المیہ جمعرات
 

35

فصل اول
مسئلہ وصیت
خلافت کے متعلق امت اسلامیہ میں دونظریئے پائے جاتے ہیں ۔مسلمانوں کا ایک گروہ خلافت کو بیک وقت دینی اور دنیاوی مسئلہ قراردیتا ہے ۔
خلافت کا تعلق دین سے تو یہ ہے کہ خلیفہ کو تمام امور میں احکام دین کی پیروی کرنی پڑتی ہے ۔اور خلیفہ کو بھی اپنے منیب کی طرح معصوم عن الخطا ہونا چاہئیے اور اسے تمام امور دین کا عالم ہونا چاہئے اور خلافت کا تعلق دنیا سے یہ ہے کہ خلیفہ بھی انسان ہی ہوتا ہے اور اس پر وحی تشریعی کا نزول نہیں ہوتا اور وہ بھی احکام دین کا اسی طرح سے مکلف ہوتا ہے جیسا کہ امت کے باقی افراد ہوتے ہیں ۔اور خلیفہ کا انتخاب خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا اظہار نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور نبی کے بعد خلیفہ ہی دین اسلام کی تعلیمات کا محافظ ہوتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی تعلیمات کا نفاذ بھی اسی کی ذمہ داری ہے اس نظریہ کے تحت نبوت کے بعد خلافت کا درجہ ہے اور خلافت کو بھی اتنا ہی پاک وپاکیزہ ہونا چاہئیے جتنی کہ نبوت پاک وپاکیزہ ہے ۔
اس نظریہ کے حامل گروہ کی رائے یہ ہے کہ اللہ نے اپنے نبی (ص) کو جانشین مقرر کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی اکرم نے حکم خداوندی کے تحت حضرت علی (ع) کی امامت وخلافت کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن حضور اکرم کی وفات کے بعد چند لوگوں نے انہیں ان کے اس حق سے محروم رکھا اور انہوں نے اپنی خود ساختہ خلافت قائم کی ۔
مگر اس کے باوجود رسول خدا کے حقیقی اور پہلے جانشین حضرت علی (ص)ہی تھے اگر چہ وہ ایک طویل عرصہ تک اپنے فرائض کی کما حقہ ادائیگی سے قاصر رہے لیکن اس میں ان کی ذات کا کوئی دوش نہیں تھا ۔ ساری غلطی ان کے حریفوں کی تھی ۔

36
یہ گروہ مسئلہ امامت و خلافت کو دینی منصب ثابت کرنے کے لئے یہ استدلال کرتا ہے :
رسول خدا (ص) نے دین و دنیا کی تعلیم دی ہے اور حضور کے لئے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ مسلمانوں کے لئے کوئی رہبر و رہنما مقرر کرکے جائیں ۔تاکہ آپ کے بعد امت افتراق و انتشار کا شکار نہ ہو اور امت کی رہبری کے لئے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ہر لحاظ سے موزوں ہو اور دین ودنیا کے معاملات سے بخوبی آگاہ ہو اور وہ مکارم اخلاق کا بلند ترین نمونہ ہو ۔ دین اسلام صرف قبیلہ قریش یا صرف سرزمین حجاز کے لوگوں کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ یہ دین پوری انسانیت کے لئے آیاتھا ۔تو اسی لئے ضروری ہے کہ کسی ایسے شخص کو نامزد کیا جائے جو ہر لحاظ سے لائق و فائق ہو ۔
1:- اور مسئلہ خلافت کو امت کے سپرد کرکے چلے جانا کوئی معقول بات نہیں ہے اور اتنے اہم ترین مسئلہ کو لوگوں کی صوابدید پر چھوڑنا مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر اس حساس مسئلہ کو بھی عوام الناس کی پسند وناپسند پر چھوڑدیا جائے تو اس سے بہت زیادہ پیچیدگیاں جنم لیں گی ۔اور اگر بالفرض عوام کو ہی حق انتخاب حاصل ہے تو پھر یہ حق تمام مسلمانوں کو حاصل ہے یا ایک مخصوص گروہ کو حاصل ہے ؟
2:- اور اگر یہ مخصوص گروہ کا حق ہے تو اس گروہ کی وجہ استحقاق کیا ہے ؟
اور اس گروہ کی آخر وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ امتیاز حاصل ہوا ہے ؟
3:-اور کیا انتخاب خلیفہ کا حق صرف حضرت ابو بکر وحضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ اور ان دو چار انصار کو ہی حاصل ہے جو کہ سقیفہ میں موجود تھے ؟
4:- اور کیا حضرت علی (ع)اور جملہ بنی ہاشم اور سعد بن عبادہ اور ان کے فرزند ،حضرت سلمان فارسی ،حضرت ابو ذر غفاری ،حضرت مقداد بن اسود ،حضر ت عمار

37
بن یاسر، حضرت زبیر بن عوام ،حضرت خالد بن سعید اور حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت بریرہ جیسے بلند صحابہ کی مخالفت کے باوجود بھی سقیفائی خلافت کو درست سمجھا جاسکتا ہے ؟۔
5:-اور کیا جب اتنے عظیم المرتبت افراد بھی مخالف ہوں تو اس کے باوجود بھی خلافت کو کامل الشروط سمجھنا درست ہوسکتا ہے ؟
6:- اور اگر مسلمانوں کو ایک افضل فرد کے انتخاب کا حق بھی دے دیا جائے تو کیا وہ فی الحقیقت ایک افضل ترین فرد کا ہی انتخاب کریں گے جب کہ ان میں قبائلی عصبیت بھی موجود ہو؟۔
7:-اور کیا جناب رسول خدا(ص) ان قبائلی عصبیتوں کو جانتے ہوئے بھی خلیفہ کا انتخاب اس لئے ان کے حوالے کرکے گئے تھے کہ آپ ان عصبیتوں کو مزید برانگیختہ کرنا چاہتے تھے ؟
8:-اور اگر لکھنا ضروری ہے تو یہ بتایا جائے کہ اس دور میں کتنے افراد خواندہ تھے جب کہ ان لوگوں کو ان پڑھ ہونے کی وجہ سے "امیّین" کہا جاتا تھا؟ اور یہ بیان کیا جائے کہ یہ انتخاب کہاں عمل میں لایا جائے گا ۔
10:- اور کیا تمام شہروں اور قصبوں میں اس کے لئے "پولنگ بوتھ" قائم کئے جائیں یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے گا ؟
11:- اور امید وار کو اپنی پبلسٹی کا حق بھی دیا جائے گا یا نہیں ؟
12:- اور یہ انتخاب کس طرح سے رو بہ عمل لایا جائے گا ؟
13:- اور اس انتخاب کے لئے کتنے وقت کی ضرورت ہوگی ؟

38
14:- اور وفات رسول (ص) اور خلیفہ کے انتخاب کے درمیانی عرصہ میں مسلمانوں کے امور کس کے سپرد ہوں گے ؟
درج بالا سوالات کے جواب انتہائی ضروری ہیں ۔

خلافت علی (ع) کے دلائل
مسلمانوں کا وہ گروہ جو خلافت و امامت کو مخصوص من اللہ قرار دیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں انکا موقف بڑا ٹھوس اور واضح ہے ۔وہ گروہ یہ کہتا ہے کہ رسول خدا(ص) نے ہجرت کے دسویں سال حج بیت اللہ کا ارادہ کیا اور تمام عرب میں اس کی منادی کرائی گئی ۔مسلمان پورے جزیرہ عرب سے سمٹ کر حج کے لئے آئے اور اس حج کو حجۃ الوداع کہا جاتا ہے ۔
جناب رسول خدا(ص) مناسک حج سے فراغت حاصل کرنے کے بعد مدینہ واپس آرہے تھے اور جب غدیر خم پر پہنچے اور یہ مقام جحقہ کے قریب ہے اور یہاں سے ہی مصر اور عراق کی راہیں جداہوتی ہیں ۔
اس مقام پر اللہ تعالی نے اپنے حبیب پر یہ آیت نازل فرمائی :- "یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لایھدی القوم الکافرین "(المائدہ نمبر 67)"
اے رسول ! اس حکم کو پہنچائیں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا کوئی پیغام ہی نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا ۔ بے شک اللہ منکر قوم کو ہدایت نہیں کرتا ۔
اس آیت مجیدہ کے نزول کے بعد آپ نے اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنوایا اور تمام لوگ جمع ہوگئے تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا اور حضرت علی کے بازو کو بلند کرکے

39
اعلان کیا :-" ان اللہ مولای و انا مولی المومنین " اللہ میرا مولا ہے اور میں اہل ایمان کا مولا ہوں پھر فرمایا :- "من کنت مولاہ فعلی مولاہ "(1) جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے ۔
اس کے بعد اللہ تعالی نے تکمیل دین کا اعلان کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی :- " الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا " (المائدہ)
آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمھارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کیا ۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا(ص) نے شکر کرتے ہوئے کہا
"الحمد اللہ علی اکمال الدین واتمام النعمۃ ۔۔۔۔۔۔۔و الولایۃ لعلی " تکمیل دین اور تمام نعمت اور ولایت علی پر اللہ کی حمد ہے ۔
اس مقام پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقعہ کی یاد گار کے طور پر شیعہ عید غدیر کا جشن منانے لگے ۔مقریزی نے اس جشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
"جاننا چا ہئیے کہ اسلام کے ابتدائی ایام میں عید غدیر کے نام سے کوئی عید نہیں منائی جاتی تھی اور سلف صالحین سے بھی اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ۔یہ عید سب سے پہلے سن 352 ھ میں معز الدولہ علی بن بابویہ کے دور میں عراق میں منائی گئی اور اس کی بنیاد اس حدیث پر تھی ۔جس کی روایت امام احمد نے اپنی مسند کبیر میں براء بن عازب کی زبانی کی ہے وہ کہتے ہیں :-
ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور مقام غدیر خم پر پہنچے تو "الصلواۃ جامعۃ " کی منادی ہوئی اور دو درختوں کے درمیان جھاڑو دی گئی اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تفصیلی حوالے کے لئے عبقات الانوار جلد حدیث ولایت کے مطالعہ فرمائیں

40
حضور اکرم نے نماز ظہر آدا کی اور خطبہ دیا ۔ خطبہ کے دوران لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا :- الستم تعلمون انی اولی بالمو منین من انفسھم " کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ میں مومنوں کی جان سے بھی زیادہ ان پر حق حکومت رکھتا ہوں ؟
سامعین نے کہا جی ہاں ! پھر آپ نے علی (ع) کا بازو پکڑ کر بلند فرمایا اور اعلان کیا :- من کنت مولاہ فعلی مولاہ ،اللھم وال من والاہ وعادمن عاداہ " جس کا میں ہوں اس کا علی مولا ہے ۔اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ ۔اس کے بعد حضرت عمر ،حضرت علی (ع) کو ملے اور کہا :- ھنیا لک یا بن ابی طالب اصبحت مولی کل مومن ومومنۃ " ابو طالب کے فرزند ! تمہیں مبارک ہو تم ہر مومن مرد وعورت کے مولا بن گئے ہو ۔
غدیر خم کا مقام جحفہ سے بائیں طرف تین میل کے فاصلے پر ہے وہاں پر ایک چشمہ پھوٹتا ہے اور اس کے ارد گرد بہت سے درخت ہیں ۔
اس واقعہ کی یاد کے طور پر شیعہ اٹھارہ ذی الحجہ کو عید مناتے تھے ۔ ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دورکعت نماز شکر انہ ادا کرتے تھے ۔ساری رات نمازیں پڑھتے تھے اور دن کو زوال سے قبل دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے تھے اور اس دن نیا لباس پہنتے تھے اور غلام آزاد کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ خیرات بانٹتے اور جانور ذبح کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا کرتے تھے جب ۔شیعوں نے یہ عید منانی شروع کی تو اہل سنت نے ان کے مقابلہ میں پورے آٹھ دن بعد ایک عید منافی شروع کردی اور وہ بھی اپنی عید پر خوب جشن مناتے تھے اور کہتے تھے کہ اس دن رسول خدا (ص) اور حضرت ابو بکر غار میں داخل ہوئے تے (1)۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-کتاب المواعظ والاعتبار۔