المیہ جمعرات
 

حدیث قرطاس:-
اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اصحاب صحاح اور اصحاب مسانید اور اہل سیر و تاریخ رقم طراز ہیں ۔
ہم بحث کی ابتدا امام بخاری سے کرتے ہیں :
اما م بخاری اپنی اسناد س عبید اللہ بن عبد اللہ بن مسعود سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ :رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وقت آخر تھا اور اس وقت گھر میں بہت سے افراد جمع تھے جن میں عمربن خطاب بھی موجود تھے ۔

13
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" میں تمہیں ایسی تحریر لکھ کر دوں کہ میرے بعد تم گمراہ نہ ہو سکو گے "۔
حضرت عمر نے کہا نبی پر درد کا غلبہ ہے ۔تمہارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔اس پر گھر میں بیٹھے ہوئے افراد تکرار کرنے لگے ۔کچھ کہتے تھے کہ قلم دوات لاؤ تاکہ حضور تمہیں وہ چیز لکھ دیں تمہیں گمراہی سے بچا سکے اور کچھ وہی کچھ کہتے تھے جو عمر نے کہا تھا ۔
جب حضور اکرم کے پاس شوروغوغا زیادہ ہوا تو آپ نے فرمایا :" میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ"۔
عبد اللہ بن مسعود کہا کرتے تھے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ : سب سے بڑا المیہ اور سانحہ یہی ہوا کہ لوگوں نے اپنے اختلاف اور شور وغوغا کی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کو نوشتہ لکھنے سے روکر دیا ۔ اسی حدیث کو امام مسلم نیشاپوری نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں " کتاب الوصیۃ" کے آخر میں درج کیا ہے ۔
اسی روایت کو امام احمد بن حنبل نے ابن عباس کی زبانی نقل کیا ہے ۔
اور اکثر محدثین نے "ان النبی لیھجر" کے الفاظ میں بے ادبی اور گستاخی کی جھلک دیکھ کر اس میں تصرّف معنوی سے کام لیتے ہوئے " ان النبی قد غلب علیہ الوجع " یعنی (حضور ص پر درد کا غلبہ ہے ) کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر حضور کے فرمان کو لفظ "ہذیان" سے تعبیر کیا تھا ۔ لیکن بعد میں آنے والے محدثین نے اس لفظ کی کراہت کو کم کرنے کے لئے دوسرے الفاظ تراشے ۔
ہمارے اس دعوی کی تصدیق کے لئے ابو بکر احمد بن عبدالعزیز الجوھری کی

14
کتاب "کتاب السقیفہ "کا مطالعہ فرمائیں ۔
علامہ مذکور ابن عباس سے روایت کرتے ہیں ۔ لمّا حضرت رسو ل اللہ (ص) الوفاۃ و فی البیت رجال فیھم عمر بن الخطاب قال رسول اللہ ایتونی بدواۃ وصحیفۃ اکتب لکم کتابا لاتصلون بعدہ قال ،فقال عمر کلمۃ معناھا ان الوجع قد غلب علی رسول (ص) ثم قال عندنا القرآن حسبنا کتاب اللہ فاختلف ممن فی البیت و اختصموا فمن قائل قربو ا یکتب لکم النبی (ص) ومن قائل ما قال عمر فلمّا اکثروا اللغط واللغو والاختلاف غضب (ص) فقال قوموا ۔(الحدیث)
جب رسول خدا(ص) کاآخری وقت آیا اس وقت گھر میں بہت سے افراد موجود تھے ۔ ان میں عمر بن خطاب بھی تھے ۔رسول خدا نے فرمایا : میرے پاس دوات اور کا غذ لاؤ میں تمھیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہوگے ۔
یہ سن کر حضرت عمر نے ایک بات کہی جس کا مفہوم یہ تھا کہ اس وقت رسول خدا پر درد کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس قرآن موجود ہے ۔ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے ۔گھر میں بیٹھے ہوئے افراد میں اختلاف ہوگیا اور آپس میں جھگڑنے لگے کچھ لوگ وہی کہتے تھے جو عمر نے کہاتھا ۔جب حضور کریم کے پاس اختلاف اور جھگڑا بڑھا تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا "اٹھ چلے جاؤ"الحدیث
جوہری کے الفاظ سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ "حضور پر درد کا غلبہ ہے " جیسے محتاط الفاظ " روایت بالعنی "کے طور پر وارد ہوئے ہیں ورنہ حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو صریحا "ہذیان "کہہ کر ٹھکرا دیا تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ آپ محدثین کی کتابوں میں یہ سب دیکھیں گے کہ جب وہ اس واقعہ کی روایت لفظ "ہذیان" سے کرتے ہیں تو انہیں ان کی مسلکی وابستگی اس بات کی

15
اجازت نہیں دیتی کہ کھل کر یہ بیان کر سکیں کہ "ہذیان" کی تہمت لگانے والا اور رسول خدا کے دماغ پر حملہ کرنے والا کون تھا ۔
اس مقام پر پہنچ کر واقعہ کے اہم کردار کو نمایاں کرنے کی بجائے اسے بے نام ونشان چھوڑ کر گزر جاتے ہیں ۔
جیسا کہ امام بخاری "کتاب الجہاد والسیر" کے باب "جوائز الوفد" میں لکھتے ہیں :-حدثنا قبیصۃ حدثنا ابن عیینۃ عن سلیمان الاحول عن سعید بن جبیر عن ابن عباس انہ قال یو م الخمیس وما یو م الخمیس ثمّ بکی حتی خضب دمعہ الحصیاء ،فقال اشتد برسول اللہ (ص) وجعہ یو م الخمیس فقال ایتونی بکتاب اکتب لکم کتابا لن تضلوا بعدہ ابدا فتنازعوا ولا ینبغی عند نبی تنازعوا فقالوا ھجر رسول اللہ (ص) قال(ص) دعونی فالذی انا فیہ خیر مما تدعوننی الیہ واوصی عند موتہ بثلاث ،اخرجوا المشرکین من جزیرۃ العرب واجیزو ا الوقد بنحو ما کنت اجیزہ (قال) ونسیت الثالثۃ۔
(بحذف اسناد) ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ؛ ہائے وہ کیا دن تھا پنچ شنبہ کا ! یہ کہہ کر اتنا روئے کہ ان کے آنسو ؤں سے سنگریزے تر ہوگئے ۔پھر کہااسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا کی تکلیف بہت بڑھ گئی تر ہوگئے ۔ پھر کہا اسی پنچ شنبہ کے دن رسول خدا(ص) کی تکلیف بہت بڑھ گئ تھی ۔ آنحضرت نے فرمایا "میرے پا س کاغذ اور قلم لاؤ ۔میں تمھیں نوشتہ لکھ دوں تا کہ تم پھر کبھی گمراہ نہ ہوسکو "
اس پر لوگ جھگڑنے لگے ۔حالانکہ نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہیں ۔لوگوں نے کہا : رسول "بے ہودہ بک رہے ہیں (نعوذ با اللہ)۔اس پر آنحضرت نے فرمایا " مجھے میرے حال پر چھوڑ دو میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو اور آنحضرت نے وفات سے پہلے تین وصیتیں فرمائیں :ایک تو یہ کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کرو اور دوسری وصیت یہ تھی کہ وفد بھیجنے کا سلسلہ اسی طرح باقی رکھو جس طرح میں بھیجا کرتا تھا ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ تیسری وصیت میں بھول گیا ۔"

16
جی ہاں ! تیسری بات جسے فراموش کردیا گیا وہی بات تھی جسے پیغمبر وقت انتقال نوشتہ کی صورت میں لکھ جانا چاہئے تھے تاکہ امت کے افراد گمراہی سے محفوظ رہیں یعنی امیر المومنین امام علی (علیہ السلام) کی خلافت ۔
سیاسی شاطروں نے محدثیں کو مجبور کیا کہ وہ اس چیز کو جانتے بوجھتے بھول جائیں ۔جیسا کہ مفتی حنفیہ شیخ ابو سلیمان داؤد نے صراحت کی ہے اس حدیث کو امام مسلم نے صحیح مسلم "کتاب الوصیۃ " کے آخر میں بواسطہ سعید بن جبیر ، ابن عباس سے ایک دوسرے طریقہ سے روایت کیا ہے ۔
"ابن عباس کہتے تھے پنچ شنبہ کا دن ، ہائے وہ دن کیا دن تھا پنچ شنبہ کا !
پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور رخساروں پر یوں بہتے دیکھے گئے جیسے موتی کی لڑی ہو۔
اس کے بعد ابن عباس نے کہا کہ رسول خدا نے ارشاد فرمایا :
"میرے پاس دوات اور کاغذ یا لوح ودوات لاؤ تا کہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم پھر کبھی گمراہ نہ ہو" تو لوگوں نے اس پر کہا :رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ باللہ)(1)
صحاح ستہ کا مطالعہ کریں اور اس مصیبت کے ماحول پر نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جس شخص نے سب سے پہلے "ہذیان" کی بات کی وہ حضرت عمر ہی تھے ۔انہوں نے ہی سب سے پہلے یہ جملہ کہا تھا اور اس کے بعد ان کے ہم خیال افراد نے ان کی ہم نوائی کی تھی ۔
آپ ابن عباس کا یہ فقرہ پہلی حدیث میں سن چکے ہیں ۔ گھر میں موجود افراد آپس میں تکرار کرنے لگے ۔بعض کہتے تھے کہ کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ رسول (ص)وہ نوشتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-صحیح مسلم جلد دوم صفحہ 222 علاوہ ازاین اس حدیث کو انہی الفاظ میں امام احمد نے مسند جلد اول ص 355 پر روایت کیا ہے ۔اس کے علاوہ بھی اجلہ حفاظ حدیث نے نقل کیا ہے ۔

17
لکھ جائیں اور بعض حضرت عمر کی موافقت کرتے رہے ۔یعنی وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ رسول ہذیان کہہ رہے ہیں ۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جو طبرانی نے اوسط میں حضرت عمر سے روایت کی ہے کہ : جب رسول خدا بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا : میرے پاس کا غذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔اس پر پردے کے پیچھے سے عورتوں نے کہا تم سنتے نہیں کہ رسول (ص) کیا کہہ رہے ہیں ؟ میں نے کہا :تم یوسف والی عورتیں ہو جب رسول (ص) بیمار پڑتے ہیں تو اپنی آنکھیں نچوڑ ڈالتی ہو اور جب تندرست ہوتے ہیں تو گردن پر سوار رہتی ہو ۔
رسول خدا نے فرمایا :"عورتوں کو جانے دو یہ تم سے تو بہتر ہی ہیں "(1)
اس واقعہ سے آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ یہاں صحابہ نے ارشاد پیغمبر کی تعمیل نہیں کی ۔اگر حضور (ص) کی بات مان لیتے تو ہمیشہ
کے لیئے گمراہی سے بچ جاتے ۔
اے کاش کہ صحابہ رسول خدا (ص) کی بات مانتے ٹال دیتے لیکن رسول خدا کو یہ روکھا جواب تو نہ دیتے کہ "حسبنا کتا ب اللہ "(ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے )۔
اس فقرہ سے تو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ معاذاللہ جیسے رسول خدا جانتے ہی نہ تھے ۔ اس کے اسرار ورموز سے زیادہ واقف تھے ۔
اے کاش! اس پر اکتفا کر لیا ہوتا اور رسول خدا (ص) کے دماغ پر حملہ نہ کیا ہوتا اور یہ نہ کہتے کہ رسول (ص) ہذیان کہہ رہے ہے ہیں ۔یہ الفاظ کہہ کر رسول کریم کو ناگہانی صدمہ نہ پہنچاتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- اسی روایت کو امام بخاری نے عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا اور امام مسلم وغیرہ نے بھی اس کی روایت کی ہے ۔

18
رسول خدا چند گھڑی کے مہمان تھے ۔آپ کا دم واپسین تھا۔ ایسی حالت میں یہ ایذا رسانی کہاں تک مناسب تھی؟ کیسی بات کہہ کر رسول کو رخصت کررہے ہیں ؟
گویا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کتاب خدا کیا یہ واضح اعلان نہیں سنا تھا "ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھا کم عنہ فانتھوا ۔۔۔۔۔"یعنی رسول جو کچھ تمہیں دیں اس کو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز ہو"
اور رسول خدا(ص) پر ہذیان کی تہمت لگاتے وقت انہیں قرآن مجید کی یہ آیت بھول گئی تھی "انہ لقو ل رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین وما صاحبکم بمجنون" یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کی زبان کا پیغام ہے ۔جو بڑا قوی ،عرش کے مالک کی بارگاہ میں بلند مرتبہ ہے ۔ وہاں سب فرشتوں کا سردار اور امانت دار ہے اور تمہارے ساتھی (محمد) دیوانے نہیں ہیں "۔
اور کیا قول رسول کو ہذیان کہنے والوں نے یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟ "انہ لقول رسول کریم وماھو بقول شاعر قلیلا ما یومنون ولا بقول کا ھن قلیلا ما تذکرون تنزیل من رب العالمین "۔ یعنی بے شک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا پیغام ہے اور یہ کسی شاعر کی تک بندی نہیں ۔تم لوگ تو بہت کم ایمان لاتے ہو اور نہ کسی کاہن کی خیالی بات ہے تم لوگ تو بہت کم غور کرتے ہو ۔یہ سارے جہاں کے پروردگار کا نازل کیا ہوا کلام ہے ۔"
اور کیا قول رسول (ص) کو ٹھکرانے والوں نے قرآن مجید کی یہ آیت نہیں پڑھی تھی ؟"و النجم اذا ھوی ما ضل صاحبکم وما غوی وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی علّمہ شدید القوی "۔قسم ہے ستارے کی جب وہ جھکا ۔تمھارے رفیق( محمدص) نہ گمراہ ہوئے اور نہ بہکے وہ تو اپنی نفسانی خواہش سے کچھ بولتے ہی نہیں یہ تو بس وحی ہے جو بھیجی جاتی ہے ۔ان کو بڑی طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے " نیز اس طرح دوسری واضح اور روشن آیات قرآن مجید میں بکثرت موجود

19
ہیں جن میں صاف تصریح ہے کہ رسول مہمل وبے ہودہ بات کہنے سے پاک و منزہ ہیں ۔ علاوہ ازاین خود تنہا عقل سلیم بھی رسول سے مہمل اور بے ہودہ باتوں کا صادر ہونا محال سمجھتی ہے ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ صحابہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت رسول (ص)حضرت علی (ع) کے لئے خلافت کی بات کو مزید پکا کردینا چاہتے ہیں اور آج تک آپ نے حضرت علی (ع)کے جانشینی اور خلافت کے جتنے اعلانات کئے تھے انہیں تحریری صورت دینا چاہتے تھے اسی لئے حضرت عمر اور ان کے حامی افراد نے رسول خدا (ص) کی بات کو کاٹ دیا تھا ۔ یہ صرف ہمارا پیدا کردہ تخیل نہیں ہے بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف حضرت عمر نے عبد اللہ بن عباس کے سامنے کیا تھا (1)۔
اگر آپ رسول خدا(ص)کے اس قول "میرے پاس کاغذ اور قلم دوات لاؤ تاکہ میں ایسا نوشتہ لکھ جاؤں کہ اس کے بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے "۔
اور حدیث ثقلین کے اس فقرہ پر کہ :-
"میں تم میں دو گراں چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر تم ان سے وابستہ رہے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے : ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت " توجہ فرمائیں گے تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ دونوں حدیثوں سے رسول خدا کا مقصود ایک ہی تھا ۔

پیغمبر نے زبر دستی نوشتہ کیوں نہ لکھا ؟:-
رسول خدا (ص) نے حالت مرض میں کاغذ اور قلم دوات اس لئے طلب کیا تھا کہ حدیث ثقلین کے مفہوم کو تحریری صورت لکھ کردے دیا جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):-ابن ابی الحدید ،شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص 140 طبع مصر

20
اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسول خدا (ص) نے لوگوں کے اختلاف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نوشتہ کیوں نہ لکھا ۔اور جمعرات کے دن سے اپنے روز وفات یعنی سوموار تک کیوں نہ لکھا اور لکھنے کا ارادہ آخر انہوں نے کیوں ملتوی کردیا ؟
درج بالا سوال کا صحیح جواب یہ ہے کہ نوشتہ نہ لکھنے کا سبب حضرت عمر اور ان کے ہوا خواہوں کا وہ فقرہ تھا جسے بو ل کر ان لوگوں نے رسول خدا (ص) کو دکھ دیا تھا اور یہی سن کر رسول خدا نے نوشتہ نہ لکھا کیوں اتنا سخت جملہ سننے کے بعد نوشتہ لکھنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا ۔اگر بالفرض لکھ بھی دیا جاتا تو فتنہ وفساد اور بڑھ جاتا اور اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہوجاتی ۔
اگر رسول (ص) لکھ بھی جاتے تو یہی لوگ کہتے کہ "اس نوشتہ کی کوئی اہمیت نہیں یہ حالت ہذیان لکھا گیا ہے "
جن لوگوں نے حضور کریم کے روبروان کی حدیث کو ہذیان قراردیا تھا تو کیا وہ بعد میں لکھے جانے والے نوشتہ کو تسلیم کر سکتے تھے ؟
اور اگر رسول اپنی بات پر مصر رہتے اور نوشتہ لکھ بھی دیتے تو وہ اور ان کے جواری نوشتہ رسول (ص) کو ہذیان ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور دگادیتے اور اثبات ہذیان کے لئے کئی کتابیں تصنیف ہوتیں ۔مباحثے کیے جاتے اور اس نوشتہ کو بے اثر بنا نے کےلئے ہر ممکنہ ترکیب استعمال کی جاتی ۔
اسی وجہ سے حکیم اسلام کی حکمت بالغہ کا تقاضا یہ ہوا کہ اب نوشتہ کا ارادہ ہی ترک کردیا جائے تاکہ رسول کے منہ آنے والے اور ان کے حاشیہ بردار آپ کی نبوت میں طعن کا دروازہ نہ کھول دیں ۔
اور اس کے ساتھ ساتھ رسول خدا (ص) یہ جانتے تھے کہ علی علیہ السلام اوران کے دوستدار اس نوشتہ کے مفہوم پر عمل کریں گے خواہ لکھا جائے یا نہ لکھا جائے اور اگر مخالفین کیلئے لکھ بھی دیا جائے تو وہ نہ تو اس کو مانیں گے اور نہ ہی اس پر عمل کریں گے ۔