نام کتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المیہ جمعرات
تالیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیجانی سماوی (تیونس)
مترجم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مقصود احمد انصاری
ای بک کمپوزنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظی
نیٹ ورک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبکہ امامین حسنین علیھما السلام

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمان الرحیم
الحمد اللہ رب العالمین
والصلواۃ والسلام والتحیۃ و الاکرام علی سید الاونبیاء والمرسلین
واھل بیتہ الطیبین الطاھرین المعصومین
الذین اذھب اللہ عنھم الرجس وطھر ھم تطھیرا
وغضب اللہ علی اعدائھم الی یوم الدین ۔

٭٭٭٭٭

9
مقدّمہ مؤلف
قارئین کرام !
ہر دور میں مسئلہ امامت وخلافت کے متعلق اہل علم نے کتابیں تصنیف کیں اور مقالات لکھے اور یہ مقالات سال کے چار موسموں کی طرح یکے بعد دیگرے لکھے جاتے رہے ۔
شہرستانی نے " الملل والنحل" میں بالکل بجا لکھا ہے کہ امت اسلامیہ میں مسئلہ خلافت پر جس قدر نزاع ہوا ہے اتنا نزاع کسی دوسرے مسئلہ پر دیکھنے میں نہیں آیا ۔
میں نے اپنی سابقہ کتابوں میں ان عوامل پر کافی بحث کی ہے جو مسلمانوں کی بد نصیبی اور زوال کا سبب بنے اور بحمد اللہ میری کتابوں کو قارئین کرام کے ایک طبقہ میں کافی نصیب ہوئی ۔اس پزیرائی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ میں خود زندگی کے ایک طویل عرصہ تک اندھی تقلید میں مبتلا رہا پھر اللہ تعالی نے مجھ پر خاص کرم کیا اور اس اندھی تقلید کے حلقہ سے مجھے باہر نکالا اور حقیقت کی معرفت عطا فرمائی اور ادراک حق میں مانع پردوں اور حجابات کو میری نگاہوں سے دور کردیا ۔
اس نعمت غیر مترقبہ کے شکرانے کا تقاضا بنتا تھا کہ میں حق کا دفاع کروں ۔اور اپنے قلم ،زبان ،اور ہاتھ کی تمام توانائیوں کو کام میں لا کر حق کی نصرت کروں ۔

10
الغرض یہ کتاب اسی شکرانہ نعمت کے طور پر لکھی گئی ہے ۔اور آپ نے اس کتاب کا ایک طویل عرصہ تک انتظار کیا ۔جس کے لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں ۔جب یہ کتاب لکھ رہا تھا تو بہت سے افراد مجھ پر خفا بھی ہوئے ۔جب کہ حق پرست احباب نے میری حوصلہ افزائی بھی فرمائی ۔ ناراض اذہان نے مجھ پر بعض غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہونے کا بھی الزام لگانے سے گریز نہیں کیا ۔اور حوصلہ شکن حالات کے باوجود میں بلا خوف لومتہ الائمہ کتاب لکھنے میں مصروف رہا اور اسے کے ساتھ میں نے دل ودماغ میں یہ فیصلہ کیا کہ دنیا کے ہر الزام کو برداشت کیا جاسکتا ہے لیکن ضمیر اور حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔
موجودہ کتاب "المیہ جمعرات " اس درد کی داستان ہے جسے سینکڑوں بر س بیت چکے ہیں ۔لیکن امت اسلامیہ کے وجود میں آج بھی اس درد کی ٹیسیں محسوس ہو رہی ہیں اور جب تک سلسلہ روز شب باقی ہے اس کا درد محسوس ہوتا رہے گا ۔
آپ اس ہولناک منظر کو ذہن میں لائیں ۔یہ وہ وقت تھا جب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری زندگی کا چراغ بجھنے والا تھا ۔ رسول خدا نے اسامہ بن زید کی لشکر مقرر کیا ۔خلفائے ثلاثہ اور دیگر اکابر صحابہ کو اس لشکر میں جانے کا حکم صادر فرمایا ۔لیکن خلفائے ثلاثہ نے لشکر کی روانگی میں جان بوجھ کر تاخیر کرائی اور یہ کہہ کر لشکر کو جانے سے روکتے رہے کہ "حضور اکرم کی طبیعت ناساز ہے ۔اور ادھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے ام المومنین عائشہ انہیں لمحہ لمحہ کی خبر دے رہی تھیں ۔
ام المومنین اپنے والد محترم کو اس لئے خبریں فراہم کر رہی تھیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے والد مدینہ آکر مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ۔اور پھر ان کی "امامت الصلواۃ"کو بنیاد بنا کر انہیں خلافت رسول کا حقدار ثابت کیا جائے ۔
جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت تکلیف میں تھے ۔انھوں نے

11
جب لوگوں کا شور غوغا سنا تو پوچھا کہ معاملہ کیا ہے ؟اس وقت آپ کو بتایا گیا کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے ہیں ۔
جب آپ نے یہ الفاظ سنے تو اپنا تمام جسمانی درد بھول گئے اور حکم دیا کہ انہیں سہارا دے کر مسجد میں لے جائیں ۔ارشاد نبوی سن کر حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو سہارا دیا ۔ آپ ان کے کندھوں کا سہارا لے کر مسجد میں آئے اور آتے ہی حضرت ابو بکر کو مصلائے امامت سے پیچھے ہٹا دیا اور خود مسلمانوں کو نماز پڑھائی ۔
جناب رسول خدا نے خود جماعت کراکے مزعومہ خلافت وفضیلت کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر کر رکھ دیں اور اس گروہ کو اس قابل نہ چھوڑا کہ وہ امامت نماز کا بہانہ کر کے خلافت کا دعوی کر سکے ۔حضرت سید الانبیاء نے لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والوں پر کھلے لفظوں مین اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا بلکہ نفرین فرمائی ۔انہی دنوں مدینہ طیبہ میں ایک سانحہ پیش آیا :
حمعرات کا دن تھا ۔جناب رسول خدا (ص) بیماری کی وجہ سے بے تاب تھے اور لشکر اسامہ سے روگردانی کرنے والے افراد حضور کریم کے بیت الشرف میں بظاہر عیادت کرنے آئے ہوئے تھے اور اس گروہ میں حضرت عمر بن خطاب نمایا ں تھے ۔ حضور اکرم نے حاضرین سے کاغذ اور قلم طلب فرمایا تاکہ امت کو ہمیشہ کی گمراہی سے بچایا جاسکے اور اس کے ساتھ ارشاد فرمایا " انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اھل بیتی ما ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا بعدی ابدا ولن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض"
"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں : اللہ کی کتاب او راپنی عترت اہل بیت ۔تم جب تک ان دونوں سے تمسّک رکھو گے ۔میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے ۔یہاں تک کہ

12
میرے پاس حوض کوثر پر وارد ہوں ۔"
حضرت عمر نے آنحضرت کے فرمان کو ٹھکرا کر کہا "حسبنا کتاب اللہ " ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے " اور یہ کہ محمد(ص) اس وقت ہذیان کہہ رہے ہیں (نعوذ با اللہ )
حضرت عمر کے الفاظ سے آنحضرت سخت ناراض ہوئے اور فرمایا "قوموا عنی " میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ جب حضور اکرم کی زندگی میں ہی آپ کے فرمان کو لائق اعتنا نہیں سمجھا گیا تو آپ کے بعد آپ کے فرامین پر کیا عمل ہوا ہوگا ؟
حضرت عمر کے جواب کو کسی طرح سے بھی حسن نیت یا اجتہاد پر محمول نہیں کیا جا سکتا ۔
اس درد نکا واقعہ کی تفصیل اور علمائے اہل سنت کی جانب سے جو جوابات دیئے گئے ہیں اور وہ جواب جتنے کمزور ہیں ، اس کے لئے ہم اپنے قارئین کے سامنے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین اعلی اللہ مقامہ کی کتاب "النص و الاجتھاد"اور "المراجعات" سے اقتباسات پیش کرتے ہیں ۔