|
شاہرودی ڈاٹ نیٹ
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کے بعد
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت چونکہ خداوندعالم کی طرف سے بطورلطف خاص عمل میں آئی تھی ،اس لئے آپ خدائی خدمت میں ہمہ تن منہمک ہوگئے اورغائب ہونے کے بعد آپ نے دےن اسلام کی خدمت شروع فرمادی ۔ مسلمانوں، مومنوں کے خطوط کے جوابات دےنے ، ا ن کی بوقت ضرورت رہبری کرنے اورانھےں راہ راست دکھانے کا فرےضہ اداکرنا شروع کردیا ضروری خدمات آپ زمانہٴ غیبت صغری میں بواسطہ ٴسفراٴ یابلاوسطہ اورزمانہ غیبت کبری میں بلاواسطہ انجام دےتے رہے اورقیامت تک انجام دےتے رہیںگے۔
۳۰۷ ہجری میں آپ کا حجراسود نصب کرنا
علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ زمانہٴ نیابت میں بعہد حسین بن روح ،ابوالقاسم جعفربن محمد بن قولویہ بارادہٴ حج بغداد گئے اوروہ مکہ معظمہ پہنچ کرحج کرنے کافےصلہ کئے ہوئے تھے ۔ لےکن وہ بغداد پہنچ کرسخت علےل ہوگئے ۔ اسی دوران میں آپ نے سناکہ قرامطہ نے حجراسود کونکال لیاہے اوروہ اسے کچھ درست کرکے ایام حج میں پھرنصب کریںگے ۔ کتابوں میںچونکہ پڑھ چکے تھے کہ حجراسود صرف امام زمانہ ہی نصب کرسکتاہے جےساکہ پہلے آنحضرت صلعم نے نصب کیاتھا ،پھرزمانہٴ حجاج میں امام زےن العابدےن نے نصب کیاتھا ۔ اسی بناء پرانھوں نے اپنے ایک کرم فرما” ابن ھشام “ کے ذرےعہ سے ایک خط ارسال کیا اوراسے کہ دیا کہ جوحجراسود نصب کرے اسے یہ خط دےدےنا ۔
نصب حجرکی لوگ سعی کررہے تھے ۔لےکن وہ اپنی جگہ پرقرارنہیں لےتاتھا کہ اتنے میں ایک خوبصورت نوجوان ایک طرف سے سامنے آیا اور اس نے اسے نصب کردیا اوروہ اپنی جگہ پرمستقرہوگیا ۔جب وہ وہاںسے روانہ ہوا توابن ہشام ان کے پےچھے ہولئے ۔راستہ میں انھوںنے پلٹ کرکہا اے ابن ہشام ،توجعفربن محمد کاخط مجھے دےدے ۔دےکھ اس میں اس نے مجھ سے سوال کیاہے کہ وہ کب تک زندہ رہے گا ۔
ا س سے یہ کہدےنا کہ وہ ابھی تےس سال اورزندہ رہے گا یہ کہہ کروہ ونظروں سے غائب ہوگئے ۔ ابن ہشام نے ساراواقعہ بغداد پہنچ کرجعفربن قولویہ سے بیان کردیا ۔ غرضکہ وہ تےس سال کے بعد وفات پاگئے ۔(کشف الغمہ ص ۱۳۳) اسی قسم کے کئی واقعات کتاب مذکورمیں موجودہیں ۔ علامہ عبدالرحمن ملاجامی رقمطرازہیں کہ ایک شخص اسماعےل بن حسن ہرقلی جونواحی حلہ میں مقےم تھا اس کی ران پرایک زخم نمودارہوگیاتھا جوہرزمانہٴ بحارمیں ابل آتاتھا جس کے علاج سے تمام دنیا کے اطباٴ عاجزاورقاصرہوگئے تھے وہ ایک دن اپنے بےٹے شمس الدےن کوہمراہ لے کرسےدرضی الدےن علی بن طاؤس کی خدمت میں گیا ۔انھوں نے پہلے توبڑی سعی کی ،لےکن کوئی چارہ کارنہ ہوا ہرطبےب یہ کہتاتھا کہ یہ پھوڑا ”رگ اکحل “ پرہے اگراسے نشتر دیاجائے توجان کاخطرہ ہے اس لئے اس کاعلاج ناممکن ہے ۔اسماعےل کابیان ہے کہ ”چون ازاطباٴماےوس شدم عزےمت مشہدشرےف سرمن رائے کردم“ جب میں تمام اطباء سے ماےوس ہوگیا توسامرہ کے سرداب کے قرےب گیا،اوروہاں پرحضرت صاحب الامرکومتوجہ کیا ،ایک شب دریائے دجلہ سے غسل کرکے واپس آرہاتھا کہ چارسوارنظرآئے ،ان میں سے ایک نے میرے زخم کے قرےب ہاتھ پھےرا اورمیں بالکل اچھا ہوگیا میں ابھی اپنی صحت پرتعجب ہی کررہاتھا کہ ان میں سے ایک سوارنے جوسفےد رےش تھے کہا کہ تعجب کیا ہے تجھے شفادےنے والے امام مہدی علیہ السلام ہیں یہ سن کرمیں نے ان کے قدموں کا بوسہ دیا اوروہ لوگ نظروں سے غائب ہوگئے ۔ (شواہدالنبوت ص ۲۱۴ وکشف الغمہ ص ۱۳۲) ۔
اسحاق بن ےعقوب کے نام امام عصرکاخط
علامہ طبرسی بحوالہ محمد بن ےعقوب کلےنی لکھتے ہیں کہ اسحق بن ےعقوب نے بذرےعہ محمد بن عثمان عمری حضرت امام مہدی علیہ السلام کی خدمت ایک خط ارسال کیا جس میں کئی سوالات مندرج تھے ۔حضرت نے بخط خود جواب تحرےرفرمایا اورتمام سوالات کے جوابات تحرےرا عنآیت فرمائے جس کے اجزاٴ یہ ہیں :
۱ ) جوہمارامنکرہے ،وہ ہم سے نہیں ۔
۲ ) میرے عزےزوں میں سے جومخالفت کرتے ہیں ،ان کی مثال ابن نوح اوربرادران ےوسف کی ہے ۔
۳ ) فقاع یعنی جوکی شراب کاپےنا حرام ہے ۔
۴ ) ہم تمہارے مال صرف اس لئے (بطورخمس قبول کرتے ہیں کہ تم پاک ہوجاؤ اورعذاب سے نجات حاصل کرسکو۔
۵ ) میرے ظہورکرنے اورنہ کرنے کا تعلق صرف خداسے ہے جولوگ وقت ظہورمقررکرتے ہیں وہ غلطی پرہیں جھوٹ بولتے ہیں ۔
۶ ) جولوگ یہ کہتے ہیں کہ امام حسین قتل نہیں ہوئے وہ کافرجھوٹے ا ورگمراہ ہیں ۔
۷ ) تمام واقع ہونے والے حوادث میں میرے سفراٴپراعتماد کرو ،وہ مےری طرف سے تمھارے لئے حجت ہیں اورمیں حجت اللہ ہوں ۔
۸ ) ” محمد بن عثمان “ امےن اورثقہ ہیں اوران کی تحرےرمےری تحرےرہے ۔
۹ ) محمد بن علی مہریاراہوازی کادل انشاء اللہ بہت صاف ہوجائے گا اورانھےں کوئی شک نہ رہے گا ۔
۱۰ ) گانے والی کی اجرت و قیمت حرام ہے ۔
۱۱ ) محمد بن شاذان بن نےعم ہمارے شےعوں میں سے ہے ۔
۱۲ ) ابوالخطاب محمدبن ابی زےنب اجدع ملعون ہے اوران کے ماننے والے بھی ملعون ہیں ۔ میں اورمیرے باپ دادا اس سے اور اس کے باپ دادا سے ہمےشہ بے زاررہے ہیں ۔
۱۳ ) جوہمارا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پےٹوں میں آگ بھررہے ہیں ۔
۱۴ ) خمس ہمارے سادات شےعہ کے لئے حلال ہے ۔
۱۵ ) جولوگ دےن خدامیں شک کرتے ہیں وہ اپنے خود ذمہ دارہیں ۔
۱۶ ) مےری غیبت کےوں واقع ہوئی ہے ۔ یہ بات خداکی مصلحت سے متعلق ہے اس کے متعلق سوال بےکارہے۔ میرے آباؤاجداد دنیا والوں کے شکنجہ میں رہے ہیں لےکن خدانے مجھے اس شکنجہ سے بچالیاہے جب میں ظہورکروںگا بالکل آزاد ہوںگا ۔
0) زمانہ ٴ غیبت میں مجھ سے فائدہ کیاہے ؟ اس کے متعلق یہ سمجھ لوکہ مےری مثال غیبت میں وےسی ہے جےسے ابرمیں چھپے ہوئے آفتاب کی ۔ میں ستاروں کی مانند اہل ارض کے لئے امان ہوں تم لوگ غیبت اورظہورسے متعلق سوالات کا سلسلہ بندکرواورخداوندعالم کی بارگاہ میں دعاکرو کہ وہ جلد میرے ظہورکاحکم دے ،اے اسحاق ! تم پراوران لوگوں پرمےراسلام ہو جوہدآیت کی اتباع کرتے ہیں ۔ (اعلام الوری ص ۲۵۸ مجالس المومنین ص۱۹۰، کشف الغمہ ص۱۴۰)۔
شیخ محمدبن محمد کے نام امام زمانہ کامکتوب گرامی
علماٴ کابیان ہے کہ حضرت امام عصرعلیہ السلام نے جناب شیخ مفید ابوعبداللہ محمد بن محمد بن نعمان کے نام ایک مکتوب ارسال فرمایا ہے ۔ جس میں انھوں نے شیخ مفید کی مدح فرمائی ہے اوربہت سے واقعات سے موصوف کوآگاہ کیا ہے ان کے مکتوب گرامی کا ترجمہ یہ ہے : میرےے نےک برادراورلائق محب، تم پرمےراسلام ہو ۔ تمہیں دےنی معاملہ میں خلوص حاصل ہے اورتم ہمارے بارے میں ےقےن کامل رکھتے ہو ۔ہم اس خداکی تعرےف کرتے ہیں جس کے سواکوئی معبود نہیں ہے ۔
ہم درود بھےجتے ہیں حضرت محمد مصطفی اوران کی پاک آل پرہماری دعاء ہے کہ خداتمہاری توفےقات دےنی ہمےشہ قائم رکھے اورتمہیںنصرت حق کی طرف ہمےشہ متوجہ رکھے ۔تم جوہمارے بارے میں صدق بیانی کرتے رہتے ہو ،خدا تم کواس کااجرعطافرمائے ۔تم نے جوہم سے خط وکتابت کاسلسہ جاری رکھا اوردوستوں کوفائدہ پہونچایا ، وہ قابل مدح وستائش ہے ۔ ہماری دعاہے کہ خداتم کو دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب رکھے ۔ اب ذرا ٹہرجاؤ ۔ اورجےساہم کہتے ہیں اس پرعمل کرو ۔ اگرچہ ہم ظالموں کے امکانات سے دورہیں لےکن ہمارے لئے خداکافی ہے جس نے ہم کوہمارے شےعہ مومنین کی بہتری کے لئے ذرائع دکھائے دئےے ہیں ۔
جب تک دولت دنیا فاسقوں کے ہاتھ میں رہے گی ۔ ہم کوتمہاری خبرےں پہونچتی رہیں گی اورتمہارے معاملات کے متعلق کوئی بات ہم سے پوشےدہ نہ رہے گی ۔ ہم ان لغزشوں کوجانتے ہیں جولوگوں سے اپنے نےک اسلاف کے خلاف ظاہرہورہی ہیں ۔ (شاےد اس سے اپنے چچا جعفرکی طرف اشارہ فرمایاہے ) انھوںنے اپنے عہدوں کوپس پشت ڈال دیاہے ،گویاوہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ تاہم ہم ان کی رعآیتوں کوچھوڑنے والے نہیں اورنہ ان کے ذکربھولنے والے ہیں اگراےساہوتا توان پرمصےبتےں نازل ہوجاتےں اوردشمنوں کوغلبہ حاصل ہوجاتا ،پس ان سے کہو کہ خداسے ڈرواورہمارے امرونہی کی حفاظت کرو اوراللہ اپنے نورکاکامل کرنے والاہے ،چاہے مشرک کےسے ہی کراہت کریں ۔ تقیہ کوپکڑے رہو ،میں اس کی نجات کاضامن ہوں جوخداکی مرضی کاراستہ چلے گا ۔
ا س سال جمادی الاول کامہےنہ آئے گا تواس کے واقعات سے عبرت حاصل کرنا تمہارے لئے زمین وآسمان سے روشن آیتےں ظاہرہوںگی ۔مسلمانوں کے گروہ حزن وقلق میں بمقام عراق پھنس جائیں گے اور ان کی بداعمالےوں کی وجہ سے رزق میں تنگی ہوجائے گی پھریہ ذلت ومصےبت شرےروںکی ھلاکت کے بعد دورہوجائےگی ۔ ان کی ھلاکت سے نےک اورمتقی لوگ خوش ہوں گے لوگوں کوچاہےے کہ وہ ا ےسے کام کریں جن سے ان میں ہماری محبت زیادہ ہو ۔یہ معلوم ہوناچاہےے کہ جب موت ےکایک آجائے گی توباب توبہ بند ہوجائے گا اورخدائی قہرسے نجات نہ ملے گی خدا تم کونےکی پرقائم رکھے ،اورتم پررحمت نازل کرے ۔
“ میرے خیال میں یہ خط عہد غیبت کبری کاہے ،کےونکہ شیخ مفید کی ولادت ۱۱ ذیقعدہ ۳۳۶ ہجری ہے اوروفات ۳ رمضان ۴۱۳ میں ہوئی ہے اورغیبت صغری کااختتام ۱۵ شعبان ۳۲۹ میں ہواہے علامہ کبےرحضرت شہےد ثالث علامہ نوراللہ شوشتری مجالس المومنین کے ص ۲۰۶ میں لکھتے ہیں کہ شیخ مفید کے مرنے کے بعد حضرت امام عصرنے تین شعر ارسال فرمائے تھے جومرحوم کی قبرپرکندہ ہیں ۔
ان حضرات کے نام جنھوں نے زمانہٴ غیبت صغری میں امام کودیکھا ہے
چاروکلائے خصوصی اورسات وکلائے عمومی کے علاوہ جن لوگوں نے حضرت امام عصرعلیہ السلام کودےکھا ہے ان کے اسماء میں سے بعض کے نام یہ ہیں :
بغداد کے رہنے والوں میں سے ( ۱) ابوالقاسم بن رئےس ( ۲) ابوعبداللہ ابن فروخ ( ۳) مسرورالطباخ( ۴ ۔ ۵) احمدومحمدپسران حسن ( ۶) اسحاق کاتب ازنوبخت ( ۷) صاحب الفراٴ ( ۸) صاحب الصرة المختومہ ( ۹) ابوالقاسم بن ابی جلےس ( ۱۰) ابوعبداللہ الکندی ( ۱۱) ابوعبداللہ الجنےدی ( ۱۲) ہارون الفراز ( ۱۳) النےلی (ہمدان کے باشندوں میںسے) ( ۱۴) محمد بن کشمر( ۱۵) و جعفربن ہمدان (دےنورکے رہنے والوں میں سے ) ( ۱۶) حسن بن ہروان( ۱۷) احمدبن ہروان (ازاصفہان ) ( ۱۸) ابن بازشالہ (ازضےمر) ( ۱۹) زےدان (ازقم) ( ۲۰) حسن بن نصر ( ۲۱) محمدبن محمد ( ۲۲) علی بن محمد بن اسحاق ( ۲۳) محمدبن اسحاق ( ۲۴) حسن بن ےعقوب (ازری ) ( ۲۵) قسم بن موسی ( ۲۶) فرزند قسم بن موسی ( ۹۲۷ ابن محمد بن ہارون ( ۲۸) صاحب الحصاقہ ( ۲۹) علی بن محمد ( ۳۰) محمد بن ےعقوب کلےنی ( ۳۱) ابوجعفرالرقاٴ (ازقزوےن) ( ۳۲) مرواس ( ۳۳) علی بن احمد (ازفارس ) ( ۳۴) المجروح (ازشہزور) ( ۳۵) ابن الجمال (ازقدس) ( ۳۶) مجروح (ازمرو) ( ۳۷) صاحب الالف دےنار ( ۳۸) صاحب المال والرقة البےضاٴ ( ۳۹) ابوثابت (ازنےشابور) ( ۴۰) محمدبن شعےب بن صالح (ازےمن) ( ۴۱) فضل بن برےد ( ۴۲) حسن بن فضل ( ۴۳) جعفری ( ۴۴) ابن الاعجمی ( ۴۵) شمشاطی (ازمصر) ( ۴۶) صاحب المولودےن ( ۴۷) صاحب ا لمال ( ۴۸) ابورحاٴ (ازنصےبےن) ( ۴۹) ابومحمدابن الوجنا(ازاہواز) ( ۵۰) الحصےنی (عاےة المقصود جلد ۱ ص ۱۲۱) ۔
ِِزیارت ناحیہ اوراصول کافی
کہتے ہیں کہ اسی زمانہ غیبت صغری میں ناحیہ مقدسہ سے ایک اےسی زیارت برآمد ہوئی ہے جس میںتمام شہداٴ کربلا کے نام اورانکے قاتلوں کے آسماٴہیں ۔ اس ”زیارت ناحیہ “ کے نام سے موسوم کیاجاتاہے ۔ اسی طرح یہ بھی کہاجاتاہے کہ اصول کافی جوکہ حضرت ثقة الاسلام علامہ کلےنی المتوفی ۳۲۸ کی ۲۰ سالہ تصنےف ہے وہ جب ا مام عصرکی خدمت میں پےش ہوئی توآپ نے فرمایا : ” ھذا کاف لشےعتنا۔“ یہ ہمارے شےعوں کے لئے کافی ہے زیارت ناحیہ کی توثےق بہت سے علماء نے کی ہے جن میں علامہ طبرسی اورمجلسی بھی ہیں دعائے سباسب بھی آپ ہی سے مروی ہے ۔
غیبت کبری میں امام مہدی کامرکزی مقام
امام مہدی علیہ السلام چونکہ اسی طرح زندہ اورباقی ہیں جس طرح حضرت عیسی ،حضرت ادرےس ،حضرت خضر،حضرت الیاس ۔ نےز دجال بطال ، یاجوج ماجوج اورابلےس لعےن زندہ اورباقی ہیں اوران سب کامرکزی مقام موجود ہے ۔ جہاں یہ رہتے ہیں مثلا حضرت عیسی چوتھے آسمان پر(قرآن مجید) حضرت ادرےس جنت میں (قرآن مجید) حضرت خضراورالیاس ،مجمع البحرین یعنی دریائے فارس وروم کے درمیان پانی کے قصرمیں (عجائب القصص علامہ عبدالواحد ص ۱۷۶) اوردجال بطال طبرستان کے جزیرہ مغرب میں (کتاب غایۃ المقصود جلد ۱ ص ۱۰۲) اوریاجوج ماجوج بحےرہٴ روم کے عقب میں دوپہاڑوں کے درمیان (کتاب غایۃ المقصود جلد ۲ ص ۴۷)
اورابلےس لعےن ،استعمارارضی کے وقت والے پایہٴ تخت ملتان میں(کتاب ارشادالطالبین علامہ اخوند دروےزہ ص ۲۴۳) تو لامحالہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کابھی کوئی مرکزی مقام ہوناضروری ہے جہاں آپ تشریف فرماہوں اوروہاں سے ساری کائنات میں اپنے فرائض انجام دےتے ہوں اسی لئے کہاجاتاہے کہ زمانہ غیبت میں حضرت امام مہدی علیہ السلام (جزیرہ خضراٴاوربحرابےض)
میں اپنی اولاد اپنے اصحاب سمےت قیام فرماہیں اوروہیں سے باعجازتمام کام کیاکرتے اورہرجگہ پہنچاکرتے ہیں ،یہ جزیرہ خضراٴ سرزمین ولآیت بربرمیں درمیان دریائے اندلس واقع ہے یہ جزیرہ معموروآبادہے ، اس دریاکے ساحل میں ایک موضع بھی ہے جوبشکل جزیرہ ہے اسے اندلس والے (جزیرہ رفضہ ) کہتے ہیں ،کےونکہ اس میں ساری آبادی شےعوںکی ہے اس تمام آبادی کی خوراک وغےرہ جزیرہ خضراسے براہ بحرابےض سال میں دوبار ارسال کی جاتی ہے ۔ملاحظہ ہو(تاریخ جہاں آرا۔ ریاض العماء ،کفاےة المہدی ،کشف القناع ، ریاض المومنین ،غایۃ المقصود ،رسالہ جزیرہ خضراء وبحرابےض اورمجالس المومنین علامہ نوراللہ شوشتری وبحارالانوار،علامہ مجلسی کتاب روضة الشہداء علامہ حسین واعظ کاشفی ص ۴۳۹ میں امام مہدی کے اقصائے بلاد مغرب میں ہونے اوران کے شہروں پرتصرف رکھنے اورصاحب اولادوغےرہ ہونے کاحوالہ ہے ۔ امام شبلنجی علامہ عبدالمومن نے بھی اپنی کتاب نورالابصارکے ص ۱۵۲ میں اس کی طرف بحوالہ کتاب جامع الفنون اشارہ کیاہے ، غیاث اللغاث کے ص ۷۲ میں ہے کہ یہ وہ دریاہے جس کے جانب مشرق چےن ،جانب غربی ےمن ، جانب شمالی ہند، جانب جنوبی دریائے محےط واقع ہے ۔ اس بحرابےض واخضرکاطول ۲ ہزارفرسخ اورعرض پانچ سوفرسخ ہے اس میںبہت سے جزےزے آباد ہیں جن میں ایک سراندےب بھی ہے اس کتاب کے ص ۲۹۵ میں ہے کہ ”صاحب الزمان“ حضرت امام مہدی علیہ السلام کالقب ہے علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ آپ جس مکان میں رہتے ہیں اسے ”بےت الحمد“ کہتے ہیں ۔ (اعلام الوری ص ۲۶۳) ۔
جزیرہ خضراٴ میں امام علیہ السلام سے ملاقات
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی قیام گاہ جزیرہ خضراٴ میں جولوگ پہنچے ہیں۔ ا ن میں سے شیخ صالح ،شیخ زےن العابدےن ملی بن فاضل مازندرانی کانام نمایاں طورپرنظرآتاہے ۔ آپ کی ملاقات کی تصدےق ، فضل بن ےحےی بن علی طبےعی کوفی وشیخ عالم عامل شیخ شمس الدےن نجح حلی وشیخ جلال الدےن ، عبداللہ ابن عوام حلی نے فرمائی ہے ۔ علامہ مجلسی نے آپ کے سفرکی ساری وؤےداد ایک رسالہ کی صورت میں ضبط کیاہے ۔
جس کامفصل ذکربحارالانوار میں موجود ہے رسالہ جزیرہ خضراء کے ص ۱ میں ہے کہ شیخ اجل سعےدشہےد بن محمد مکی اورمےرشمس الدےن محمد اسداللہ شوشتری نے بھی تصدےق کی ہے۔ مؤلف کتاب ہذا کہتاہے کہ حضرت کی ولادت حضرت کی غیبت ،حضرت کاظہوروغےرہ جس طرح رمزخداوندی اوررازالہی ہے اسی طرح آپ کی جائے قیام بھی ایک رازہے جس کی اطلاع عام ضروری نہیں ہے ،واضح ہوکہ کولمبس کے ادراک سے قبل بھی امرےکہ کاوجود تھا۔
امام غائب کاہرجگہ حاضرہونا
احادےث سے ثابت ہے کہ امام علیہ السلام جوکہ مظہرالعجائب حضرت علی کے پوتے ،ہرمقام پرپہونچتے اورہرجگہ اپنے ماننے والوں کے کام آتے ہیں ۔ علماٴ نے لکھا ہے کہ آپ بوقت ضرورت مذہبی لوگوں سے ملتے ہیں لوگ انھےں دےکھتے ہیں یہ اوربات ہے کہ انھےں پہچان نہ سکےں ۔(غایۃ المقصود)۔
|