گھر کو کیسے جنت بنائیں؟ تیسرا حصہ
 
اقتباس ازکتاب : گھر کو جنت بنانے کے
چودہ مجّرب نسخے

مولف: سید عابد حسین زیدی


ساس ،سسر اور گھر کے دیگر افراد کے عمل کے لئے چودہ مجرب نسخے
نسخہ بمبر 1
--{ساس سسر یا گھر میں رہنے والے اور افراد سورہ بقرہ پڑھ کر اپنے گھر والوں پر دم کریں }--
کیونکہ رسول اسلام (ص)نے فرمایا ہے :
"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (ص) کی جان ہے ، شیطان اس گھر میں ٹھہر نہیں سکتا جس میں سورہ بقرہ کی تلاوت کی جائے ۔"
اس لئے کہ گھروں میں جھگڑوں سے بچنے کے لئے شیطان مردوں سے بچنے کی بہت زیادہ فکر کی جائے اور جن چیزوں سے گھروں میں شیاطین آتے ہیں ان سے بچا جائے اور جن اعمال سے شیاطین سے حفاظت ہوتی ہے ،ان اعمال کا اہتمام کیا جائے جس میں سے ایک عمل گھر میں سورہ بقرہ کا ختم ہے ۔

نسخہ نمبر 2
--{ساس سسر یا گھر میں کثرت سے تلاوت قرآن بمعہ ترجمہ کا اہتمام کریں }--
کیونکہ حدیث میں ہے کہ :
" جس گھر میں قران کریم کی تلاوت کی جاتی ہے ۔ملائکہ اس میں حاضر ہوتے ہیں ،شیاطین نکل جاتے ہیں اور جس گھر میں تلاوت نہ ہو ، اس میں خیر وبرکت کم ہوجاتی ہے ،شیاطین اس گھر میں مسکن بنالیتے ہیں ۔فرشتے وہاں سے چلتے جاتے ہیں "

نسخہ نمبر 3
--{ حتی الامکان بیٹے کو شادی کے بعد الگ رہنے کی ترغیب دیں }--
دینداری کا دم بھرنے والے اکثر سےایک غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ سب کا ایک ساتھ ،ایک ہی گھر میں رہنا بہت ضروری ہے ورنہ گھر کی برکت نکل جائے گی ۔
محترم ساس وسسر ! ایک برتن میں کھانا پکنے سے برکت ضرور آئے گی لیکن لڑائی جھگڑے ی وجہ سے گھروں میں نفرت ،حسد ،بغض ،غیبت ،لڑائی ،جھگڑے کا دروازہ کھل جاتا ہے اور وہ پورے گھر کو اللہ کی رحمت سے دور کردیتا ہے ۔ صرف ایک ایسی برکت کے لئے ہزاروں مصیبتوں اور گناہوں کا ارتکاب کیسے جائز ہوگا ؟
یعنی ایک مستحب کے لئے اتنا اہتمام کہ ہزاروں حرام اس کی وجہ سے ہوجائیں یہ کہاں کی عقلمندی ہے ؟
ایک گھر جہاں کئی شادی شدہ بھائی ایک ساتھ رہتے ہوں اور ایک ساتھ کھانا کھاتے ہوں لیکن
----- آپس میں دل گرفتہ ہوں ۔
---- روزانہ جھگڑے بڑھ رہے ہوں ۔
---- حسد اور حرص کی بیماریاں بڑھ رہی ہوں ۔
----- رات کو شوہر آئیں تو بہو ئیں ایک دوسرے کے خلاف باتین کرکے شوہروں (سگے بھائیوں )میں عداوت اور دشمنی کے بیج بورہی ہوں ۔
----- غیبت ،چغل خوری اور جھوٹ کے جراثیم پیداہو کر بڑی بڑی روحانی بیماریاں پیدا کررہے ہوں ۔
---- بیٹے کو ماں اور بہن سے دور کیا جارہا ہو۔
---- بیوی گھر چھوڑنے یا طلاق لینے کی دھمکی دے رہی ہو ۔
----- ساس ، تعویذ ،گنڈوں کی فکر میں ہو ۔
----- سسر ہر نماز کے بعد بد دعا کررہا ہو ۔
-----لڑکے یا لڑکی کی ساس ،پورے خاندان میں سمدھی اور سمدھن کے برا ہونے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہو ۔
----- چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے بڑے عیب بنا کر پیش کیا جارہا ہو ۔
----- ان سب کے نتیجے میں گھر کے بعض افراد نفسیاتی ہمسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہوں ۔
----- اپنے بچوں کو مشترک گھر میں رہنے سے حرام سے ڈش انٹینا اور کیبل سے بچانا مشکل ہورہا ہو ۔
اور اس کے بر خلاف ایک گھر ایسا ہو جہاں شادی ک فضول اور بیہودہ رسموں سے پیسے بچا کر اور ایسی شادی کرکے جس میں ش کے تین نقطے نہ ہوں یعنی سادی ،ایسی شادی جو سادہ ہو ، اسراف اور فضول خرچیوں سے مبرا ہو اور ان حرام کاموں سے پیسے بچا کر جب تک مستقل علیحدہ مکان لینے کی گنجائش نہ ہو تو چاہے چھوٹا سا گھر یا فلیٹ بھی کیوں نہ ہو الگ رہ کر ماں ،باپ کی خدمت کرکے زیادہ سے زیادہ دعائیں لی جاتی ہوں ۔
----- نند اور بھاوج میں آپس کی محبت برقراررہے ۔
---- دیورانی اور جیٹھانیاں ایک دوسرے کا احترام کرتی ہوں ۔
---- بچوں کی اچھی تربیت ہورہی ہو۔
----- روزانہ یا اکثر ملاقات کے لئے آپس میں آنا جانا ہو۔
----- حسب توفیق تحفہ ،تحائف دئیے جاتے ہوں ۔
---- کھانا پکا کر ساس وسسر کے لئے لایا جاتا ہو ۔
----- چھوٹے بچوں میں آپس میں محبت ہو ۔
دونوں زندگیاں آپ کے سامنے ہیں ،دونوں کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔ کون سی زندگی آپ کو پسند ہے ؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔
محترم ساس ! جو بات رب العالمین کی شریعت میں بری نہیں ، اس کو برا نہ سمجھئے ، شریعت میں جس کی اجازت ہو اس پر پابندی نہ لگائیے ۔
لیکن بد قسمتی سے اور بعض اوقات آپ کی ہٹ دھرمی سے اور ان تما م خرابیوں کے بعد لڑجھگڑ کر بیٹا اور بیٹا اور بہو کو علیحدہ ہونا ہی پڑتا ہے تو کیا بہتر نہیں کہ ان تمام خرابیوں سے پہلے ہی ان کو الگ کردیں ۔
----- چاہے کتنی بھی طلاقیں ہوں ۔
----- کتنے بھی گھر اجڑیں ۔
----- کتنے نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوں ۔
---- کتنے بہن بھائی ،بہنوں میں اختلاف وجھگڑے ہوں ۔
کیا تب بھی آپ کا فیصلہ وہی رہے گا ؟
اسلامی شریعت نے بھی بہو کے لئے ساس ،سسر کی خدمت کرنے کو حسن سلوک تو کہا ہے لیکن واجب قرار نہیں دیا اور دیور اور جیٹھ کی خدمت تو غیر مناسب بھی ہے اکثر بے پردگی کا اہتمام ہوتا ہے ۔ اور جب یہ سب بہو کے فرائض میں شامل ہی نہیں تو آپ زبردستی خدمت کیسے لیں گے ؟ یہی سوچ فتنے او رفساد کی بنیادیں ہے اور ظلم کی ابتدا ہے ۔

نسخہ نمبر 4
--{ ہم مزاج بیٹے اور بہو کو ساتھ رکھیں }--
اگر آپ بھی چا ہتے ہیں کہ ایک بیٹا ہمارے ساتھ ہو اور پوتے پوتیوں سے گھر میں رونق ہو تو اس بیٹے کو ساتھ رکھیں جس سے مزاج ملتا ہو ۔اور اس بیٹے اور بہو کو دعائیں بھی دیتے رہیں جو آپ کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔

نسخہ نمبر 5
--{ کچن تو ضرور علیحدہ ہو }--
اگر مالی حالات یا کسی اور مصلحت سے بہوؤں کو ایک ہی گھر میں رکھنا ہو
تو کم از کم اتنا کیجئے کہ ان کے آنے جانے کا راستہ الگ ہو اور کچن تو ضرور علیحدہ ہو ، زیادہ تر آگ چولہے ہی بھڑکتی ہے ۔'

نسخہ نمبر 6
--{ حسن اخلاق او رخوش دلی سے جتنی چاہے خدمت کروائیے }--
ساس اور سسر خصوصا ساس اگر سلیقہ مند ہو تو بہو کے ساتھ حسن اخلاق او رخوش دلی سے جتنی چاہے خدمت کرواسکتی ہیں ۔ یہ بہو کے لئے سعادت اور ساس وسسر کے اخلاق کی بلندی کی علامت ہے ۔لیکن بہو سے جبر ا خدمت لینا نہ شرعا جائز ہے اور نہ اخلاقا صحیح ہے ۔
بہو کا اکرام اور عزت کرکے دیکھئے آپ حیران ہوں گے کہ وہ آپ کی بیٹی سے بڑھ کر آپ کی خدمت گزار ہوگی ۔

نسخہ نمبر 7
--{ بہو سے بدگمان نہ ہوں }--
اس کی غلطی دیکھ کر بھی اچھی تاویل کریں ،اپنے خیال کی پرواہ نہ کریں ۔
جب آپ ایسا کریں گے تو گویا شیطان کے منہ پر طمانچہ ماریں گے وہ خبیث خود بخود دور ہوجائے گا ۔
امام صادق (ع) نے فرمایا ہ ےکہ :
"اس ناپاک کے منہ پر طمانچہ مارو ،جب اس کو ماروگے ، اس کی باتوں پر عمل نہ کروگے تویہ خود بخود دفع ہوجائے گا ۔"
اس کے برعکس اگر اس کی باتوں کو اہمیت دیں گے اور بہو سے سوء ظن رکھیں گے تو یہ منحوس شیطان آپ کی فکر اور سوچ پر قابض ہو جائے گا لہذا س کا علاج فقط یہ قرآنی حکم ہے کہ :
"لوگوں سے متعلق بد گمانی سے پر ہیز کرو کیونکہ اکثر گمان گناہ ہوتے ہیں ۔"
اگر آپ نے ظن یا گمان بد سے کام لیا تو گویا قرآن کی مخالفت کی ہے ۔

نسخہ نمبر 8
--{بیٹا اور بہو کے ہر کام میں مداخلت نہ کریں }--
اگر آپ اپنی شادی شدہ اولاد کو سعادت مند دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ ان کے ہر کام میں مداخلت نہ کریں ۔
آپ کو حیوانوں سے سبق لینا چاہئیے کہ وہ اپنے بچوں کی اسوقت تک سرپرستی کرتے ہیں جب تک وہ ان کے محتاج ہوتے ہو۔جو نہی وہ ایک مستقل زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں والدین ان کو آزاد چھوڑدیتے ہیں تاکہ وہ اپنی مستقل زندگی گزارنا شروع کردیں ۔یہی بات پرندوں اور دیگر جانوروں بلکہ انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے ۔بات صرف اتنی سی ہے کہ ہم اس پر عمل نہیں کرتے ۔
جب اولاد کی شادی ہوجائے تو ان کے کاموں میں بے جا مداخلت نہ کریں ۔ ٭ جان لو کہ تم علم کے ساتھ ہی خوش نصیبی حاصل کرسکتے ہو ۔(حضرت علی علیہ السلام)
نسخہ نمبر 9
--{ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ داماد اور بہو کی طرفداری کریں }--
آیت اللہ مظاہری فرماتے ہیں کہ :
"ہمیشہ صلح وصفائی آپ کا مطمع نظر رہے ۔"
بہو کے ماں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ داماد کی طرفداری کریں اور ساس وسسر کو بہو کی طرفداری کرنی چاہئیے ۔
اگر لڑکی لڑبھڑ کر ماں باپ کے گھر چلی جائے تو لڑکی کی ماں اپنی بیٹی کو لے جاکر داماد کے حوالے کردے اور اس کے پاس تھوڑی دیر بیٹھ کرباتیں کرے تو داماد کتنا ہی ناراض کیوں نہ ہو،راضی ہوجائے گا اور اگر ساس وسسر گھر میں بہو کے ساتھ الفت ومحبت رکھیں اور اگر جھگڑا پیدا ہو جائے تو اس کی طرفداری کریں تو بہو خواہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو خود بخود ان کے ساتھ محبت کرنےلگے گی اور جھگڑا فساد ختم ہوجائے گا ۔
امیر المومنین امام علی ابن ابی طالب (ع) نے اپنی شہادت کے وقت اپنے فرزندوں کو یوں نصیحت فرمائی :
" اے میرے فرزندوں ! میں تمہیں تاکید کرتاہوں کہ تقوی کو اپنا شعار بناؤ ،اپنے معاملات کو منظم رکھو اور اپنے درمیان ہمیشہ صلح وصفائی رکھو"۔
کیونکہ میں نے تمہارے جد پیغمبر اسلام سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا :-
دو افراد کے درمیان صلح کرنا خدا کے نزدیک ایک سال کی نماز اور روزوں سے افضل ہے ۔"

نسخہ نمبر 10
--{ کبھی بھی بہو کی برائی بیٹے سے یا داماد کی برائی اپنی بیٹی سے نہ کریں }--
ان کی خامیوں کی تلاش میں بھی نہ رہیں ۔
بہت سے لوگ خود اپنے اندر اور دوسروں میں اچھائیاں نہیں دیکھ پاتے ان کو ہر چیز منفی صورت میں نظر آتی ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان کے اندر کیسی کیسی خوبیاں ہیں بلکہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے میں کون کون سی برائیاں ہیں ۔
منفی پہلو کی سوچ گویا مکھی کی طرح ہے وہ باغ میں بھی جائے تو ڈھونڈ تی ہے کہ کہیں کوئی گندگی مل جائے تاکہ وہ اس پر بیٹھ سکے ۔
محترم ساس و سسر ،اپنی بہو اور داماد کے پیچھے نہ پڑیں کہ کسی نہ کسی طرح
کوئی نقص نکال ہی لوں بلکہ آپ کو ایک بلبل کی طرح ہمیشہ پھولوں پر ہی رہنا چاہئیے ۔آپ کو پھولوں ہی کی تلاش ہونی چاہیے ۔بہو میں اچھائی اور مثبت نقاط کی تلاش کرنی چاہیئے ،آپ اس کی ساری اچھائیاں ایک بد سلوکی کی وجہ سے بھلا دیتے ہیں ۔ اور آپ کا رویہ یکدم بدل جاتا ہے ۔
افسوس! قرآن کا بھی یہی مشہورہ ہے کہ انسان وفادار نہیں ہے ۔

نسخہ نمبر 11
--{معافی کواپنا شعار بنائیں }--
واقعا اگر آپ کی بہو بری بھی ہے ،اور اس نے آپ کے ساتھ کچھ زیادتی بھی کی ہے تو آپ اسے معاف کردیں ۔
کیوں ؟
اس لئے کہ کیا آپ نہیں چاہتے کہ قیامت میں خدا آپ کو معاف کردے ؟
آپ نے سنا ہوگا کہ قیامت میں کچھ لوگ بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس دنیا میں عفو ،درگذر اور بخشش سے کام لیتے ہیں ۔

نسخہ نمبر 12
--{ جب کوئی تم سے برائی کرے اس کے ساتھ نیکی کرو}--
آیت اللہ مظاہری فرماتے ہیں کہ یہ آیت گھر میں (بمعہ ترجمہ) لکھ کر ایسی جگہ لٹکا دینی چاہئیے ،کہ گھر کے ہر فرد کی نگاہ اس پر پڑتی رہے
"ویدرون بالحسنۃ "(سورہ قصص)
"جب کوئی تم سے برائی کرے اس کے ساتھ نیکی کرو"
اے ساس وسسر ! اگر آپ قرآنی احکام پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کو اس آیت پر بھی عمل کرنا ہوگا ۔یہ آیت لکھ کر ایسی جگہ لٹکا دیں کہ جسے آپ بھی دیکھیں ،بہو بھی دیکھے ،بیٹا بھی دیکھے ،گھر کے بچے بھی دیکھ لیں اور آہستہ آہستہ سب میں معاف کرنے کی طاقت پیدا ہوجائے ۔ اگر آپ اور بہو میں ہم آہنگی نہ ہو تو بھی بخشش اور حسن سلوک سے اس کمی کو پورا کرسکتے ہیں ۔ ٭ علم کی وجہ سے اللہ کے واحد ہونے کا اقرار کیا جاتا ہے علم کے ذریعے صلہ رحم کیا جاتا ہے ۔"

نسخہ نمبر 13
--{اختلافات کو ختم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ "خود بینی اور خود پسندی "کی بیماری ہے اس کو دور کیجئے"}--
اس مہلک بیماری میں مبتلا شخص پر پتھر پڑجاتے ہیں وہ صرف اپنی خوبیوں کو دیکھتا ہے اور اسے اپنے میں خاص خامی نظر نہیں آتی اور وہ وقت اس سے بھی بد تر ہوتا ہے جب اس مرض میں مبتلا کوئی دوسرا شخص بھی مل جائے اور وہ دونوں ایک دوسرے کی عیب جوئی کریں ۔
محترم ساس ! کہیں یہ عیب آپ میں بھی تو نہیں ہے ۔ممکن ہے کہ زیادتی بہو کی طرف سے بھی ہوتی ہو لیکن آپ کا بھی قصور ہو ۔ اس بیماری سے چھٹکارا پانے کا ایک طریقہ اپنا محاسبہ کرنا ہے ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آپ کی طرف سے بہو کے سلسلے میں کیا کیا غلطیاں ہوئی ہیں ؟
اگر ہوئی ہیں تو اپنی طرف سے بہو سے حسن سلوک کرکے ان کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں ۔
بہت سے لوگوں میں یہ مرض اتنا گہرا اور شدید ہوتاہے کہ انہیں اس کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہوتا ۔

نسخہ نمبر 14
--{ اگر آپ خود کو آخرت کے لئے آمادہ کرلیں گے تو گھر کے سارے جھگڑے خود ہی ختم ہوجائیں گے }--
رسول اسلام (ص) فرماتے ہیں کہ :
"وہ شخص جس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہوجائے اور اس کے اچھے کام برے کاموں پر غالب نہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو عذاب الہی کے لئے تیاررکھے "-
امام حضرت صادق فرماتے ہیں کہ :
"انسان چالیس سال تک کی عمر تک رحمت الہی کی وسعت میں ہے جب زندگی کے چالیس سال مکمل ہوجاتے ہیں تو خدا فرشتوں کو وحی کرتا ہے کہ اب وہ سخت گیری اور سخت نگرانی سے کام لیں اور اس کے تمام اعمال چاہے کم ہوں یا زیادہ ،چھوٹے ہوں یا بڑے تحریر کریں ۔"
اگر آپ نے علم حاصل کئے بغیر ہی زندگی گزاردی ہے تو جھگڑوں کا ایک سبب یہ جہالت بھی ہے کیونکہ
مولائے کا ئنات فرماتے ہیں کہ :
"جب عقل مند انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی عقل جوان ہوتی ہے اور جب جاہل انسان بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی جہالت جوان ہوتی ہے "۔
اور آپ کی علم حاصل کرنے سے روگردانی آپ کو خلاف شریعت امور کا ارتکاب کرواتی ہے جس سے اولاد او ربھی نافرمان ہوجاتی ہے ۔اگر آپ کو علم ہو کہ کس وقت شریعت کی طرف سے کیا ذمہ داری ہے ، موجودہ حالت میں گھر میں کیسے رہا جائے تو اولاد کبھی نافرمانی کی طرف نہیں جائے گی ۔
رسول اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) سے ارشاد فرمایا کہ :
"اے علی (ع) ! وہ ماں باپ ،رحمت الہی سے دور ہوں اور بے نصیب ہوں جو اپنے برے طریقوں اور باتوں سے اپنی اولاد کے منحرف او رگمراہ ہونے کا باعث بنتے ہیں اور انہیں اپنی اذیت اور نافرمانی کے راستے پر لگادیتے ہیں "۔
مولائے کائنات فرماتے ہیں کہ:
"جھڑکنے اور ڈانٹ ڈپٹ میں زیادتی ،لڑائی جھگڑے کی آگ کو بڑھا تی ہے "۔
اس پورے کتابچہ کا خلاصہ اگر کیا جائے تو لب لباب اس روایت کا نتیجہ ہے کہ ابو دا‌ؤد کہتے ہیں کہ ہم تین آدمی کسی بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اتنے میں
پیغمبر اسلام پہنچے اور دیکھا کہ ہم جھگڑرہے ہیں ۔یہ دیکھ کر آپ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا ، میں نے کبھی رسول خدا کو اتنا غصّہ ہوتے نہیں دیکھا تھا ۔اس کے بعد پیغمبر اسلام نے فرمایا :
" جھگڑا اور تکرار کرنا مسلمانوں کی شان نہیں ،جو لوگ ایسا کریں گے میں ان کی شفاعت نہیں کروں گا ۔"
اس کے بعد فرمایا :
" ابتدائی چیز جس کے بارے میں مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میں لوگوں کو جس چیز سے روکوں وہ شرک و بت پرستی کے بعد تکرار اور جھگڑا کرنا ہے ۔"