بعد آپ خد اپنے ضمیر اور وجدان کی عدالت میں فیصلہ کریں رسول کریم (ص) کے فرمان کو سن کر حضرت عمر نے جو جواب دیا

48
کیا وہ حضور اکرم (ص) کی شخصیت کے مطابق تھا؟ اور کیا آداب صحبت ایسے جواب کی اجازت دیتے ہیں ؟ اور کیا دین اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ حضور اکرم (ص) کے فرمان کو ہذیان کہہ کر ان کی توہین کی جائے ؟
آپ حضرت عمر کے جواب کو ملحوظ خاطر رکھیں اور قرآن مجید کی اس آیت کو بھی پڑھیں "وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی "(النجم 3-4)
رسول اپنی خواہش سے نہیں بولتے وہ تو وہی کہتے ہیں جو وحی کہتی ہے اس آیت کی موجود گی میں حضرت عمر کے جواب کی شرعی حیثیت کیا قراردپائی ہے ۔اس کا فیصلہ ہم اپنے منصف مزاج قارئین کے حوالہ کرتے ہیں ۔عجیب بات تو یہ ہے کہ صحابہ نے حضور اکرم (ص) سے بہت سے ایسے سوال بھی دریافت کیے تھے جو کہ مسئلہ خلافت سے بہت ہی کم اہمیت کے حامل تھے ۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ :- صحابہ نے آپ سے دریافت کیا کہ آپ کو غسل کون دے ؟ تو آپ نے فرمایا میرے خاندان کے قریبی افراد مجھے غسل دیں ۔ اور صحابہ نے آپ سے دریافت کیا آپ کا کفن کیسا ہونا چاہیے تو فرمایا مجھے میرے اپنے کپڑوں کا ہی کفن پہنایا جائے یا مصری کپڑے کا کفن دیا جائے یا یمنی پارچہ کا کفن بنایا جائے ۔صحابہ نے آپ سے پوچھا تھا کہ آپ کو قبر میں کون اتارے ؟ تو فرمایا کہ میرے خاندان کے افراد مجھے قبر میں اتاریں ۔
اس روایت کو پڑھنے کے بعد لگتی کہیئے کہ صحابہ کفن ،دفن اور قبر میں اتارنے والے کے متعلق پوچھتے رہے ،کیا انہوں نے آپ سے یہ نہیں پو چھا ہوگا کہ آپ کا جانشین کون ہوگا ؟ یا خود حضور کریم نے صحابہ کو نہیں بتایا ہوگا کہ میرا جانشین کون ہے ؟
ابن خلدون اسی صفحہ پر لکھتے ہیں کہ اس کے بعد رسول خدا نے فرمایا میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم

49
کبھی گمراہ نہ ہوگے ۔یہ سن کر لوگوں نے جھگڑنا شروع کردیا کچھ لوگوں نے کہا کہ حضور ہذیان کہہ رہے ہیں اور مسلسل فرمان پیغمبر کو ہذیان کہتے رہے آپ نے فرمایا : میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے کہیں بہتر ہے جس کی تم مجھے دعوت دے رہے ہو ۔(1)

قارئین کرام !
اب آپ فیصلہ کریں کہ رسول کو تحریر کیوں نہ لکھنے دی اور یہ مزاحمت کیوں کی گئی اور اس ہنگامہ دار و گیر کی آخر ضرورت کیوں پیش آئی ؟
کیا ایسا تو نہ تھا کہ حضور اکرم اپنی زندگی کے مختلف اوقات میں جس شخصیت کی جانشینی کا ذکر کرتے رہتے تھے ،آخری وقت میں اسے تحریری شکل میں لکھ دینا چاہتے تھے ؟
تاکہ کسی کو ان کی جانشینی کے متعلق کوئی شک وشبہہ نہ رہ سکے اور حضرت عمر بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے ۔حضور اکرم کا ارادہ بھانپ کر انہوں نے اس کی بھر پور مخالفت کی اور عجیب و غریب بات یہ ہے کہ محدثین کہتے ہیں کہ حضور نے تین چیزوں
کے متعلق وصیت فرمائی تھی ۔ دو وصیتیں تو بیان بھی کی گئی ہیں اور حضرت ابو بکر نے ان دونوں پر عمل بھی کیا تھا ۔لیکن تیسری وصیت راوی کو بھول جاتی ہے ۔یا وہ اسے جان بوجھ کر بیان نہیں کرتا ۔
اسی تیسری وصیت کو رسول خدا (ص) تحریری صورت میں لانا چاہتے تھے اور اس پر ہذیان کہہ کر حضور کریم کی شان میں گستاخی کی گئی ۔تعجب تو یہ ہے کہ کل وصیتیں تین تھیں دو وصیتیں کے وقت حضور اپنے ہوش وحواس میں تھے لیکن تیسری وصیت کے وقت ان پر ہذیان طاری ہوگا تھا ۔(نعوذ باللہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تاریخ ابن خلدون ج 2 ص 297

50

رسول خدا (ص) کیا لکھنا چاہتے تھے ؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری وقت میں رسول خدا (ص) کیالکھنا چاہتے تھے ؟ اس سوال کا جواب خود حضرت عمر نے اپنی زبان سے دیا ہے ۔جسے احمد بن ابی طاہر نے تاریخ بغداد میں اپنی اسناد سے لکھا ہے ۔اور ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد 3 ص 97 پر نقل کیا ہے ۔جس کا خلاصہ یہ ہے :" حضرت عبداللہ بن عباس ،حضرت عمر کے ساتھ چل رہے تھے تو حضرت عمر نے ان سے کہا کہ ابن عباس !اگر تم نے اس بات کو چھپایا تو تم پر ایک اونٹ کی قربانی لازمی ہوگی ۔۔۔۔۔کیا اب بھی علی کے دل میں امر خلافت کے متعلق کوئی خلش باقی ہے ؟
ابن عباس نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر نے کہا :کیا علی یہ سمجھتے ہیں کہ رسول خدا نے ان کی خلافت پر نص فرمائی تھی ؟
ابن عباس نے کہا جی ہاں ! تو حضرت عمر نے کہا کہ رسول خدا(ص) نے اپنی زندگی میں متعدد مرتبہ ایسے اشارے ضرور کئے تھے لیکن ان میں بات کی وضاحت موجود نہ تھی ۔ رسول خدا نے اپنے مرض الموت میں اس خواہش کو لکھنا چاہا تھا اور ان کا پورا ارادہ ہوگیا تھا کہ علی کانام تحریری طور پر رکھ دیں ۔ میں نے اسلام ومسلمین کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا نہ کرنے دیا ۔
میری مخالفت کی وجہ سے رسول خدا(ص) بھی سمجھ گئے کہ میں ان کے مافی الضمیر کو تاڑ چکا ہوں اسی وجہ سے رسول خدا(ص) رک گئے ۔"
اگر یہ روایت درست ہے تو اس کامقصد یہ ہے کہ حضرت عمر کو جناب رسول خدا سے بھی زیادہ اسلام کا مفاد عزیز تھا ۔ اگر امر واقعہ یہی ہے تو پھر اللہ تعالی کو (نعوذ باللہ) چاہئیے تھا کہ وہ حضور اکرم کی بجائے حضرت عمر کو ہی نبوت عطا فرماتا ۔
51
اگر ہم بحث وتحقیق کی سہولت کے مد نظر خلافت کے دنیاوی پہلو کو نظر انداز کردیں اور ان تاریخی حقائق سے بھی صرف نظر کرلیں جسے فریق اول پیش کرتا ہے اور ہم اپنے آپ کو صرف ان تاریخی حوالہ جات کا پابند بنالیں جسے فریق ثانی نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے تو بھی ہم کسی بہتر نتیجہ کو اخذ کرنے کے قابل رہیں گے ۔
اس مقام پر سوال یہ ہے کہ رسول خدا کی وفات کے بعد حضرت علی بر سر خلافت پر کیوں فائز نہ ہوسکے ؟
اس سوال کا اہل سنت کی کتابوں سے جواب دینے سے پہلے ہم یہ ضروری گزارش کریں گے کہ ہمارے یہ جوابات ،"اقناعی " ہوں گے ۔ کیونکہ اس موضوع کے متعلق اکثر تاریخی حقائق کو تلف کیا جاتا رہا ہے اور اموی اور عباسی دواقتدار میں ہر ممکن تحریف کی گئی ہے ۔
تاریخ میں ہم اس حقیقت کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ وفات رسول (ص) کے بعد نسل ابو طالب کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا اور اس دور کی حکومتیں اہل بیت طاہرین سے بد ترین عناد رکھتی تھیں ۔ اور "الناس علی دین ملوکھم " کے تحت اس زمانہ کے اہل علم ،راوۃ و قضاۃ نے بھی آل محمد (ع) کی تنقیص کو طلب دنیا کا وسیلہ بنایا اور آل محمد (ص) کی عداوت کو سلاطین وحکام کیلئے ذریعہ تقرب قرار دیا اور آل محد(ع) کی جو فضیلت چھپانے کے باوجود نہ چھپ سکی تو اس جیسی روایت اغیار کیلئے وضع کی گئی ۔
اس کے باوجود آل محمد(ع) کی صداقت کا یہ معجزہ ہے کہ ان کے فضائل ومناقب آج بھی کتابوں میں موجود ہیں اور ان کی مظلومیت کی داستان بھی سیر وتواریخ میں وموجود ہے ۔
اس کتاب میں ہم بھی حتی المقدور مستند کتب تاریخ و سیر کے حوالے جات پیش کریں گے ۔