سیرت رسول اور سیرت عمر میں اختلاف
 
اقتباس از کتاب "المیہ جمعرات"
مصنف:-ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی

1:- فتح خیبر کے بعد رسول خدا (ص) نے یہود خیبر سے معاہدہ کیا تھا کہ خیبر کے باغات کی نگرانی کریں گے اور بٹائی میں انہیں آدھا حصہ دیاجائے گا ۔رسول خدا (ص) کی زندگی میں یہی ہوتا رہا ۔حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں بھی اسی معاہدہ پر عمل ہوتا رہا ۔حضرت عمر نے ان سے زمین وباغات واپس لے لئے اور انہیں جلاوطن کردیا ۔
2:- رسول خدا نے وادی القری کو فتح کیا اور وہاں کے یہود سے بھی خیبر کے یہودیوں جیسا معاہدہ فرمایا ۔
حضرت عمر نے اپنے دور اقتدار میں انہیں جلاوطن کر کے شام بھیج دیا اور ان سے تمام زمین چھین لی (1)۔

سیرت شیخین کا باہمی تضاد
گزشتہ اوراق میں ہم کچھ اختلا فات کا تذکرہ کرچکے ہیں اور ان صفحات میں بطور نمونہ چند مزید اختلاف نقل کرتے ہیں اور صاحبان علم سے دریافت کرتے ہیں کہ جب ان دونوں بزرگوں کی سیرت ایک دوسرے سے ہی نہیں ملتی تھی تو سیرت شیخین کی اصطلاح وضع کیوں کی گئی اور اسے حصول خلافت کیلئے شرط کیوں قراردیا گیا ۔
1:- عیینہ بن حصین اور اقرع بن حابس حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور ان سے عرض کی ! اے خلیفۃ الرسول ! ہمارے پاس بنجر زمین پڑی ہوئی ہے اس میں کسی قسم کی کوئی زراعت وغیرہ نہیں ہوتی ۔اگر آپ وہ زمین ہمیں عنایت کردیں تو ہم وہاں محنت کریں گے ممکن ہے کسی دن وہ ہمیں فائدہ بھی دے جائے ۔
حضرت ابو بکر نے ان کی درخواست سن کر حاضرین سے مشورہ لیا ۔
حاضرین نے زمین دینے کی حامی بھری ۔پھر حضرت ابوبکر نے انہیں اس زمین کی ملکیت تحریر کردی اور گواہوں نے بھی دستخط کردئیے ۔لیکن اس وقت حضرت عمر موجود نہ تھے ۔ راستے میں حضرت عمر کی ان سے ملاقات ہوگئی اور ان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ زمین کی ملکیت کا گوشوارہ ہے حضرت عمر نے ان سے مذکورہ تحریر لے کر اسے پھاڑ ڈالا اور انہیں کہا : رسول خدا (ص) جس زمانے میں تمہاری تالیف قلب کیا کرتے تھے وہ اسلام کی ذلت کے دن تھے اور آج الحمدللہ اسلام ترقی کرچکا ہے ۔ہمیں تمہاری تالیف قلب کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
یہ سن کر وہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور حضرت عمر کے سلوک کا شکوہ کیا ۔اتنے میں حضرت عمر بھی پہنچ گئے اور بڑے ناراض لہجہ میں حضرت ابو بکر سے پو چھا : آپ نے ان دونوں کو جو زمین دی ہے کیا وہ آپ کی ذاتی جاگیر ہے یا تمام مسلمانوں کی ہے ؟
حضرت ابو بکر نے کہا: یہ تمام مسلمانوں کی جاگیر ہے ۔پھر حضرت عمر نے کہا آپ نے جماعت مسلمین کے مشورہ کے بغیر انہیں زمین کیوں دے دی ؟
حضرت ابو بکر نے کہا میں نے ان حاضرین سے مشورہ کیا تھا اور ان کے مشورہ اور اجازت سے ہی میں نے ان کو زمین دی تھی ۔
حضرت عمر نے کہا: کیا مسلمانوں کا ہر فرد صحیح مشورہ دینے کا اہل ہوتا ہے ؟؟(2)
2:- حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی سیرت کے اختلاف کو مالک بن نویرہ کے واقعہ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

مالک بن نویرہ کا واقعہ
یہ تاریخ اسلام کا ایک افسوس ناک واقعہ ہے ۔اس واقعہ میں خالد بن ولید نے اجتماعی اور دینی لحاظ سے بہت غلطیاں کیں ۔
1:- خلیفہ کی اجازت کے بغیر خالد نے مالک بن نویرہ پر لشکر کشی کی۔
2:- دینی اعتبار سے مالک پر لشکر کشی ناجائز تھی ۔
3:- خالد نے مالک کے قتل کرنے کا جن الفاظ میں حکم دیا اسے "غدر "سے تعبیر کرنا زیادہ مناسب ہے ۔جس کی اسلام میں گنجائش نہیں ہے ۔
4:- ابھی مالک کی لاش بھی ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ خالد نے مالک کی بیوی سے نکاح کرلیا ۔قانون عفت ،انسانی وجدان اور اسلامی شریعت اس نکاح کی اجازت نہیں دیتے مگر ان تمام جرائم کو حضرت ابو بکر نے معاف کردیا ۔جب کہ حضرت عمر نے خالد کی اس حرکت کوناپسند کیا اور جب خلیفہ مقرر ہوئے تو خالد کو معزول کردیا ۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے :
ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ "جب خالد فزارہ ، اسد اور بنی طے کی لڑائی سے فارغ ہوا تو اس نے "بطاح" کا رخ کیا ۔اس وادی میں مالک بن نویرہ اور اس کی قوم رہائش پزیر تھی ۔ خالد کے کچھ ساتھیوں نے اس کا ساتھ دینے سے معذرت کی اور کہا کہ ہمیں خلیفہ نے یہ حکم نہیں دیا ہے ۔خلیفہ نے ہمیں کہا تھا کہ جب ہم "بزاحہ" سے فارغ ہوجائیں تو خلیفہ کے حکم ثانی کا انتظار کریں ۔خالد نےکہا : میں تمھارا سالار ہوں ۔ مالک بن نویرہ میرے پنجے میں پھنس چکا ہے اگر تم میرے ساتھ نہیں چلتے تو مت چلو میں اپنے ساتھ مہاجرین کا دستہ لے کرچلا جاؤں گا ۔"
حضرت ابوبکر نے اپنے لشکر کو نصیحت کی تھی کہ جب تم کسی منزل پر قیام کرو تو وہاں اذان دو ، اگر مخالف بھی اذان دیں تو انہیں کچھ نہ کہو اور اگر وہ اذان نہ دیں تو ان سے جنگ کرو ۔اگر وہ اذان دیں تو ان سے زکواۃ کے متعلق سوال کرو اور اگر وہ زکواۃ کی فرضیت کا اقرار کریں تو ان کی بات قبول کرو اور اگر وہ زکواۃ کا انکار کریں تو ان سے جنگ کرو ۔
جب خالد اپنا لشکرلے کر وہاں پہنچا اور انہوں نے اذان دی تو اس کے جواب میں مالک کے قبیلہ نے بھی اذان دی اور نماز پڑھی اور اس امر کی گواہی خالد کے ایک فوجی ابو قتادہ نے بھی دی ۔
خالد کے لشکر نے اس مسلمان قبیلہ پر شب خون مارا ، دونوں طرف سے تلواریں چلنے لگیں ۔ مالک کے قبیلہ والوں نے حملہ آوروں سے پوچھا کہ تم کون ہو؟
انہوں نے کہا ہم مسلمان ہیں ۔تو مالک کے قبیلہ نے بھی کہا کہ ہم بھی مسلمان ہیں لہذا لڑائی کیسی ؟
خالد کے لشکر نے انہیں ہتھیار ڈالنے کو کہا انہوں نے مسلمانوں پر اعتماد کرتے ہوئے ہتھیارڈال دئیے تو خالد نے حکم دیا کہ انہیں گرفتار کرلو ۔انہیں گرفتار کرکے خالد کے پاس لایا گیا ۔ گرفتار شدہ گان میں مالک بن نویرہ بھی تھا ۔ اس کی بیوی اسے ملنے آئی وہ بڑی خوبصورت عورت تھی ۔خالد نے اسے دیکھا ا س وقت مالک نے بیوی سے کہا کہ "کاش تو نہ آتی تو ہم بچ جاتے ۔ اب خالد نے تجھے دیکھ لیا ہے اور اس کی للچائی ہوئی نظریں دیکھ کر میں سمجھتاہوں کہ یہ تجھے حاصل کرنے کے لئے ہمیں قتل کردے گا ۔"
وہ ایک سرد اور تاریک رات تھی ۔قیدی بے چارے سردی میں ٹھٹھر رہے تھے ۔ خالد نے منادی کو حکم دیا کہ اس نے بلند آواز میں ندا دی "ادفوو سراکم " بنی کنانہ کی لغت کے مطابق اس جملے کا ترجمہ یہ ہے کہ اپنے قیدیوں کو قتل کردو ۔
خالد کے فوجی اٹھے اور اس مسلمان قبیلے کے نمازی افراد کو بے گناہ تہ تیغ کردیا ۔
ابھی مقتولین کی لاشیں تڑپ رہی تھیں کہ خالد نے مالک کی بیوی ام عتیم سے شادی کرلی ۔یہی منظر دیکھ کر ابو قتادہ مدینہ آیا اور حضرت ابو بکر کو واقعہ کی اطلاع دی یہ خبر سن کر حضرت عمر نے کہا کہ خالد کی تلوار میں اسراف آگیا ہے لہذا اسے معزول کرکے سزا دیں ۔
حضرت ابو بکر نے کہا کہ اس نے تاویل کی اور اس سے ایک غلطی سرزد ہوگئی۔ خالد تواللہ کی تلوار ہے ۔تم خالد کے متعلق اپنے منہ سے کچھ نہ کہو ۔چند دنوں بعد خالد بھی مدینہ آیا اور حضرت ابوبکر کے سامنے اپنی غلطی کی معذرت کی ۔حضرت ابوبکر نے اسے معاف کردیا اور اس کی شادی کوبھی جائز قرار دیا ۔
مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور مطالبہ کیا کہ اس کے بھائی کو خالد نے ناحق قتل کیا ہے اور ہمارے افراد کو ناحق قید کرکے مدینے لایا ہے ۔ لہذا مجھے قانون شریعت کے مطابق خالد سے قصاص دلایا جائےاور ہمارے قبیلہ کے قیدیوں کو رہا کیا جائے ۔ حضرت ابوبکر نے قیدیوں کو فی الفور رہا کردیا اور خالد پر قصاص نافذ کرنے کی بجائے بیت المال سے مالک کا خون بہا ادا کیا
متمم بن نویرہ اپنے بھائی مالک کے ہمیشہ مرثیے کہا کرتا تھا ۔ اس کے مرثیے ادب عربی میں آج بھی شہ پاروں کی حیثیت رکھتے ہیں (3)۔

واقعہ مالک کا تجزیہ
1:- یہ لشکر کشی خلیفہ کے حکم اور اطلاع کے بغیر کی گئی ۔
2:- خلیفہ کی طرف سے لشکر کو حکم تھا کہ وہ اذان دیں ، اگر جواب میں مخالفین
بھی اذان دیں تو ان سے جنگ نہ کی جائے ۔ان سے زکواۃ کے متعلق دریافت کیا جائے کہ آیا وہ اس کی فرضیت کے قائل ہیں ؟ اگر وہ قائل ہوں تو ان سے کسی قسم کی چھیڑ خانی نہ کی جائے ۔
آخر مالک اور اس کے قبلہ کا جرم کیا تھا ؟ انہوں نے اذان دی اور نماز پڑھی ۔جس کی گواہی صحابی رسول ابو قتادہ نے دی ۔ اس کے باوجود بھی انہیں قتل کردیا گیا ۔آخر کیوں؟
3:- خالد نے بھی ان کے قتل کا حکم جن الفاظ سے دیا وہ الفاظ ذومعنی تھے ۔ اس حملے کا ایک مطلب یہ بنتا تھا کہ "اپنے قیدیوں کو گرم کرو" اور لغت بنی کنانہ میں اس جملے کا مطلب تھا کہ "اپنے قیدیوں کو قتل کردو ۔"خالد نے دراصل یہ سمجھا کہ میں ان الفاظ کے ذریعے سے قیدیوں کو قتل کرادوں گا۔اور خلیفہ کی طرف سے سختی ہوئی تو میں کہہ کر بری الذمہ ہوجاؤں گا ۔کہ میں نے تو قیدیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تھا ۔ قتل کرنے کا حکم تو میں نے جاری نہیں کیا تھا ۔فوجیوں نے میرے الفاظ کا مطلب غلط سمجھا ۔لہذا اس پورے واقعہ میں میں با لکل بے گناہ سمجھاؤں گا ۔
4:- اگرخالد کو نماز اور ذان کے باوجود بھی ان کے اسلام میں شک تھا تو انہیں خلیفہ کے پاس مدینہ بھیج دیتے ۔انہیں اس طرح سے قتل کرنے کا اختیار کس نے دیا تھا ؟
5:-شوہر کی لاش ! ابھی تڑپ رہی تھی اور خالد نے اس کی بیوی کو اپنی بیوی بنالیا ۔خالد کا یہ فعل ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ۔اس کی اجازت نہ تو دین اسلام دیتا ہے اورنہ ہی انسانیت اس کو جائز سمجھتی ہے ۔
6:- حضرت ابو بکر خالد کے اتنے بڑے کو کیوں معاف فرمایا جبکہ حضرت عمر بھی خالد کو مجرم قرار دے کر حد شرعی کا مطالبہ کررہے تھے ؟
7:- خالد نے بھی خلیفہ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے معذرت طلب کی تھی اور خلیفہ صاحب نے معاف کردیا تھا ۔کیا اسلامی شریعت میں کوئی ایسی شق موجود ہے کہ مجرم اپنے گناہ کا اقرار کرکے معذرت کرے اس پر حد شرعی نافذ نہ کی جائے ۔
8:-کیا نص کی موجودگی میں اجتہاد کی گنجائش ہے ؟
غالبا یہی وجہ تھی کہ حضرت علی (ع) نے سیرت شیخین کی شرط کو ٹھکراکر کہا تھا میری اپنی ایک بصیرت ہے ۔
9:- حضرت ابو بکر کا طرز عمل بھی خالد کے غلط کار ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔کیونکہ انہوں نے قیدیوں کو رہا کردیا تھا اور مالک کا خون بہا مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کیا گیا ۔لیکن ہمیں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ خالد کے گناہ کے لئے مسلمانوں کے بیت المال پر کیوں بوجھ ڈالا گیا ؟ اس واقعہ کے بعد ابو قتادہ نے قسم کھالی تھی کہ آیندہ پوری زندگی خالد کے لشکر میں کبھی شامل نہ ہوں گے اور اس ظلم کو دیکھ کر وہ لشکر میں کبھی شامل نہ ہوں گے اور اس ظلم کو دیکھ کر وہ لشکر کو چھوڑ کر مدینہ آگئے اور حضرت ابوبکر کو تمام ماجرے کی خبر دی اور کہا کہ میں نے خالد کو مالک کے قتل سے منع کیا تھا لیکن اس نے میری بات نہیں مانی ۔اس نے اعراب کے مشورہ پر عمل کیا جن کا مقصد صرف لوٹ مار کرنا تھا۔
ابو قتادہ کی باتیں سن کر حضرت عمر نے کہا کہ اس سے قصاص لینا واجب ہوگیا ہے (4)۔اور جب خالد مدینہ آئے تو حضرت عمر نے کہا : اے اپنی جان کے دشمن ! تو نے ایک مسلمان پر چڑھائی کی اور اسے ناحق قتل کردیا اور تو نے اس کی بیوی کو ہتھیالیا ۔یہ صریحا زنا ہے ۔خدا کی قسم ہم تجھے سنگسار کریں گے ۔
مورخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت عمر بر سر اقتدار ہوئے تو انہوں نے مالک کے خاندان کے بقیہ السیف افراد کو جمع کیا اور پھر مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس خاندان کا لوٹا ہوا مال و متاع فی الفور واپس کیا جائے ۔ حضرت عمر نے یہاں تک کیا کہ ان کی جن خواتین کو اس وقت کنیزیں بنا کر فروخت کردیا گيا تھا ان سب عورتوں کو لوگوں سے واپس کرایا اور ان میں سے بعض حواتین حاملہ بھی تھیں ان عورتوں کو سابق شوہروں کے حوالے کیا گیا ۔
علاوہ ازیں خالد وہی شخصیت ہیں جنہوں نے حضرت ابو بکر کے اواخر خلافت میں سعد بن عبادہ کو علاقہ شام میں رات کی تاریکی میں قتل کردیا تھا اور بعدمیں یہ مشہور کیا گیا کہ انہیں جنات نے قتل کیا ہے ۔
خالد بن ولید کے یہی کارنامے تھے جن کی وجہ سے حضرت عمر نے انہیں فوج کی سالاری سے معزول کردیا تھا ۔
ابن اثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عمر نے حکومت سنبھالتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ انہوں نے اپنے سالار ابو عبیدہ کو خط لکھا کہ وہ خالد کا لشکر سنبھال لیں ۔ کیوں کہ میں نے اسے معزول کردیا ہے اور جب تمہیں میرا یہ خط پہنچے تو خالد کے سر سے پگڑی اتار لینا او راس کا مال تقسیم کردینا (5)۔
درج بالا واقعات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں :- دینی اور دنیاوی لحاظ سے سیرت شیخین کوئی منظم اور مدوّن چیز ہی نہیں تھی یہی وجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ کیونکہ حضرت علی یہ سمجھتے
تھے کہ اسلامی حکومت کی بنیاد کتاب وسنت ہے ۔علاوہ ازیں کسی لاحقہ کی ضرورت نہیں ہے ۔علی موجود دور کے سیاست دان نہیں تھے کہ اقتدار کے لئے کسی ناجائز شرط کو تسلیم کرلیتے ۔
اس کے برعکس حضر ت عثمان نے تینوں شرائط کو قبول کرنے کا وعدہ کیاتھا ۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ وہ نہ تو کتاب وسنت پر کما حقہ عمل کرسکے اور نہی عمل سیرت شیخین پر عمل پیرا ہوئے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- البلاذری ۔فتوح البلدان ۔ص 36۔
(2):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد سوم ۔ص 108 طبع اول
(3):-الکامل فی التاریخ جلد دوم ۔ص 242-243
(4):- ابن ابی الحدید ۔شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص 184
(5):- الکامل فی التاریخ جلد ۔جلد سوم ۔ص 293